0

رمضان اور مہنگائی کا طوفان۔ : تحریر: علی بہادر

ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اسے نیکیوں کی فصل بہار بھی کہا جاتا ہے جہاں ایک نیکی کا اجروثواب کئی گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ اللہ اس ماہ کی برکت سے مومنین کے دسترخوان کو وسعت عطا فرماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ماہ میں دوست احباب کی دعوتوں سمیت روزہ داروں کے لئے اجتماعی افطار جیسے رواج کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ہر مسلمان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ سحر اور افطار میں اللہ کی نعمتوں سے اپنے دسترخوان کو سجائے۔ مگر پاکستان جیسے ملک میں ماہ رمضان میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے انسان کا جینا محال ہو جاتا ہے۔ اجتماعی افطار کا بندوبست تو دور اس کی اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لیے سحر و افطار کا انتظام کرنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال رمضان کا آغاز ہوتے ہی ایک ایسا طوفانِ مہنگائی سامنے آتا ہے جس کا سامنا کرنا شہریوں کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا کہ جب پھلوں سبزیوں اور گوشت سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشرُبا اضافہ کردیا جاتا ہے۔
دنیا بھر کے ممالک میں تہواروں کے موقع پر اشیاء کی قیمت کم کر کے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی جاتی ہے۔کرسمس کو ہی لے لیجئے،یورپ میں ہر سال کرسمس کے موقع پر کپڑے سے لے کر کھانے کی اشیاء تک ہر چیز کے دام آدھے کر دیے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے برانڈ ایسٹر کے موقع پر اپنی مصنوعات کے دام گرا دیتے ہیں تاکہ ہر خاص و عام تہوار کو بھرپور طریقے سے منا سکے۔ اور تو اور دنیا کے کئی ممالک میں ماہ صیام کے پیش نظر وہاں کی مسلمان کمیونٹی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے قیمتوں میں واضح کمی کی جاتی ہے تاکہ مسلمان اس ماہ میں نعمتوں سے بھرپور طور پر لطف اندوز ہوسکیں لیکن پاکستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے جہاں ماہ رمضان سے ایک ماہ پہلے ہی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں ماہ رمضان برکتیں سمیٹنے کا مہینہ کم جبکہ مال سمیٹنے، منافع کمانے کا مہینہ زیادہ ہوتا ہے۔ عوام کچھ کر نہیں سکتے اس لئے عادی ہوجاتے ہیں اور اب تو یہ سوچ عام ہے کہ رمضان ہے تو مہنگائی تو ہوگی۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ ماہ صیام میں عوام کو محض دعوے سننے کو ملتے ہیں ریلیف نہیں۔ بلکہ ریلیف کے نام پر دھوکے کا منظر دیکھنا ہو تو رمضان میں حکومت کی جانب سے قائم یوٹیلیٹی اسٹورز کا دورہ کیا جائے جہاں حکو متی ریٹ لسٹ تو چسپاں ہوتی ہے مگر اس لسٹ میں لکھی اشیاء کا پچاس فیصد بھی یوٹیلیٹی سٹور میں موجود نہیں ہوتا۔ میرا سوال یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے لسٹ تیار کرنے کی زحمت ہی کیوں دی جاتی ہے؟یا پھر یوٹیلیٹی اسٹورز جیسا مذاق کیوں کیا جاتا ہے؟ یوٹیلٹی سٹورز کا یہ حال ہے تو اوپن مارکیٹ کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ضلعی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ریٹ لسٹ آپ کو ہر دکان اور ٹھیلے لے پر نظر آئے گی جبکہ نہ اس لسٹ پر عمل ہوتا ہے ا ور نہ اس کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کوئی خاص ایکشن لیا جاتا ہے۔ پاکستان وہ زرعی ملک ہے جہاں سو روپے کے عوض چار لیموں اور دو سو روپے کا ایک خربوزہ مل رہا ہے۔ میرے خیال میں مہنگائی پر قابو پانے سے پہلے پاکستان کو زرعی ملک کہنابند کیا جائے۔ ہر حکومت کی طرح تبدیلی سرکار بھی ماہ صیام میں طوفان مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام نظر آئی۔ یہ وہی حکومت ہے جس کے بارے میں عمران خان صاحب کہتے تھے کہ میرے پاس مسائل حل کرنے کے لیے دو سو بندوں کی ایک ٹیم ہے۔ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس ماہ صیام میں عوام آپ کی اس دو سو بندوں کی ٹیم سے متنفر ہو چکے ہیں جس کے کپتان آپ ہیں۔ میں آپ کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ رمضان المبارک میں بے قابو مہنگائی کو قابو کرنے میں سابقہ حکومتوں کی طرح یہ حکومت بھی ناکام ہوتی نظر آرہی ہے۔ کاش کوئی کام کی ٹاسک فورس اس کو قابو کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملتا۔ مگر نہیں۔ عام شہری اس سال بھی رحمتیں سمیٹنے کے بجائے اپنانا ن نفقہ پورا کرنے کی فکر میں مبتلا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ حکومتی ادارے بالخصوص ضلعی انتظامیہ منافع خوری کے خلاف کوئی بھاری حکمت عملی بنانے میں کیوں ناکام ہے؟
یہاں تاجر برادری کا کردار بھی ماہ رمضان کے حوالے سے زیادہ قابل ذکر ہے کیونکہ اسلام میں تجارت کو دیگر تمام پیشوں پر ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے بھی اس پیشے کو افضل قرار دیا بلکہ خود بھی تجارت کے پیشے سے منسلک رہے۔ اس اعتبار سے ماہ صیام میں مسلمان تاجر پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تجارت سے متعلق شرعی قواعد کے پابندی کریں اور ذخیرہ اندوزی سمیت ناجائز منافع خوری، ملاوٹ اور کم تولنے جیسے کاموں سے گریز کریں۔ اگرچہ عام دنوں میں بھی ایمانداری سے کاروبار کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن رمضان المبارک میں اس کا خیال رکھنا اس لیے بھی مزید ضروری ہے کیونکہ دیگر عبادات کی طرح رمضان کے احترام میں اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے اپنے مال کی قیمت کم کرکے انہیں آرام پہنچانے کا اجروثواب بھی کئی گناہ بڑھ جاتا ہے۔ تو گویا مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کے لیے جہاں حکومتی اقدامات کی سخت ضرورت ہے وہاں چھوٹے کاروباری حضرات سمیت بڑے پیمانے پر کاروبار کرنے والے تمام افراد کو رضاکارانہ طور پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوشش کرنا ہوگی کیونکہ اللہ اس شخص پر رحم فرماتا ہے جو تقاضہ اور خرید و فروخت کرنے میں نرمی سے پیش آتا ہے۔ رمضان المبارک میں ناجائز منافع خوری کرنے والا نہ صرف مخلوق پر ظلم کرتا ہے بلکہ وہ اس مقدس ماہ کے فیوض و برکات سے بھی محروم ہو جاتا ہے اور اپنی آخرت خراب کرلیتا ہے۔ حکومتِ وقت کو بھی چاہیے کہ وہ اس ماہ مبارک کو عوام کے لیے ماہِ زحمت نہ بنائے اور دعووں پر زور دینے کے بجائے اشیاء ِخوردونوش کی قیمتوں کو کم کرنے کے لئے جامع حکمت عملی بنائے اور ناجائز منافع خوروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے تاکہ عوام کو صحیح معنوں میں آرام پہنچایا جا سکے۔

تحریر: علی بہادر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں