0

اس معاملے پر میرا قلم بھی چاہتا ہے کے اسکی جگہ اب کمپیوٹر ماؤس لے لے۔ :‌ تحریر: علی بہادر

بحیثیت ایک استاد یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ انٹرمیڈیٹ پارٹ ون میں کارکردگی پارٹ ٹو کی نسبت خراب ہوتی ہے جسے سٹوڈنٹس پارٹ ٹو میں زیادہ محنت کر کے بہتر کرتے ہیں۔ پارٹ ٹو میں پریکٹیکلز امتحانات بھی اہم کردار ادا کرتے ہی جو رزلٹ کو بہتر بناتے ہیں۔ دوسرا ,اگر طلباء کی پروموشن ہی کرنی تھی تو قومی ٹیلی ویژن (PTV) پر ای سکول نہ بھی شروع کرتے تو بھی خیر ہی تھی۔ خوامخواہ بجٹ لگا دیا۔ اوپر سے ارتغرل غازی بھی آیا بیٹھا ہے PTVپر۔
اب جامعات کے لئے ایڈمیشن کرائیٹیریا بنانا ایک چیلنج ہے اور ساتھ ہی ساتھ آن لائن کلاسز کو جلد از جلد بحال کرنا بھی ضروری ہے۔ جس پر ملک بھر کی جامعات میں ایچ ای سی کے بنائے قوانین کے مطابق اقدامات جاری ہیں جہاں طلباء کو اساتذہ آن لائن پڑھائیں گے۔ یہ ایک جدید سسٹم ہوگا جسے LMS یعنی لرننگ مینجمنٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ جدید سسٹم ایک طرح کا ورچوئل کلاس روم ہو گا جہاں اساتذہ اور طلبا رجسٹرڈ ہو کر تدریسی عمل کو جاری رکھیں گے۔
اب یہاں سوالیہ نشان ہے سیکینڈری اور ہائر سکینڈری ایجوکیشن بورڈز پر۔ کیا انکے پاس سٹوڈنٹس کو بغیر امتحان کے پروموٹ کرنے کے علاوہ امتحانات منعقد کروانے کے لئے کوئی جامع حکمت عملی نہیں ہے؟ اگر ایچ ای سی آن لائن سسٹم متعارف کروا سکتی ہے تو تعلیمی بورڈز کیوں نہیں؟ یہ دوسرا سوال ہے۔ اور کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ امتحانات کو ملتوی کر کے حالات ٹھیک ہونے پر منعقد کروایا جاتا؟ اور اس بات کی وضاحت بھی درکار ہے کہ اگر اسکولوں میں پروموشن ہو سکتی ہے تو جامعات میں سمسٹر سسٹم والے سٹوڈنٹس کو اگلے سمسٹر میں کیوں پروموٹ نہیں کر دیا جاتا؟
یہاں امتحان سے میری مراد صرف پرچے دینا نہیں بلکہ امتحان عملی بھی ہو سکتا ہے، اسائنمنٹ بھی ہو سکتی ہے، تخلیقی پراجیکٹ بھی ہو سکتا ہے۔ کیا پرچے لے لینا ہی امتحان ہے؟ اگر نہیں تو کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ سٹوڈنٹس کو پروموٹ کرنے سے پہلے کوئی ایسا امتحان منعقد کر کے سٹوڈنٹس کو انکی تخلیقی قابلیت کی بنیاد پر اگلی جماعت میں بھیجا جاتا؟ کچھ نہیں تو میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طلباء کو اسکول و کالج کی حد تک کوئی اسائنمنٹ دے دی جائے ورنہ ایک دم سے ان کے لئے یونیورسٹی آ کر پڑھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ مختصراً سٹوڈنٹس کو ایک Academic Processسے ضرور گزارا جائے۔
میری ذاتی رائے کے مطابق طلباء کو روائیتی امتحان کے بجائے تخلیقی امتحان کے عمل سے گزارا جائے جس میں اساتذہ آن لائن ذرائع سے طلباء کی رہنمائی کریں اور انکو لکھنے پڑھنے سے متعلق اسائنمنٹ دیں جس کی بنیاد پر انہیں اگلی کلاس یا سمسٹر میں پروموٹ کیا جائے۔ اس سے کافی حد تک تعلیمی نقصان کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات تو ماننی پڑے گی کہ کرونا کی وبا کے بعد پوری دنیا میں اب کاروبار اور تعلیم سمیت زندگی کے ہر شعبہ میں بڑی تبدیلی آئے گی جس کے لئے ہمیں ذہنی اور تکنیکی طور پر تیار رہنا ہو گا۔ اس ضمن میں حالات کو دیکھتے ہوئے آن لائن طریقوں سے تعلیم و تربیت کا عمل جاری رکھنا ہوگا اور امتحانات کو ایک نئی شکل دینی ہوگی۔
قارئین! جدید دور کیلیے جدید تعلیم، جدید سوچ، جدید حکمت عملی اور روشن خیال طبقے کی ضرورت ہے۔ ورنہ متاثرین ہم ہی کہلاتے رہیں گے۔
تو میری تمام اہل علم دوستوں سے بھی گزارش ہے کے ہر حل کے لئے مسئلے نکالنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی جگہ پر کوشش جاری رکھیں اور جتنا ہو سکتا ہے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کریں۔
شعبہ تدریس سے وابستہ ہر دوست کے لئے میری طرف سے نیک تمنائیں۔۔۔۔ ا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں