اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے خواتین کو بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ چاہے وہ قانونی ہوں، معاشی ہوں یا سیاسی ۔غرض اسلام نے ان تمام حقوق کا احاطہ کیا ہے۔ پھر چاہے زندگی کا حق ، عزت کا تحفظ یا جائیداد ، باپ شوہر اور بیٹے کی طرف سے مکمل کفالت کا حکم ہے۔
اسی طرح اسلام شادی میں بھی لڑکی کی رضامندی کو اہمیت دیتا ہے۔ اور پھر مہر کی ادائیگی اور ناچاقی کی صورت میں علیحدگی یا خلع کا حق بھی دیتا ہے۔ شوہر سے علیحدگی کی صورت میں بچوں کے اخراجات کا حق اور بیوہ ہونے کی صورت میں دوسری شادی کی اجازت ، آزادی رائے، آزادی عبادات کا حق بھی اسلام میں عورت کو حاصل ہے۔
حق وراثت کے حوالے سے مختلف ممالک میں مختلف طریقے رائج تھے ۔ کہیں جائیداد ریاست کی ملکیت بن جاتی تھی تو کہیں مشترکہ خاندانی جائیداد کا نظام تو کہیں ساری جائیداد سب سے بڑ ےبیٹے کو دینے کا قانون تھا۔ اس کے برعکس اسلام مر د عورت دونوں کا وراثت میں حق تسلم کرتے ہوئے عورت کو بھی جائیداد میں حصہ دار ٹھہراتا ہے۔ یعنی مرداور عورت اپنے ورثاء کےلئے مال چھوڑ سکتے ہیں۔ اور ان کی تقسیم قرآن و سنت کی روشنی میں اور وہ دونوں اپنے اقراباء کی وراثت سے حصہ پانے کے حق دار ہیں۔
جس طرح مختلف رشتہ داروں کےلئے وراثت میں حصوں کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں اسی طرح خاندانی نظام اور معاشرے میں ذمہ داریوں کی تفویض کے حوالے سے عورت کےلئے وراثت کا حصہ بھی مردو ں سے مختلف ہے۔
قرآن و حدیث میں وراثت کے بنیادی احکام سورۃ انساء کی آیات 7تا14میں دیےے گئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’مردوں کےلئے اس مال میں حصہ ہے جو ماں، باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑ ا ہو اور عورتوں کےلئے بھی ا س مال میں حصہ ہےخواہ تھوڑا ہو یا بہت۔‘‘
اس آیت میں میت کے چھوڑے ہوئے مال کو قابل تقسیم قرار دیا ۔ اس میں منقولہ غیر منقولہ ، زراعی آبائی کی کوئی تفریق نہیں ۔ ان احکامات کو احادیث کی حدود قرار دیا اور ان کی اطاعت پر جنت کی خوشخبری بھی دی گئی ۔ اس آیت مبارکہ کی روشنی میں عورتوں کے حق وراثت کی ادائیگی انتہائی اہم معاملہ ہے مگر ہمارے معاشرے میں جہالت ، اسلامی احکام سے عدم واقفیت ، جاگیردارانہ ذہنیت اور ہندو مذہب کے اثرات کی بناء پر خواتین کی حق تلفی ایک عمومی رویہ ہے۔ شریعت اسلامی میں عورت مختلف حیثیتوں میں وراثت کی حق دار ہے ۔ رشتوں کے حصوں جو کا تناسب قرآن پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طے کر دیا اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن ہمارے معاشرے میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے کافی غلط رویے پائے جاتے ہیں۔ اکثر والدین سے جہیز کو وراثت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ گاؤں دیہات میں وراثت کی تقسیم سے بچنے کےلئے لڑکیوں کی شادی قرآن سے کروادیتے ہیں یا حق معاف کر وا لیتے ہیں اور اس کی آڑ میں حق ترکے سے محروم کر دیتے ہیں۔ یہ جہالت ظلم اور شریعت سے مذاق کے مترادف ہے۔

