اقتدار کا سادہ الفاظ میں مطلب طاقت ہے۔اقتدار کو عام زبان میں لوگ ایک نشہ بھی سمجھتے ہیں جب یہ نشہ لگ جاتا ہے تو پوری زندگی یہ نشہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا ۔ طاقت جب انسان کو اقتدار کی وجہ یا کسی اچھی پوسٹ کی وجہ سے ملتی ہے تو وہ اس کا ہر اچھے اور برے کام کرنے میں استعمال کرتا ہے ۔یہ سب چیزیں عارضی ہوتی ہیں ۔ جو بھی اقتدار میں آتا ہے اسکو ایک دن لازمی ریٹائر ہونا ہے ۔جو سورج طلوع ہوتا ہے وہ لازمی غروب ہوتا ہے اور جو چاند رات کو نکلتا ہے وہ صبح سے پہلے غروب ہوتا ہے ۔یہ قدرت کا نظام ہے جس کے ذریعے سے وہ کائنات کو چلا رہا ہے ۔آپ تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں اقتدار ہمیشہ کسی کا نہیں ہوا ۔جو اقتدار میں آیا وہ ایک خاص وقت کے بعد اقتدار سے چلا گیا ۔لیکن کچھ لوگوں کا اچھے کاموں کی وجہ سے نام زندہ رہتا ہے ہمیشہ کیلئے اقتدار ان کے پاس بھی نہیں رہتا ہمیشہ وہ لوگ اچھے کاموں کی وجہ سے یاد رکہے جاتے ہیں جو اقتدار میں آنے کے بعد اپنے ملک اور اپنی قوم کی ترقی کے لئے کام کرتے ہیں اور دنیا میں اپنے ملک اور اپنی قوم کو ترقی یافتہ ملک اور قوم بناتے ہیں ۔وہ لوگ ہمیشہ کے لئے تاریخ کا سیاه باب بن جاتے ہیں جو اقتدار کو اپنی ذات کے لئے استعمال کرتے ہیں اپنے خاندان کو ترقی دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں اپنے ملک اور قوم کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچتے ۔
اب ایک شخصیت کا واقعہ یہاں پر بتانا چاہتا ہوں کچھ دن پہلے مجھے ایک بادشاہ کی ملکہ کے خیالات پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملکہ فرح دیبا تھی جو ایران کے سابقہ شاہ کی بیوی ہیں۔ یہ کسی امریکن صحافی کو انٹرویو دے رہی تھیں۔ یہ کوئی بہت ہی پرانا انٹرویو ہے۔ وہ کہتی ہیں میں جس محل میں رہتی تھی اس میں میرے 60 کے قریب ملازم تھے ۔یہ میرا ذاتی سٹاف تھا ۔یہ سب لوگ میرے اشاروں پر چلتے تھے ۔ان میں جرات نہیں تھی کے میرے حکم کا انکار کریں میں جو حکم دیتی وہ مانتے تھے ۔یہ باتیں کرتے وہ رونے لگی اور کہنے لگی اب میرے پاس صرف دو ملازم ہیں ۔ایک عورت میرے لئے کھانا بناتی ہے اور ایک میرا ڈرائیور ہے ۔میں اب بہت مشکل کسمپرسی اور غربت والی زندگی گزار رہی ہوں۔کبھی پیسے لوگوں سے ادھار بھی لینے پڑہتے ہیں۔یہ دونوں میاں بیوی 1979 میں ایرانی انقلاب کے وقت ملک سے فرار ہو گئے ۔ یہ مختلف ملکوں کی چوکھٹ پر دستک دیتے ان کو کوئی ملک بھی رہنے کے لئے پناہ نہیں دیتا تھا ۔سوئس بینکوں میں ان کا پیسہ ضبط کر لیا گیا ۔امریکہ نے بھی ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ان حالات میں وہ قاہرہ پہنچ گئے ۔اسی کسمپرسی میں شاہ کا انتقال ہوا ۔جس گھر میں وہ رہتے تھے وہیں اس کو دفن کر دیا گیا ۔شاہ کی وفات کے بعد فرح آزاد ہو کر امریکہ چلی گئی ۔اس وقت تک حالات نارمل ہو چکے تھے اس کے بعد امریکہ میں جلا وطنی کی زندگی گزارنا شر وع کر دی یہ ایسے ملک کے بادشاہ کی بیوی تھی جو ملک تیل کے ذخیرہ سے مالا مال تھا ۔جس کے خاوند کے اشارے پر سارا ملک چلتا تھا ۔ایک دفعہ شاہ نے ایران میں شہنشاہت کے اڑھائی ہزار سالہ جشن منانے کا فیصلہ کیا۔ شاہ کو بتایا گیا کہ ابھی اتنے سال نہیں ہوئے شہنشاہت کو ایران میں ۔شاہ نے حکم دیا کلینڈر کو آگے کر دیا جائے ۔حقیقت میں کلینڈر آگے کر دیا گیا تھا ۔شاہ نے ایک دفعہ اپنے وزیر سے پوچھا ٹائم کیا ہوا ہے اس نے بتایا کے 6 بجے ہیں شاہ صاحب کی اپنی گھڑی پر 5 بج رہے تھے۔ جب اس نے اپنی گھڑی کا ٹائم ٹھیک کرنا چاہا تو وزیر نے کہا ہم سب لوگ اپنا ٹائم ایک گھنٹہ پیچھے کر لیتے ہیں آپ رہنے دیں ٹائم ٹھیک کرنے کو ۔اس کے ایک آرڈر پر 44 ہزار امریکن کو سفارتکاروں کا درجہ ملا ۔اس نے حکم دیا اور ایران میں داڑھی رکھنے پر پابندی لگ گئی۔ یہ بادشاہ کی بادشاہی تھی اپنی قوم پر جب وہ ان پر مسلط تھا ۔اقتدار کے نشے میں وہ اتنا مگن تھا کہ جو بھی چاہتا تھا کر گزرتا تھا کیوں کہ کسی میں اتنی جرات نہیں تھی کے اس سے کوئی سوال پوچھ سکتا ۔آخر کار 71 سال کی عمر میں قاہرہ کے گھر میں انتقال کر گیا۔ کوئی ڈاکٹر بھی آخری وقت اس کے علاج کے لئے نہیں تھا ۔کاش شاہ کو کوئی بتانے والا ہوتا کے اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا ہمیشہ آپ کے اچھے کام بس لوگوں کے دل اور دماغ میں رہتے ہیں ۔اس دنیا میں اس شاہ اور ملکہ جیسے پتہ نہیں کتنے لوگ گزر چکے ہیں جو اپنے اقتدار اور اختیارات پر بہت زیادہ مان کرتے تھے جو سورج اور ہوا کو ٹھہر جانے کا حکم دیتے تھے پھر ایسے لوگوں کو اپنے ملک میں دفن ہونا بھی نصیب نہیں ہوا ۔
آخر میں اپنے حکمرانوں کو کہتا ہوں جو اقتدار شاہ ایران کا نہ بن سکا وہ آپکا بھی نہیں بنے گا۔ ہمیشہ ملک اور قوم کی ترقی کو اپنا فریضہ سمجھو ۔اگر آپ نے اپنے فرض کو اچھے طریقے سے سر انجام دیا تو یہ قوم آپ کو ہمیشہ یاد رکہے گی ورنہ اپکا حشر شاہ ایران سے مختلف نہیں ہو گا لوگ آپ کو ہمیشہ کے بھول جائے گے اگر یاد بھی کرے گے تو برے القابات سے آپ کو پکارے گے ۔اگر اللہ ہمیں اقتدار دے تو ہمیں اپنے ملک اور قوم کی ترقی کے لئے کام کرنے کی توفیق بھی دے ۔آمین

