لداخ کے علاقے میں چینی اور بھارتی فوج کا ٹکراؤ کی صورتحال ایک غیر معمولی واقع ہےجس پر پاکستان سمیت اس خطے کے تمام ممالک کی حکومتوں اور اداروں اور عوام کی گہری ہے اگرچہ اس غیر متعین سرحد پر 1962 میں چین اور بھارت کے مابین باقاعدہ جنگ لڑی جا چکی ہے تاہم تازہ ترین تصادم 1975 کے بعد پہلا موقع ہے جب بھارتی فوجی ہلاک ہو ہےحالیہ جھڑپوں میں بھارت کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا بھارت کے 20 فوجی جاں بحق ہوئے 76 زخمی ہوئے اور 10 کو چین نے قیدی بنا کر اپنے پاس رکھ لیا یہ صورتحال ایسے موقع پر وقوع پذیر ہوئی ہے جب دنیا کروناوبا میں الجھی ہوئی ہے لیکن اس حال میں بھی بھارت اپنے جنگی جنون کو قابو میں نہ رکھ سکا اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ چھیڑ خانی اور فساد برپا کر رکھا ہے اور اب اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔
کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع وادی گلوان کے سرد ترین موسم میں چینی فوج نے بھارتی سینا کی درگت بنا دی ہے یہی وہ بھارت ہے جو کل تک مغرب کے سامنے خود کو چین کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر پیش کرتا تھا مگر حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چین کے سامنے بھارت کی حیثیت ریت کی دیوار کی سی بھی نہیں۔ یہاں پر ایک بات قابل ذکر ہے کہ ان واقعات میں چین نے ابھی تک اپنیکوئی بھی قابل ذکرعسکری قوت کا استعمال نہیں کیاان واقعات کے بعد بھارتی افواج اور بھارتی حکومت کا مورال جھاگ کے طرح بیٹھ گیا اور بھارتی حکومت کو میڈیا، عوام اور مخالف پارٹیوں کی طرف سے چبھتے ہوے سوالات کا سامنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی مودی سرکار اور اس کی سینا کی جگ ہنسائی ہورہی ہے ایک طرف تو بھارت اپنے کمزور دفاع کی وجہ سے چین سے مار کھا رہا ہے لیکن دوسری طرف پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر بھی باز نہیں شاید یہ سمجھنا بھی غلط نہ ہو کہ بھارت اس شکست خوردگی کے عالم میں پاکستان کے ساتھ الجھاؤ میں اضافے کا مرتکب ہو رہا ہےاس صورتحال میں نا صرف بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن پر جاسوس ڈرون اڑائے گئے بلکہ کنٹرول لائن پر موجود شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا گیا بھارت کی اس جنگی جنون سے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے لئے بھی سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے دوسری جانب بھارت افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سبوتاژ کر سکتا ہے
بھارت اور چین کے مابین حالیہ جھڑپوں کے بعد پاکستانی سیکیورٹیاداروں اور حکومت دونوں کی ذمہ داریوں میں خاصہ اضافہ ہوگیا ہےسیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ظاہر ہے ان کی مختص کردہ حدود میں ہی ہے لیکن ان کو بھارت کی طرف سے ہر غیر معمولی حرکت پر گہری نظر رکھنی ہوگی اور ان کا پوری قوت کے ساتھ بھرپور جواب دینا ہو گا حکومت پاکستان کی ذمہ داریوں میں یہ ذمہ داری شامل ہوتی ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے کیے جانے والے مظالم اور کشمیر پر ہونے والے بھارت کے مظالم کو عالمی سطح پر اٹھائے اور عالمی فورمز پر اپنے موقف کا موثر دفاع کرے بھارت جیسے مکار ہمسائے کے ہوتے ہوئے ہم کسی صورت آرام سے نہیں بیٹھ سکتے اور موجودہ حالات میں تو ہمیں اپنی ضرورت سے زیادہ گہری نظر رکھنی پڑے گی۔

