0

احتیاط ضروری ہے : تحریر : کامران مرتضی

یہ تو سب جانتے ہیں کہ اچھی صحت ہماری زندگی میں کتنی اہمیت کی حامل ہے۔ اور اچھی صحت حاصل کرنے کے لیے اچھا کھانا کھانا بھی بہت ضروری ہے۔ اچھی خوراک طویل زندگی کے لیے ایک لازمی ضرورت ہے۔ آج کی دنیا میں ہر کوئی فاسٹ فوڈ کھانے پر مجبور ہے۔ زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ لوگوں کے پاس وقت نہیں کہ وہ وہ اچھا کھانا کھا سکیں اسی لیے زیادہ تر لوگ فاسٹ فوڈ کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
فاسٹ فوڈ ہوتا کیا ہے؟ فاسٹ فوڈ میں پیزا برگر شوارما اور بیکری کی ایسی چیزیں آجاتی ہے جو بہت جلد تیار ہو جاتی ہیں۔ جتنی یہ اشیاء دیکھنے میں دلکش اور کھانے میں بہت مزیدار ہوتی ہیں ،ہماری صحت کے لیے اتنی ہی نقصان دہ ہیں۔
کھلے آسمان کے نیچے بننے والی اشیاء مثلاً چپس، پکوڑے ،سموسے اوردیگراشیاء بھی صحت کو اتنا ہی نقصان پہنچاتیے ہے پھر بھی لوگ ان کو کھانے میں ترجیح دیتے ہیں۔
یہ سب معلومات ہونے کے بعد بھی بہت سے لوگ انہی کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ بہت سارے لوگ وہ ہیں جو دفاتر میں کام کرتے ہیں اور اپنا اچھا کھانا کھانے کا انتظام نہیں کر سکتے تو مجبوراً انہیں ان کا سہارا لینا پڑتا ہے۔کیونکہ اُن کے پاس اچھی خوراک کا انتظام کرنے کا وقت نہیں ہوتا ۔اس کی ایک اور بھی وجہ ہے کہ زیادہ تر ممالک میں تعداد نوجوان آبادی کی ہے لہذا وه فاسٹ فوڈ پر زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں ۔فاسٹ فوڈ کلچر سب سے پہلے 1950 کی دہائی میں امریکہ میں مقبول ہوا۔ پاکستان میں فاسٹ فوڈ کا کلچر بہت پھیل چکا ہے۔ ہر کوئی فاسٹ فوڈ کھانے کو ترجیح دیتا ہے۔ پاکستان میں صحت و صفائی کا خیال بھی اس معیار کا نہیں جیسا کہ دوسرے ممالک میں ہے تو دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سارے لوگ غیر معیاری اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جس سے صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔
پاکستان میں کھانے پینے کے کاروبار سے منسلک کمپنیوں کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں فل ڈیلوری سروس ریسٹوران،روایيتی فوڈ ریسٹوران،فاسٹ فوڈ ریسٹوران،ڈھابے، ٹھیلے اور خورونوش کے اسٹورز شامل ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پر کھانے پینے کے لوگ دیوانے ہیں۔چاہے وہ پھجے کے پائے ہوں یا نہاری، لسی، دمبا کڑھائی، چپلی کباب ہو ہو یا چرسی تکہ۔ پاکستان میں مغربی طرز کا کھانا تیزی سے مقبول ہو رہا ہے ۔فاسٹ فوڈ کی زیادہ تر شاخیں نوے کی دھائی میں قائم کی گئیں۔لیکن اب یہ پورے ملک میں پھیل چکی ہیں ۔
فاسٹ فوڈ کے کچھ بین الاقوامی ریستوران جو کامیابی کے ساتھ پاکستان میں چل رہے ہیں ،باقائدگی کے ساتھ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر پروموشن کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں کیوں کہ وه اس کو کاروبار سمجھتے ہیں اور عوام کی صحت سے ان کو کوئی غرض نہیں ہے۔
آج سے تقریبا تیس چالیس سال قبل جب ہمارے ملک میں فاسٹ فوڈ کلچر نہیں تھا تو لوگ گھروں کا پکا ہوا کھانا ہی کھاتے تھے تب لوگ صحت مند بھی تھے اور طرح طرح کی بیماریاں بھی نہیں تھیں۔ بہت کم لوگ ہی دل کے عارضے، بلڈ پریشر اورکولسٹر و ل کے مریض تھے لیکن جیسے جیسے فاسٹ فوڈ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے طرح طرح کی بیماریاں كثرت سے جنم لے رہی ہیں ۔اب تو بیس پچیس سال نوجوان بھی ان بیماریو ں کا شکار ہو رہے ہیں جو عموما ساٹھ ستر سال والوں کو ہوتی تھیں ۔غذائ قلت، قلبی عا ر ضہ، موٹاپا ،پٹھو ں اور گردوں کی بیماریا ں، جنسی بے کار گی ،دمہ و امراض جگر و غیرہ فاسٹ فوڈ اور غیرمعیاری کھانے نے کے مستقل استعمال سے جنم لیتے ہیں ۔اور لوگ ان سب کے مضر اثرات کے انجام سے بے خبر با قائد گی سے انکا استعمال کر رہے ہیں ۔فاسٹ فوڈ اور غیر معیاری ہوٹلوں کے کھانے اور مصنوعا ت استعمال کرنے والے ایسے لوگوں میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں شعور پیدا کرنے کے لیے دانشوروں، ڈاکٹروں اور میڈیا کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ہمیں خود اپنے طور پر بھی گھر کی بنی ہوئی اشیا کو ترجیح دینی چا ہیے تاکہ ہم صحت مند اور طویل زندگی گزار سکیں۔


تحریر : کامران مرتضی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں