لاہور:: لاہور، ملتان سمیت پنجاب کئی شہروں کے بیشتر سرکاری سکولوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، سکول کے اندر اساتذہ اور طلبہ نے ماسک پہننا چھوڑ دیا، سماجی فاصلہ کی ہدایات بھی ہوا ہوگئیں۔
لاہور میں سکول تو کھل گئے، مگر ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے، بیشتر سرکاری سکولوں میں اساتذہ اور طلبا نے ماسک پہننا چھوڑدیا، سرکاری سکولوں میں سماجی فاصلے کے لیے لگائے گئے نشانات بھی غائب ہوگئے۔ سرکاری سکولوں کے سربراہ بھی ایس او پیز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
ملتان کے سرکاری تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دیں گئیں، اساتذہ اور طالب علموں کی اکثریت نے ماسک پہننا چھوڑ دیا، سکولوں سے سینیٹائزر بھی غائب کر دیا گیا، سرکاری تعلیمی اداروں میں سماجی فاصلے کا بھی خیال نہیں رکھا جا رہا، ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے سے کورونا پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا۔
بہاولنگر میں حکومتی اعلان کے مطابق تعلیمی ادارے کھل گئے، مگر دیہی علاقوں میں سکولز انتظامیہ ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے میں ناکام دیکھائی دے رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں سکولز میں طلباء کی حاضری کم، سماجی فاصلوں کا خیال نہیں رکھا جا رہا، طلباء بغیر ماسک لگائے کالج میں داخل ہو رہے ہیں۔
پیرمحل میں سکولز میں کورونا ایس او پیز کو ہوا میں اڑا دیا گیا، کلاس رومز میں سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا جا رہا، متعدد سکولز میں ٹمپریچر چیک کیا جارہا نہ ہی کا استعمال کیا جارہا ہے۔
اسی طرح منچن آباد میں کورونا ایس او پیز کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا، گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول میں اساتذہ کی جانب سے ماسک کا استعمال نہیں کیا جا رہا، کلاس روم میں سماجی فاصلے کا بھی خیال نہیں رکھا جا رہا۔
جھنگ کے سکولوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات صرف کاغذی کاروائی کی حد تک محدود ہیں، سرکاری سکولوں میں ماسک کا خیال رکھا جا رہا ہے اور نہ ہی سکولوں میں سنیٹائرز استعمال کیا جا رہا ہے، طالب علموں کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی بغیر سکول میں آ رہے ہیں۔

