اب یوں لگتا ہے کہ حکومت کیس بڑھنے کا اعتراف بھی کرتی رہے گی ، صورتحال مزید خراب ہو جانے سے خبردار بھی کرے گی لیکن ساتھ ہی پابندیوں کو نرم بھی کرتی رہے گی۔ اس وقت حکومت کے پاس بظاہر اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں کہ وہ معمول کی زندگی کی طرف سفر جاری رکھے۔
ہمارے سمجھنے کا کام یہ ہے کہ حکومت نے جو کرنا تھا کر دیا۔ جو پیسے دے سکتے تھے دے چکے۔ اب انہوں نے لاک ڈاؤن کا رہا سہا تکلف ختم کرنا ہے لیکن بیماری بھی موجود ہے اور اس سے منسلک خطرات بھی۔ اب جو کرنا ہے عوام کو کرنا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ کو کم سے کم کیا جاسکے۔ اس سلسلہ میں ذمہ داری اب ہم پر ہے کیونکہ صحت بھی ہماری ہی داؤ پر ہے۔
اس تناظر میں چند حفاظتی تدابیر اب اور بھی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ ان میں کچھ نیا نہیں، ہم ان سب سے پہلے بھی واقف ہیں ۔۔۔ نیا صرف یہ ہو گا کہ اب ہم ان پر سچ میں عمل بھی شروع کر دیں۔ مثلاً :
1۔ گھر سے باہر نکلنے سے لے کر گھر واپسی تک چہرہ کو ماسک سے ڈھانپ کر رکھیں۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ اگر کرونا کا مشتبہ مریض یا کیرئیر اور کرونا سے تاحال محفوظ اشخاص اگر ماسک پہنے ہوں گے تو کرونا وائرس کے منتقلی کے امکانات کافی کم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہر شخص کو ماسک کی پابندی کرنا لازم ہے۔ وبا کے اوائل میں جیسے راشن تقسیم کی گیا ہے اب ماسک تقسیم کرنے اور اس کی پابندی کا وقت ہے۔
2۔ دوسری اہم ترین چیز یہ ہے کہ بھیڑ جسی کسی بھی صورتحال سے گریز کریں۔ بھیڑ کا مطلب لازما کوئی جم غفیر نہیں ہے۔ اس سے مراد کوئی بھی ایسی جگہ یا صورتحال ہے جہاں کم جگہ میں زیادہ لوگ نسبتاً طویل دورانیہ کے لیے اکٹھے ہو سکتے ہوں۔ جیسا کہ بینک، مارکیٹ، مسجد وغیرہ۔ زرا سےحوصلے اور ڈسپلن سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ وہاں موجودگی کے دوران آپس میں مناسب فاصلہ رکھا جائے اور وہاں داخل ہوتے یا یا وہاں سے نکلتے وقت کھوے سے کھوا چھلنے کا ماحول نہ بنے۔ یہ بات کوئی ہمیں سمجھانے نہیں آئے گا۔ یہ ہمیں خود کو آپ ہی سمجھانا ہے اور اس پر عمل کرنے پر آمادہ بھی کرنا ہے۔ بھیڑ بھاڑ کرونا یا کسی بھی infectious disease کے لیے لاٹری نکلنے کے مترادف ہے۔ اپنی جان کی قیمت پر کرونا کی عیش مت کروائیں۔
3۔ دن میں متعدد مرتبہ ہاتھ دھونا معمول بنائیں۔ عام صابن سے دھونا کافی رہے گا۔ وہ بھی میسر نہیں تو صاف پانی سے انہیں اچھی طرح دھو لیں، لیکن دھوئیں ضرور۔ اس میں سستی نہ کریں۔
آخری بات یہ کہ اللہ تعالی سے دعاگو رہیں کہ اگر پھر بھی انفیکشن ہو کر ہی رہنا ہے تو آپ کو، آپ کے پیاروں کو، اور سب ہی کو بغیر علامت والا انفیکشن ہو۔ کسی مصیبت میں پڑے بغیر ہی امیونٹی مل جائے۔ آپس کی بات ہے، حکومت بھی شاید یہی سوچ کر بیٹھی ہے ! 🙂
آخر میں یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ “جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی”

