” جاہل اور پڑھے لکھے برابر نہیں ہو سکتے ،”قرآن پاک نے بڑے واضح الفاظ میں آج سے 14 سو سال پہلے فرما دیا تھا، مگر ایک ہم ہیں کہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں ۔
میرے نزدیک برصغیر کے مختلف ممالک کی ان پڑھ اور غریب عوام کے لیے مغربی ڈیموکرسی مکمل فیل طریقہ گورنمنٹ ہے۔جس کے مطابق ایک ان پڑھ شخص جو جدید دنیا کے تقاضوں سے بے خبر ہوتا ہے۔اور ایک پی۔ایچ۔ڈی ڈاکٹر دونوں کی ووٹ کی ایک ہی قیمت ہے ۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ان پڑھ اور پڑھا لکھا ایک جیسیAnalyticalصلاحیت رکھ سکتے ہیں ۔ہمارے پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہماری ایک کثیر تعداد ان پڑھ ہے۔ وہان کیسے ممکن ہے کہ عوام مغربی ڈیموکریسی کو استعمال کر کے ایک باصلاحیت حکمران منتخب کر سکتے۔
ہماری جاہلیت کا عالم یہ ہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے مولانا فضل الرحمان ایک ایسی قوم کو لے کر اسلام آباد ا کر درنا دے بیٹھے، جو ایک صاحبے ایمان ہمارے وزیراعظم عمران خان کو یہودی سمجھ کر جہاد کا ثواب کمانے اسلام آباد پہنچے۔ان کو اتنا مذہبی جنونی بنا دیا گیا تھا کہ وہ دنیا سے بے خبر اور اپنی سوچنے کی صلاحیتوں کو کسی زندان میں ڈال کر مولانا کی پروی کرنے کو تیار تھے۔
بحثیت اسلامی ریاست ہمیں اسلامی ڈیموکرسی کو اپنانا ہو گاجس کے مطابق پہلے ایک سلطنت کے لیے ہر قبیلے کے معتبر شخصیات اکٹھا ہو کر اپنا امیر منتخب کرتے ہیں اور دنیا نے دیکھا کہ اسلامی سلطنتوں نے نہ صرف دنیا فتح کی، بلکہ ساہنس میں بھی اپنا لوہا منوایا۔کیونکہ ہمارا اکثر پڑھا لکھا لبرل طبقہ اسلام کا نام سننے کے بعد حساس کمتری کا شکار ہو جاتا اس لیے میں یہاں امریکہ کی ڈیموکرسی کی مثال دوں گا ۔
جہاں پہلے تمام پارٹی کے الیکشن ہوتے ۔پھر دو بڑی پارٹی مل کر ملک کے وزیراعظم اور صدر کے لیے الیکشن میں حصہ لیتی اور ایک قابل اور معملا فہم حکمران کا منتخب کرتے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اج دنیا میں امریکہ سپر پاور کے طور پر مانا جاتا ہے۔
جبکہ ہمارے پاکستان جیسے جمہوری ملک میں پچاس سے زیادہ پارٹیاں الیکشن میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ کئی آزاد امیدوار بھی کھڑے رہتے۔اس طرح ایک مختلف مطلب پرست لیڈر جو ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دے دیتے اس ملک پر قبضہ جماع ہو جاتے۔

