علماء کہتے ہیں کہ فرض نماز ترک کرکے نوافل ادا کرنے بیٹھ جانا، یہ دین نہیں ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ ہر شخص پر رعیت ہے، اور ہر شخص سے اُس کی رعیت کی بابت پوچھا جائے گا۔ ’رعیت‘ سے مراد نگرانی، نگہبانی یہ ذمّہ داری ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق تمام مکاتبِ فکر اس بات کے قائل ہیں کہ اگر آپ کسی ادارے میں ملازمت کرتے ہیں تو دورانِ ڈیوٹی آپ فرض نماز اور سنتیں ادا کرنے کے بعد اگر طویل دعا یا نوافل قائم کریں گے، تو آپ کی روزی عین جائز نہیں ہے۔ آپ زیادتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔یعنی نوافل کی افادیت اپنی جگہ، فرائضِ منصبی کو اُن پر فوقیت حاصل ہے۔
اسی بات کو ایک اور انداز سے دیکھنا چاہیں تو مقدمہ کچھ یوں ہے کہ اگر آپ کی ذمّہ داری ہے کہ پانی کا بندوبست کیجئے اور آپ پانی کے ساتھ کھانے کا بندوبست بھی کیے دیتے ہیں، تو بہت خوب۔ لیکن اگر آپ پانی چھوڑ کر کھانے کا انتظام کرنے لگ جائیں اور کھانا مہیّا کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو بھی آپ نے اپنی زمہ داری ادا نہ کی ہے۔ کوئی منطق اس طرز کو قبول نہیں کرتی ہے۔ سیکیورٹی گارڈ اگر سیکیورٹی کے بجائے آپ کو گیت سنانے لگے، تو وہ گیت کتنے ہی سریلے کیوں نہ ہوں، آپ اسے ملازمت سے فارغ کر دیں گے۔
الغرض یہ کہ جس کا کام، اسی کو ساجھے۔
ٌئ موجودہ قاضیئِ اعظم یعنی عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے دورِ قضاء و جزا کا پہلا خود ساختہ یعنی suo moto نوٹس لیا۔ وجہ؟ جناب کی زوجہ محترمہ اچانک بیماری کے باعث ہسپتال گئیں تو معلوم ہوا کہ احتجاج یا کرونا کے باعث ہسپتال بند ہیں۔ غرباء کے لیے اسی مصیبت کا رونا گزشتہ کسی کالم میں ہم رو چکے ہیں۔ خدا کا احسان کہ غرباء کے بر عکس قاضیئِ محترم کا رسوخ باعثِ شفاء ثابت ہوا اور کسی عزیز سے ہسپتال کھُلوا کر جناب نے نہ صرف اپنی ضرورت پوری کی، بلکہ غرباء کے مسائل کا بخوبی ادارک بھی کیا۔ یہ بات المیہ سے کم نہیں کہ بحیثیت انسان ہم لوگ غیروں کی چیخ و پکار کے باوجود اُن کے درد کا اِدراک کرنے سے تب تک محروم رہتے ہیں کہ جب تک ویسی ہی تکلیف کا سامنا خود کو نہ ہو۔ خیر، غرباء کی درد شناسی پر جناب مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔
خود ساختہ نوٹس کیا ہوا، ملک میں بحث چھڑ گئی۔’عمران خان پہلے تو بڑے شادیانے بجاتا تھا خود ساختہ نوٹسوں پر۔ اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے؟‘اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے کہ نہیں،خوشی کی لہر ضرور کچھ حلقوں میں دوڑ رہی ہے۔ کوئی قومی حکومت کی باتیں کر رہا ہے تو کوئی حکومت کے چینی آٹے کو بڑی چال بتا کر حکومت کے جانے کی باتیں بیچ رہا ہے۔ یہاں تک کہ خود حکمران جماعت کے اندر شدید تذبذب پایا جا رہا ہے۔ تنظیم ساز گروہ حکومت کے خلاف سازشوں کے پیغامات پھیلا کر اپنے کارکنوں سے پیشگی اتحاد کی اپیل کر رہے ہیں۔ بہر کیف، ٹائیگر فورس اور سیاست پر گفتگو کسی اور دن سہی۔ آج کا موضوع اِس سب سے زیادہ اہم ہے۔
خود ساختہ نوٹس کا قانون 73 کے آئین کے ساتھ پیدا ہوا جس میں عدلیہ کو بنیادی انسانی حقوق کے تحت ایسے تمام معاملات پر فیصلے کا حق ملا جس میں عوام کی بھلائی ہو۔ شاید اس کے پیچھے یہ نیت یا ادراک کارفرما تھا کہ بعض اوقات عوام اپنے لیے آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں، یا ان کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ شاہزیب قتل کیس اس ضمن میں بمثل آفتابِ اُفق ہے۔جب ایک آدمی سزا پانے کے باوجود عدلیہ اور نظام کو منہ چڑھاتا ہوا باہر آیا، دوبئی گیا، واپس لایا گیا، صلح نامہ ہوا، اور با الآخر مقتول کے ورثاء تھک گئے۔ عدالت کو مداخلت کرنا پڑی اور اِس معاملے کو فساد فی العرض کے تحت دیکھا جانے لگا۔
بعض حلقے عدالت کی اِس طاقت کو تنبیہ کی نگاہ سے تکتے ہیں۔ یہ حلقے دلیل دیتے ہیں کہ عدالت آرٹیکل 184(3) (جس کے تحت عدالت کو suo moto کا اختیار حاصل ہے) کا بے جا استعمال کر کے عدلیہ کو متنازع بنا دیتی ہے۔1947 میں فارچون مجلے (Fortune Magazine) میں چھپنے والے ایک مضمون نے پہلی بار بین الاقوامی سطح پر عدلیہ کے اس طریق پر سوال اٹھاتے ہوئے عدالتی تحریکیّت یعنی judicial activism کو متعارف کرایا اور یوں عدالتی احتمال یعنی judicial reatraint کی ترکیب اور اِن دو مختلف طریقا ہائے کی بحث کواُجاگر کیا۔ بالعموم عدل کی دنیا میں مؤخر الذکر کو فوقیت حاصل ہے جبکہ اول الذکر کو کسی قدر نا مناسب گردانا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں عدالتوں کی کارروائیوں اور کارروائیوں کے دوران کی گفتگو کو میڈیا کی زینت بنانے کا رواج مشرف صاحب کے آخری دور میں ملا۔ اور پھر انصاف کے ساتھ کیسا انصاف رہا،یہ انصاف تاریخکرے گی۔
یہ ساری گفتگو محض کالم کو طول دینے کے لیے پیش کی ہے۔ اصل موضوع تو شروع میں بیان کر دیا ہے۔ ہماری تنقید نہ تو کسی قاضی پر ہے، نہ ہی کسی سیکیورٹی گارڈ پر، کہ فرض چھوڑ نوافل ادا کرتا ہے۔ ہمارا موضوع ریلوے منسٹر یا سائنس و ٹیکنا لوجی کے نگہبان بھی نہیں ہیں۔ ہمارا موضوع آپ قارئین ہیں۔جی ہاں۔ آپ قارئین۔ ٹھیک ہے کہ آپ کی آواز اور تنقید ملک کی سیاست کے سمندر میں ایسا پتھر ہے کہ جسے پڑتے رہنا چاہیے۔ لیکن کون کیا کر رہا ہے، اس کی بغرضِ اصلاح نشاندہی آپ کے نوافل ہیں۔ فرض چھوڑ نوافل ادا مت کیجئے۔ فرض کو مقدم جانیے۔ آپ کا فرض آپ کا گھر، آپ کا ہمسایہ اور آپ کے رشتے دار ہیں۔ غوروفکر اس بات پر کیجئے کہ آپ کے ارد گرد کوئی پریشان تو نہیں ہے؟ آپ کے گھر کے تمام معاملات درست ہیں؟ ہمسایہ خالی پیٹ تو نہیں سو رہا ہے؟ کوئی رشتہ دار آپ کے بجائے کسی اور کے در کی طرف نظر اٹھائے راشن کے لیے منتظر تو نہیں بیٹھا ہے؟ کہیں کوئی ماں زنگ آلود دیگچی میں پانی پکا کر بچوں کو جھوٹی تسلیاں تو نہیں دے رہی ہے؟ کہیں 10 سال بعد آپ کا بیٹا جب آپ کے ساتھ قبرستان جائے گا اور اپنے دادا کے ساتھ والی قبر کی بابت سوال کرے گا، تو آپ کا جواب یہ تو نہیں ہو گا کہ بیٹا یہ ہمارے ہمسائے ہوا کرتے تھے، کرونا کے دوران بھوک سے مر گئے تھے؟
اگر ہم سب اپنے فرائض پورے کرلیں، خدا شاہد ہے، نوافل کے بغیر بھی ملک و قوم ترقی کر جائیں گے۔ ہمیں کسی عالمی طاقت سے بھیک نہیں منگنی پڑے گی۔ ہمیں کسی تبدیلی کی امید لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمیں کسی ٹائیگر فورس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم سب کے سب خوشحال رہیں گے۔کوئی بھوکا نہیں مرے گا۔ کوئی شرمندہ نہیں رہے گا۔ اور کسی کو اپنی رعیت کا جواب دینے میں خوف محسوس نہیں ہوگا۔ کسی سے ربّ نہیں کہے گا کہ میں بھوکا تھا، تُو کھانا کھلانے نہ پہنچا۔ فرائض چھوڑ کر نوافل ادا مت کیجئے۔ورنہ ساری دنیا کی امداد بھی ہمیں اِس مشکل سے نہیں نکال پائے گی۔ اللہ ہم سب پر اپنا رحم اور فضل نازل فرمائے۔ آمین۔
0

