0

3مئی۔صحافت اور پااکستان : تحریر: علی بہادر۔

صحافت عربی زبان کے لفظ “صحف” سے نکلا ہے جس کا مفہوم رسالہ یا صفحہ کے ہیں۔انگریزی زبان میں جرنلزم، لفظ جرنل سے نکلا ہے جس کے معنی روزانہ کا حساب یا روزنامچہ کے ہیں۔ صحافت کسی بھی موضوع یا معاملے کے بارے میں حقائق بعداز تصدیق لوگوں تک پہنچانے کا نام ہے۔صحافت ناصرف لوگوں کو معلومات پہنچانے بلکہ لوگوں کو آپس میں ملانے،رہنمائی کرنے اور تحریروں کے ذریعے عوام کو حقیقت سے روشناس کرانے کا ذریعہ بھی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 3 مئی کو آزادیئ صحافت کا دن منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد نہ صرف عوام الناس تک پہنچنے والے حقائق کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے بلکہ اس عمل میں کلیدی کردار ادا کرنے والے صحافیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو فروغ دینا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس دن تمام صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے معاشرے میں سچ کے فروغ کے لیے جانی و مالی نقصان برداشت کیا۔
عالمی یوم صحافت منانے کا باقاعدہ آغاز 1993 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 3 مئی کو ہر سال اس دن کو منانے کے اعلان سے ہوا۔ اس دن صحافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے تمام افراد، خواہ وہ ایڈیٹر ہوں یا نیوز رپورٹر، کسی دباؤ اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر لوگوں تک سچ پہنچانے کا عہد کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں آج اس دن کی اہمیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب صحافی مالی مسائل سے دوچار ہونے کے باوجود اپنےفرائض مستعدی سے ادا کر رہے ہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ موجودہ حالات نے ایک صحافی کی زندگی کو مزید کٹھن بنا دیا ہے کہ اس وقت ملک میں بیشتر صحافی وہ مزدور ہیں جو بغیر تنخواہ کے ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ٹیلی ویژن پر آج بھی ہیڈلائنز آرہی ہیں،ٹکر بنانے والا آج بھی اپنا کام کر رہا ہے،بیٹ رپورٹر آج بھی فیلڈ میں ہے،کرنٹ افئیرز کے پروگرام آج بھی اسی طرح نشر ہو رہے ہیں،خبریں پڑھنے والے سے لے کر خبر اکٹھی کرنے والے تک صحافت کے عمل میں شامل ہر شخص اپنا کام کر رہا ہے مگر آج بھی ان صحافیوں اور صحافت سے جڑے دیگر افراد کو ان کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ نہ ان کو تنخواہ کی گارنٹی دی جاتی ہے اور، معذرت کے ساتھ، نہ ہی جان کی۔ہاں مگر روزانہ کی بنیاد پر خبر لانے کی بھاری ذمہ داری ضرور دی جاتی ہے۔ اور تو اور ان سے سچی اور انویسٹی گیٹو رپورٹنگ کی امیدیں بھی باندھی جاتی ہیں۔
خبر سے شاید اخبار یا چینل کا پیٹ تو بھر جاتا ہے مگر صحافی کا اور اس کے خاندان کا پیٹ روٹی سے ہی بھرے گا اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب میڈیا مالکان صحافیوں کی تنخواہ ادا کرنے کا کوئی معقول انتظام فرمائیں اور یہ سوچیں کہ سچ بازاروں میں زمین پر پڑا نہیں ملتا،خبریں درختوں پر نہیں لگتیں،ان کے لئے محنت کی جاتی ہے۔اور بعض اوقات تو خبروں کے لیے اپنی ذاتی زندگی بھی نظرانداز کی جاتی ہے۔
آزادی صحافت کا عالمی دن نہ صرف صحافی کی جدوجہد کو سراہنے کا دن ہے بلکہ یہ اِن کے بنیادی حقوق کی فراہمی کی خاطر آواز اٹھانے کا بھی دن ہے۔ پاکستان میں درجنوں صحافیوں کودہشتگردی کھا گئی لیکن اس کے باوجود صحافیوں نے اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اخبار خبروں سے بھرا اور نیوز چینلز ملکی معاملات پر تازہ تجزیوں سمیت نیوز پیکیجز سے لدے نظر آتے ہیں۔ صحافت کوئی آسان کام نہیں بعض اوقات تو یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک نوے سیکنڈ کا اچھا نیوز پیکج بنانے اور اس کو حقائق کا لبادہ پہنانے میں پورا پورا دن لگ جاتا ہے۔ ایک پریس کانفرنس کو قلمبند کرنے میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں اور اس تمام عمل میں فیلڈ رپورٹر، کیمرہ مین،ٹیکنیکل سٹاف اور وہ تمام افراد شاباش کے مستحق ہیں جو عوام تک سچ پہنچانے کے لئے نہ وقت دیکھتے ہیں نہ حالات۔
عالمی یوم آزادی صحافت کا مقصد یہ بھی ہے کہ صحافی اس بات کا عزم کریں کہ مشکل سے مشکل حالات میں سچ کا پرچار کیا جائے اور سچ کے نام پر افواہیں پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ جیسا کہ قرآن حکیم کی سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر2 4 میں بیان ہوتا ہے کہ”اور سچ کو جھوٹ کے ساتھ مت شامل کرو اور نہ چھپاؤ سچ کہ جب تم جانتے ہو”. سچ دکھانا ایک مشکل کام ہے جس کے لیے پاکستان میں صحافی تگ و دو کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ مگر میڈیا مالکان کی جانب سے کیا جانے والا سلوک صحافیوں کے لیے مشکلات کھڑی کر رہا ہے۔ جہاں حال ہی میں پاکستان میں بہت سے صحافیوں کو نوکری سے فارغ کیا گیا وہاں بہت سے صحافی ایسے ہیں جو اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ میں میڈیا مالکان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ صحافی کو نوکری سے تو فارغ کر سکتے ہیں مگر صحافت سے نہیں۔ پوری دنیا میں صحافت اپنے روایتی طریقوں سے ہٹ کر ڈیجیٹل میڈیا کی طرف آ رہی ہے۔ اسے ہم پیراڈائم شفٹ کہتے ہیں۔ جب انٹرنیٹ اور اس پر موجود بلاگنگ اور سوشل میڈیا کی اہمیت اخبار اور ٹیلی ویڑن چینل سے بڑھ رہی ہے، جہاں ہمیں ڈیجیٹل جرنلزم نظر آرہی ہے وہاں ایک اور اصطلاح موبائل جرنلزم بھی ابھر کر سامنے آرہی ہے جس کے اثرات پاکستان جیسے ملک میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں جہاں صرف صحافی ہی نہیں بلکہ عام آدمی بھی تجزیے خبریں لکھنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہا ہے۔ اب تو پاکستان میں انٹرنیٹ ٹی وی چینلز کے متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز اسلام آباد کے شعبہ ابلاغیات نے ایک ویب ٹیلی ویڑن(DBTV) کے ساتھ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے اور اس کے ساتھ ہی طالب علموں کو نیو میڈیا اور آن لائن جرنلزم جیسے مضامین پڑھائے جارہے ہیں تاکہ انہیں روایتی صحافت سے ہٹ کر فری لانسنگ صحافت کے گر بھی سکھائے جا سکیں تاکہ کسی بھی قسم کا مالی دباؤ یا بیرونی دھمکی جیسی چیز انہیں صحافت جیسے عظیم پیشہ سے محروم نہ کر سکے۔
اس عالمی دن کے حوالے سے میں اس بات کا بھی اضافہ کروں گا کہ پاکستان میں صحافتی حالات کو دیکھتے ہوئے صحافت پڑھنے والوں اور صحافت کرنے والوں دونوں کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل سکلز میں مہارت حاصل کریں،بلاگ بنانے کا فن سیکھیں،موبائل سے ویڈیو بنا کر اسے ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کا ہنر سیکھیں۔ یہی ڈیجیٹل جرنلزم ہے اور مستقبل قریب میں اسی کا چرچا ہونے والا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ حالات کتنے بھی کٹھن ہوں صحافی اپنا فرض نبھاتے ہوئے لوگوں تک سچ پہنچاتے رہیں گے۔
عالمی یوم آزادی صحافت پر ہر صحافی کو سلام۔

تحریر: علی بہادر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں