آج کا ہمارا موضوع ہے ‘بینکنگ’
جس کے متعلق روز کئی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ جس میں سود ، شریعہ اور ایسی بہت سی چیزیں شامل ہیں جن کا جواب عوام جاننا چاہتی ہے۔ اسفند زبیر کیونکہ پچھلے دس سال سے عسکری بینک میں اہم عہدے پر فائز ہیں اس لیے ہم ان سے اسلامک بینکنگ کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوال : جی اسفند زبیر صاحب ! سب سے پہلے آپ یہ بتائیے کہ اسلامک بینکنگ کیا ہے ؟
جواب : اسلامک بینکاری ایسی بینکاری کا نام ہے جو سود اور ایسے بہت سے شرعی معاملات جن پر شریعت نے پابندی لگائی ہے اس سے مکمل پاک ہوتی ہے۔
سوال: پاکستان میں جتنے اسلامی بینک کام کر رہے ہیں کیا وہ شریعت کے مطابق کام کر رہے ہیں ؟
جواب : جی ہاں ! پاکستان میں جتنے اسلامی بینک کام کر رہے وہ شرعی اصولوں کے مطابق کر رہے ہیں۔ ان کے اوپر ایک بااختیار ‘شرعی ایڈوائز بورڈ’ موجود ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ان کا ‘شرعی اڈٹ’ بھی ہوتا ہے۔ سٹیٹ بینک کا ‘اسلامک بینکنگ ڈیپارٹمنٹ’ ہے جو ان کے معاملات دیکھتا ہے اور سٹیٹ بینک کا اپنا ‘شریعہ بورڈ’ بھی موجود ہے جس میں ہر فقہ سے تعلق رکھنے والے علماء موجود ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ تمام اسلامی بینک شریعت کے مطابق چلیں۔
سوال : اسلامک بینکنگ میں سود کی کیا حیثیت ہے؟
جواب: اسلامی بینک کسی کو قرض نہیں دیتا۔ بلکہ شریعت کے مطابق ‘ٹرانسیکشن’ کرتا ہے۔ یعنی جب کوئی کسٹمر بینک کے پاس جاتا ہے تو بینک اسے قرض دینے کے بجائے کوئی چیز خرید کر اس کو فائدے میں بیچتا ہے۔ یعنی قسطوں پہ بیچتا ہے جو بالکل جائز ہے۔ سورة بقرہ کی آیت میں اس کا زکر موجود ہے۔ جس کا ترجمہ ہے ‘میں نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے’۔
لہذا اسلامی بینک کسی کو قرض نہیں دیتا بلکہ فائدے اور نقصان کی بنیاد پر تجارت کرتا ہے یا پھر کسٹمر کو بزنس میں پارٹنر بنا دیتا ہے اور اگر خدانخواستہ نقصان ہو تو اس کا اپنا پیسہ بھی ڈوب جاتا ہے۔
سوال : اسلامک بینک اور عام بینک میں کیا فرق ہے؟
جواب : بڑا فرق یہ ہے کہ اسلامک بینک میں سود پر کام بالکل نہیں کیا جاتا جبکہ باقی کمرشل بینک میں مکمل سود پر کام کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اسلامک بینک قرض نہیں دیتا اور جائز منافع رکھتا ہے جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہے۔
سوال : پاکستان اسلامی ریاست ہے یہاں ابھی تک اسلامی بینکاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : اسلامک بینکاری نہ ہونے کے برابر تو نہیں کہی جا سکتی۔ سٹیٹ بینک کے سروے کے مطابق تقریبآ پندرہ فیصد اسلامک بینکاری کے ذریعے ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ تمام بینکوں کی اسلامک بینکاری کے نام سے ایک علیحدہ برانچ کام کرتی ہے۔
سوال : کہتے ہیں اسلامک بینک نام کی ہی اسلامک بینکاری کرتے ہیں۔ وہ بھی سودی اصولوں پر کام کرتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو وہ کیسے اسلامک بینک کہلائے جا سکتے ہیں؟
جواب : نہیں ! ایسا بالکل نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں اسلامی بینکاری شریعت کے اصولوں کے مطابق ہو رہی ہے۔ اس کے اوپر مکمل چیک رکھا جاتا ہے۔ سٹیٹ بینک کی شریعہ برانچ اور علماء کرام اس بات کو یقینی بناتے ہیں۔

