کرونا وائرس نے آج پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔زندگی مفلوج ہو کے رہ گئی ہے۔اس وبا نے نہ امیر کو بخشا نہ ہی غریب کو ۔ذرا سی لاپروائی لاکھوں جانیں نگل چکی ہے ۔
خراب ہو تے ہوئے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جہاں سارے کاروبار بند کر دیے گئے، وہیں تمام تعلیمی ادارے بھی31 مئی تک بند کر دیے گئے ۔
HEC کے اعلان کے مطابق طالب علموں کا سال ضائع نہ ہو، اس لیے آن لائن کلاسز کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایک طرح سے سوچا جائے تو یہ اچھی بات ہے کہ تعلیمی سال ضائع نہیں ہو گا ۔مگر ہمارے ملک میں ابھی بھی ایسے علاقے ،گاؤں، اور دیہات ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولہت موجود نہیں ہے ۔گاؤں تو گاؤں، اکثر شہروں میں بھی انٹرنیٹ کی سہولہت تو موجود ہے مگر وقت بے وقت کی لوڈشیڈنگ کے باعث آن لائن کلاسز وقت پر لینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔
زوم ان جیسے سسٹم ، لیکچرز اور نوٹس کے لیے بھی انٹرنیٹ جیسی سہولت درکار ہوتی ہے جو آج اکیسویں صدی میں بھی دوردراز علاقوں میں موجود نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے بہت سے طلباء کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ایسے میں طلباء کو اپنے پورے کیرئیر میں بہت نقصان اٹھانا پڑے گا ۔
HEC کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی داد دیے بغیر رہا جا سکتا ہے ۔ مگر اس پروگرام سے کچھ طلباء کا مستقبل تو محفوظ بنایا جا سکتا ہے، لیکن اکثر طالبعلم ایسے ہیں جن کے لیے یہ پروگرام نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔لہذا کوئی ایسی تکنیک نکالی جائے جس سے ہر طالبِ علم مستفید ہو سکے ۔

