0

یہ کس کا خون بہا ہے، کون مرا ہے :: تحریر: مصعب منظور

جموں وکشمیر کی عوام 1947 سے ہی بھارتی ظلم و بربریت کا شکار ہے۔ قتل و غارت لوٹ مار عصمت دری کے سارے ہتھکنڈے اپنا کر بھارت نے تمام حدیں پار کی ہوئی ہیں ۔ جون 2016 سے یعنی برہان وانی کی شہادت کے بعد سے بھارت کی ہٹ دھرمی میں مزید سو گنا اضافہ ہوا ہے روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے عقوبت خانوں میں نظر بند کیا جاتا ہے۔ اگست 2019 کے یکطرفہ فیصلے کے بعد ہزاروں مرد و زن کی گرفتاریاں ہوئیں جن میں سے تقریبا دو ہزار لوگ ابھی بھی کشمیر اور بھارت کے مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

رواں برس میں بھارتی درندہ صفت افوج نے اب تک تقریبا ڈیڑھ سو نوجوانوں کو شہید کردیا ہے۔ صرف جون کے مہینے میں 43 شہادتیں واقع ہوئی ہیں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں خوف و ہراس کا عالم ہے اور لوگ علاج و معالجہ ؛ مالی مسائل سے نمٹ رہے ہیں؛ غریب لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے وہیں مقبوضہ کشمیر میں بدترین قسم کا لاک ڈاؤن ہنوز جاری ہے ساتھ ہی ساتھ بھارتی فوج نے آپریشن آؤٹ کو نافذ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک دوران کرونا وائرس تقریبا 70 نوجوانوں کو شہید کیا گیا ہے بھارت جو جمہوریت کا علمبردار بنا پھرتا ہے اسی اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

عالمی برادری کو چاہیے کہ کشمیر کا جائزہ لیں جہاں ایک چار سالہ بچہ اپنے والدین کے ہمراہ بازار کی طرف نکلتا ہے تو واپس بچے کا تابوت گھر پہنچتا ہے اور جہاں ایک نانا اپنے تین سالہ نواسے کے ہمراہ نکلتا ہے تو واپس نانا کی لاش پہنچتی ہے۔

بھارت نہ صرف قتل و غارت گری کا ماحول گرم کیے ہوئے ہے بلکہ اسرائیلی طرز پر غیر ریاستی باشندگان کے لئے بستیاں قائم کرنا چاہ رہا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف مسلم اکثریت والے آبادی تناسب میں تغیر ہے یا یوں کہہ لیں سيٹلر کولونیل ایجنڈے کے تحت ڈیموگرافی تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ کشمیریوں سے ان کا حق خود ارادیت بھی چھینا جائے ان سے ان کا مال انکی جائدادیں چھین لی جا ئیں؛ غرض جینے کا حق چھینا جائے۔

غیر ریاستی باشندوں کو ڈومیسائل دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں ابھی 25 ہزار غیر ریاستی باشندوں کو کشمیری ڈومیسائل ملا ہے جس کی بنیاد پر وہ کشمیر میں زمین بھی خرید سکتے ہیں اور نوکریاں بھی حاصل کر سکتے ہیں،

تمام مسلمان ممالک اور مسلم اورگنائزیشن اس کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دیں اور ان کی بھرپور حمایت کریں اور ساتھ ساتھ بھارت کے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کی مذمت ہر فورم اور پلیٹ فارم پر کی جائے۔

اگر بھارت کو ابھی روکا نہ گیا تو وہ آئندہ غیر ریاستی باشندگان کی بستیوں کی بستیاں آباد کرنے جارہا ہے جو مسئلہ کشمیر کو sabotage کرنے کا حتمی اور کارگر حربہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں