پوری دنیا میں نئے سال کا آغاز جشن اور جوش و خروش سے کیا جاتا ہے۔ لیکن سال2020کا آغاز میں ہی ایک وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چین سے پھوٹنے والی یہ وباء پوری دنیا میں پھیل گئی۔ کسی نے یہ سوچا تھا کہ یہ کورونا وائرس پوری دنیا کو اتنی جلدی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اب پوری دنیا کی توجہ صرف ایک لفظ”کورونا‘‘ پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔
انسانی آنکھ سے دکھائی نہ دینے والے وائرس سے پوری دنیا خوف زدہ ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک نے اس کے سدّ باب کےلئے طرح طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔ جیسے لاک ڈاؤن، کرفیو وغیرہ ۔ لاک ڈاؤن کا اطلاق کرکے لوگوں کو گھروں میں ہی محدود کر دیا گیا ہے۔ گویا لاک ڈاؤن قید تنہائی کی ایک قسم ہے۔ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کا یہ ہی ایک طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ کورونا وائرس سے بچنے کےلئے ابتدائی طبی امداد سماجی دوری، ماسک چہرہ نہ چھونا وغیرہ شامل ہیں۔
ان سب احتیاط کے باوجود کئی ارب لوگ ذہنی دباو کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب ہر شخص یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا وہ بھی اس موذی مرض کا شکارتو نہیں؟لوگوں کی ذہنی کیفیت بد ل رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا بھی یہ کہنا ہے کہ دنیا نے جو حفاظتی تدابیر یا قرنطینہ جیسے اقدامات کیے ہیں ان سے لوگوں کی ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ وباء سے پیدا شدہ ذہنی دباو سے جو لوگ اس مرض میں مبتلا نہیں ہیں وہ بھی خوف زدہ ہیں۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سے لوگ کھانے پینے کی اشیاء نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں ان میں ایسے سفید پوش لوگ بھی ہیں جو ہاتھ پھیلانا گوارہ نہیں کرتے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں اور دہاڑی دار ہیں روز کمانے اور روز کھاتے ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن نے ان کو گھروں میں بند کر دیا جس کی وجہ سے لوگوں میں غصہ اور ڈپریشن بڑھ رہا ہے۔ ہر طرف لوگوں سے ہاتھ ملانے ، گلے ملنے حتیٰ کہ بات کرنے سے بھی کترا رہے ہیں۔انسان خود اپنا ہاتھ منہ تک لے جانے، آنکھ ، ناک ، چہرہ چھونے سے ڈر رہا ہے۔ اللہ کے گھر سے لے کر مساجد ، مدارس ، اجتماعات ، محافل ،پارک سب لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہیںَ گھروں میں بند لوگ پریشان ہیںَ اسی وجہ سے گھروں میں لڑائی جھگڑے ، طلاق اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگ خود کو غیر مطمئن ، بے چین ، چڑاچڑا ، بے سکون اور بوریت کا شکار محسوس کر رہے ہیں اور اس سب کا اثر بچوں کے ذہن پر بھی ہو رہا ہے۔
پاکستانی ماہرین نفیسات اس صورت حال کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیںَ تنہائی ، جسمانی فاصلہ ، اسکولز ، دفاتر ، دوکانیں ، کاروبار سب بند ہونے کی وجہ سے خوف اور ذہنی دباو پیدا ہنا لازمی ہے۔ لوگوں کو اس صورت حال سے نکلنے میں بہت وقت لگے گا۔ ذہنی صحت کی بحالی اور ایک سرگرم زندگی میں واپس آنے کےلئے ہر شخص کو اپنی حیثیت اور حالات کے مطابق کو شش کرنی ہوگی۔ کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ حکومت کو لوگوں کی ذہنی صحت پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ ماہرین نفسیات کی ایسوسی ایشن نے سفارشات پیش کی ہیں کہ لوگوں کو دیڈیو ، ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے رہنمائی کی جائے۔

