0

مثبت سوچ تحریر : حافظ مدثر رحمان

کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں کسی حاکم نے ایک بڑی گزرگاہ کے بیچوں بیچ ایک پتھر ایسے رکھوا دیا کہ گزرگاہ بند ہو کر رہ گئی۔ اپنے ایک پہریدار کو نزدیک ہی ایک درخت کے پیچھے چھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آتے جاتے لوگوں کے ردِ عمل سُنے اور اُسے آگاہ کرے۔
اتفاق سے جس پہلے شخص کا وہاں سے گزر ہوا وہ شہر کا مشہور تاجر تھا جس نے بہت ہی نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا، یہ جانے بغیر کہ یہ چٹان تو حاکمِ وقت نے ہی رکھوائی تھی اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط اور بے حساب باتیں سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا تھا۔ چٹان کے اردگرد ایک دو چکر لگائے اور چیختے ڈھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے اس حرکت کی شکایت کرے گا اور جو کوئی بھی اس حرکت کا ذمہ دار ہو گا اُسے سزا دلوائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھے گا۔

اس کے بعد وہاں سے تعمیراتی کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کا گزر ہوا ۔ اُس کا ردِ عمل بھی اُس سے پہلے گزرنے والے تاجر سے مختلف تو نہیں تھا مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی تاجر دکھا کر گیا تھا۔ آخر ان دونوں کی حیثیت اور مرتبے میں نمایاں فرق بھی تو تھا۔ اس کے بعد وہاں سے تین ایسے دوستوں کا گزر ہوا جو ابھی تک زندگی میں اپنی ذاتی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور کام کاج کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ وہ اس پتھر کے پاس رکے، سڑک کے بیچوں بیچ پتھر نصب کرنے والے کو جاہل، بیہودہ اور گھٹیا انسان سے تشبیہ دی، قہقہے لگائے اور ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو چل دیئے۔ اس طرح مختلف لوگ گزرتے رہے اور پتھر کو ، حکمرانوں کو برا بھلا کہتے رہے۔

اس چٹان نما پتھر کو سڑک پر رکھے دو دن گزر گئے تھے کہ وہاں سے ایک مفلوک الحال اور غریب کسان کا گزر ہوا۔ کوئی شکوہ کئے بغیر جو بات اُس کے دل میں آئی وہ وہاں سے گزرنے والوں کی تکلیف کا احساس تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ پتھر وہاں سے ہٹا دیا جائے۔ اُس نے وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو دوسرے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا اور انہیں جمع ہو کر وہاں سے پتھر ہٹوانے کیلئے مدد کی درخواست کی۔ اور بہت سے لوگوں نے مل کر زور لگا کر چٹان نما پتھر وہاں سے ہٹا دیا۔ جیسے ہی یہ چٹان وہاں سے ہٹی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا گڑھا کھود کر اُس میں رکھی ہوئی ایک صندوقچی نظر آئی جسے کسان نے کھول کر دیکھا تو اُس میں سونے کا ایک ٹکڑا اور خط رکھا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ:
“حاکمِ وقت کی طرف سے اس چٹان کو سڑک کے درمیان سے ہٹانے والے شخص کے نام، جس کی مثبت اور عملی سوچ نے مسائل پر شکایت کرنے کی بجائے اُس کا حل نکالنا زیادہ بہتر جانا۔”

میں نے بہت سے لوگوں کو ملکی مسائل پر گفتگو کرتے دیکھا ہے۔ مگر عملی طور پر سوائے دوسروں پر الزام تھوپنے کے، کسی نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ کیا پتہ، اگر مل کر اِس پتھر کو ہٹانے کی کوشش کریں، تو نیچے سے سونے کا ٹکڑا نکل آئے۔

؎ اندھیروں کی شکایت کرنے سے تو بہت بہتر تھا
اپنے حصے کا ایک دیا جلاتے جاتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

مثبت سوچ تحریر : حافظ مدثر رحمان” ایک تبصرہ

  1. کہا جاتا ہے کہ لیڈر کی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ صرف مصائل کی نشاندہی ہیں کرتا بلکہ اس کا حل بھی بتاتا ہے تو حافظ مدثر رحمان صاحب کا یہ آرٹیکل اس بات پر عین پورا اترتا ہے ماشاللہّٰٰٰ بہت اچھی کاوش ہے۔ 💝

اپنا تبصرہ بھیجیں