0

پاکستان کے دورہ انگلینڈ کے امکانات روشن، پلیئرز کیلئے آئسولیشن پر غور

لاہور:: انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے نقصانات سے بچاؤ کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز کو یقینی بنانے پر غور و خوض شروع کردیا ہے

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث دنیا بھر میں کھیلوں کی سرگرمیاں اگرچہ التوا ء کا شکار ہیں لیکن آہستگی سے بدلتی صورتحال میں اب مستقبل کی منصوبہ بندی کا بھی آغاز ہو گیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چند ماہ کے بعد کھیل کے میدان کسی حد تک آباد ہونا شروع ہو جائیں گے، خواہ ان میں صرف کھلاڑی ایکشن میں دکھائی دیں اور شائقین گھر بیٹھ کر میچوں کا لطف اٹھا سکیں جن کیلئے لاک ڈاؤن کے عرصے میں ہر قسم کی تفریح محدود تر ہو گئی ہے۔

کھیلوں کی سرگرمیاں جلد شروع کرانے کے حوالے سے اگرچہ حفاظتی اقدامات کو بھی پیش نظر رکھا جا رہا ہے لیکن اس کے پیچھے سب سے اہم مقصد مالیات کو سہارا دینا ہے اور اس حوالے سے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے نقصانات سے بچاؤ کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز کو یقینی بنانے پر غور وخوض شروع کر دیا ہے۔

اگرچہ انگلش سیزن کا آغاز پلاننگ کے مطابق یکم جولائی سے ہونا ممکن دکھائی نہیں دے رہا اور 30 جولائی سے شیڈول پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سیریز کے انعقاد پر بھی شکوک کے بادل موجود ہیں۔

لیکن ای سی بی کی تازہ ترین کوششوں نے ان امکانات کو روشن کرنا شروع کر دیا ہے کہ جلد یا بدیر پاکستانی ٹیم انگلش میدانوں پر کھیلتی دکھائی دے گی۔

خواہ اسے شائقین سے عاری میدانوں کا کڑوا گھونٹ ہی کیوں نہ پینا پڑے کیونکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ممکنہ مالی نقصانات سے بچاؤ کی خاطر اپنی پلاننگ پر کام شروع کردیا ہے۔

اس کے تحت کورونا کے خطرات سے بچاؤ کیلئے سکواڈز کو آئسولیشن میں رکھا جائے گا اور کھلاڑیوں کی صحت کو یومیہ بنیادوں پر جانچا جائے گا تاکہ ان میں کورونا وائرس کے منفی اثرات اپنے پنجے نہ گاڑ سکیںتاہم اس ’’مہم جوئی ‘ ‘ کیلئے انگلش حکام کو رواں برس ان ممالک کے کرکٹ بورڈز کو بھی آمادہ کرنا ہوگا جن کی انہیں میزبانی کرنی ہے۔

انگلش ذرائع ابلاغ کے مطابق ای سی بی نے رواں سیزن کے دوران 6 ٹیسٹ،6 ون ڈے اور 6 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے اور اگر توقعات کے مطابق حالات کی قدرے بہتری کے بعد جولائی میں سیزن کا آغاز ممکن ہوا تو ان میچوں کو 2 ماہ کی مختصر مدت میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس حوالے سے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کیخلاف 3، 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریزکو مرکز نگاہ بنایا گیا ہے جس کے دوران انگلش سکواڈ کو آئسولیشن میں رکھنے کا پلان بھی تیار کیا گیا ہے جبکہ دورے پر آنے والے کھلاڑیوں کی صحت کو بھی مانیٹر کیا جاتا رہے گا تاکہ کھلاڑی کورونا وائرس کی عالمی وباء سے محفوظ رہ سکیں جن کا یومیہ بنیادوں پر جسمانی درجہ حرارت بھی چیک کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ تمام تر حفاظتی اقدامات کے ساتھ سیریز کے انعقاد کو اس وجہ سے مرکز نگاہ بنایا گیا ہے کہ مالی نقصانات سے بچاؤ ممکن ہو سکے جس کی خاطر امکان ہے کہ میچوں کو چند مخصوص مراکز تک محدود کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا پہلا ٹیسٹ 30جولائی سے لارڈز میں شیڈول ہے لیکن حالیہ صورتحال میں اس کا انعقاد کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا ہے کیونکہ میزبان کرکٹ بورڈ نے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کیخلاف 6 ٹیسٹ میچوں کو 2 گراؤنڈز اولڈ ٹریفرڈ اور روز باؤل پر کرانے کی تیاری کرلی ہے جہاں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں،آفیشلز اور براڈ کاسٹرز سمیت 250 سے زیادہ افراد موجود نہیں ہوں گے۔

ماضی قریب میں انگلش کرکٹرز بند دروازوں کی کرکٹ کے حق میں نہیں تھے لیکن بیشتر کھلاڑیوں کی جانب سے گرین سگنل مل جانے پر ای سی بی نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس یقین دہانی کے ساتھ کہ اگر کوئی کھلاڑی ان میچوں میں شرکت پر رضامند نہیں ہوتا تو اس کیخلاف تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

ای سی بی کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیریسن کا کہنا ہے کہ اگر2020ء کا مکمل سیزن کورونا وائرس کی نذر ہو گیا تو گورننگ باڈی کو 380 ملین پاؤنڈز کا بھاری خسارہ برداشت کرنا پڑے گاجس سے بچاؤ کی خاطر انہوں نے سیزن کے دوران انٹرنیشنل کرکٹ کے انعقاد پر نظریں جما دی ہیں اور فی الوقت دیکھنا یہ ہوگا کہ نظر ثانی شدہ شیڈول پر مہمان ٹیمیں کس حد تک آمادگی کا اظہار کرتی ہیں۔

ای سی بی نے رواں سیزن کے 6 ٹیسٹ میچوں کو 2 گراؤنڈز پر کرانے کی پلاننگ کی ہے جس کے تحت ہر ٹیسٹ میچ کے درمیان محض 3 روز کا وقفہ رکھا جائے گا اور کھلاڑیوں کو میدان سے قریبی ہوٹلوں میں رہائش فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں سفری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ان کی صحت کی حفاظت کو ممکن بنایا جا سکے۔

انگلش کھلاڑیوں کو سیریز سے قبل ہی آئسولیشن میں رکھا جائے گا جنہوں نے سیزن کے باقاعدہ آغاز کے بعد کم و بیش 2 ماہ کیلئے اپنے خاندانوں سے دوری کیلئے ذہن بنا لیا ہے اور فاسٹ بائولر مارک ووڈ کا کہنا ہے کہ وہ دیگر کھلاڑیوں کی طرح 2 ماہ کیلئے اپنی فیملی سے دورہونے کیلئے تیار ہو چکے ہیں کیونکہ ای سی بی کو درپیش مسائل سے نجات دلانے میں کھلاڑیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہی ہوگا۔

اگرچہ ان پہلوؤں پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ ویسٹ انڈیز اور پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ آمد کے موقع پر قرنطینہ کیا جائے لیکن یہ بات لازمی نہیں کیونکہ کورونا وائرس ٹیسٹ اور کھلاڑیوں کی دیکھ بھال کے سخت نظام کے باعث کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر مہمان کھلاڑیوں کو بھی آئسولیشن میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تو وہ اس پر آمادہ ہو جائیں گے کیونکہ موجودہ صورتحال میں انگلینڈ کیخلاف رواں برس بند دروازوں کی سیریز کو گرین سگنل دیتے ہوئے قومی ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے بھی کہہ دیا ہے کہ یہ شائقین کرکٹ کا حوصلہ بڑھا سکتی ہے جس سے مایوس شائقین کرکٹ کو حوصلہ مل جائے گا جو سماجی فاصلوں کا خیال رکھتے ہوئے اپنے گھروں تک محدود ہیں۔ مصباح الحق کا خیال ہے کہ اگر مذکورہ سیریز کو بند دروازوں میں شائقین کے بغیر بھی کھیلنا پڑے تو اس سے گھر بیٹھے کھیل کے پرستاروں کو تفریح کا موقع مل جائے گا۔

اگرچہ یہ صورتحال کسی طرح بھی آئیڈیل نہیں کہی جا سکتی کیونکہ کھیل کے چاہنے والے مخصوص ماحول میں میچز دیکھنے کے عادی ہیں اور پھر یہ پہلو بھی نظر انداز نہ کیا جائے کہ شائقین کی میدان میں موجودگی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے تاہم اسے دوسری نگاہ سے دیکھا جائے تو لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے انے گھروں میں بند اور ہر قسم کی تفریح سے محروم ہیںجن کو کورونا وائرس کی وجہ سے کھیلوں کی سرگرمیاں دیکھنے کا کوئی موقع نہیں مل رہا کیونکہ سماجی فاصلوں کی پابندی کے باعث دنیا بھر میں کھیل موقوف کئے جا چکے ہیں البتہ ایسی صورتحال میں اگر کرکٹ کا کسی بھی طرح آغاز ممکن ہو جائے تو پرستاروں کیلئے ٹی وی پر میچز دیکھنا ممکن ہو سکتا ہے جس کی بدولت لوگوں کی صحت کو کوئی خطرہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ آگے بڑھتے ہوئے کسی نہ کسی وقت اور کسی جگہ سے کھیلوں کی بحالی کا آغاز تو کرنا ہی ہے تو یہ قدم انگلینڈ کیخلاف سیریز کے دوران ہی کیوں نہ اٹھایا جائے جو کھیل کے میدانوں میں واپسی کا سنہری موقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں