ڈاکٹر ، پولیس ،اور افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ ریسکیواہلکار ان بھی نہایت اہم خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ کورونا وائرس کے پھیلتے ہی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی جہاں ڈاکٹرز نے اہم خدمات سر انجام دی وہیں ریسکیو اہلکاران نے فرنٹ لائن پر کام کیا یہ وہ اہلکار ہیں جو کہ اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر کورونا کے پوزیٹو مریضوں کو ہسپتال تک پہنچاتے ہیں۔اور اگر کوئی کورونا سے متاثرہ مریض انتقال کر جائے اسکی تدفین ریسکیو ہی کرتی ہے زلزلہ ہو یا آندھی طوفان ہو یا سیلاب ، کوئی بمب پھٹے یا آسمانی بجلی گرے ریسکیو اہلکار بروقت اپنے ہم وطنوں کی حفاظت کے لیے پہنچتے ہیں انھوں نے ہر میدان میں ثابت کیا کہ یہ کسی سے کم نہیں ۔ گورنمنٹ کی جانب سے کووڈ 19 میں کام کرنے والوں میں صرف پولیس ، رینجرز ،آرمی اور ڈاکٹر زکو داد دی جاتی ہے لیکن ریسکیو اہلکاران کو داد نہیں دی جاتی جو اصل میں اس کی حقدار ہے انکی حوصلہ افزائی نہیں کی جا رہی۔اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اپنے ہم وطنوں کی زندگی کو یقینی بنانے کے لیے یہ سپاہی دن،رات خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔یہ ایک بہادر قوم کے بہادر سپاہی ہیں جو سخت حالات کا مقابلہ کرنا بخوبی جانتے ہیں ۔یہ قوم ان بہادر سپاہیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
0

