کہا جاتا ہے کے ہمارا یہ ہردل عزیز وطن پاکستان جدید دنیا کی واحد نظریاتی مملکت ہے۔یہ خطہء عرض جب اسلام کے نام پر وجود میں آیا تو اس میں بسنے والے لوگوں کی زندگی اور کردار میں بھی دین حق کی روشنی اورحضور ﷺ کی تربیت کا اثر دکھائی دینا لازم تھا ،مگر افسوس ۔
بسا اوقات ہم سچے دل سے کسی بات کا گمان،بلکہ یقین کرتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کے ہماری سوچ ہمیشہ حقیقت کے قریب تر ہو۔اللہ تعالیٰ کبھی کبھی انسان کے گناہوں اور برے اعمال کی وجہ سے عقل پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہےکہ اُسے صحیح اور غلط کا فرق بہت واضح ہونے کے باوجود بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔ابو جہل کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔بس پتا یہ چلا کے جب اللہ تعالیٰ کسی شخص یا قوم کو غفلت میں ڈال دے تو اسکے لئے صحیح اور غلط کی پہچان بھی مشکل،بلکہ نا ممکن ہو جاتی ہے۔
اس تمہید کے بعد ذرا رُخ کرتے ہیں وطنِ عزیز کے حالات کا۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کے ہمارے معاشرےکے حالات بھی کوئی بہت جدا دکھائی نہیں دیتے۔یہ بات سن کر آپ کو حیرت بلکہ بہت سے دوستوں کو سخت اعتراض بھی ہو سکتا ہے،لیکن اپنے ذہن کے دریچوں کو ذرا کھول آپ خود تصور کیجیے کہ کیا ایسا معاشرہ جہاں منافقت جڑوں تک سرایت کر چکی ہو،جہاں ڈاکٹر بیماروں کے علاج کو فرض اور نیکی سے زیادہ کاروبار اور نفع نقصان کی نظر سے دیکھے،جہاں لوگ سالوں سے محنت کرنے والے ملازمین کو کسی ناگہانی آفت میں کچھ روپے بچانے کے لیے نوکری سے فارغ کر دیں،یا جہاں سیاسی جماعتیں اس مشکل وقت میں غریب لوگوں کا آسرا بننے کے بجاےً اپنی اپنی جماعت اور قیادت کی تعریف کی داستانیں رقم کر رہی ہوں ،تاکہ آنے والے انتخابات جو نجانے ہوں گے بھی یا نہیں کے لیے رہ ہموار کر سکیں،ایسے معاشرے کے نظریاتی ہونے کی کیا دلیل باقی ہے؟
قیادت سے ایک اور بات یاد آئی کہ ہمیں شائد قائد اعظم کے بعد آج تک حقیقی قیادت نصیب ہی نہیں ہوئی۔تقدیر کا کھیل دیکھئے کہ جب بھی حکومت کسی جرنیل کے ہاتھ میں آئی تو اسے جمہوریت پسند ہونے کا جنوں چڑھ دوڑا ۔پھر چاہے وہ ایوب خان کی بیسک ڈیموکریسی ہو ،ضیا الحق کے غیر جماعتی انتخابات یا پھر پرویز مشرف کے زیر اہتمام 2002 کے انتخابات۔یہ کھلی منافقت کا مظاہرہ تھا۔دوسری جانب اگر جمہوری حکومتوں پر نظر ڈالی جائے تو عوامی طاقت سے غداری کر کے ان کا ہر عمل کسی ڈکٹیٹر کی طرح کا رہا ہے۔مطلب ہمیں تو کھا نے پینے کی اشیا کے ساتھ ساتھ طرزِ حکمرانی بھی ہمیشہ ملاوٹ زدہ ہی ملا ۔
غرض شاید ہی کوئی سمت ایسی ہو جسے دیکھ کے منافقت سجھائی نہ دیتی ہو۔ماضی اور حال میں تو ایسی مثالوں کا ایک امبار نظر آتا ہے اب مستقبل کی خدا جانے۔اب ایک تازہ واقعہ ملاحظہ کیجئے کہکچھ دن پہلے ایک عالِم دین نے وزیراعظم پاکستان اور ذرائع ابلاغ کے نمایندگان کی موجودگی میں اللہ کے حضور معافی مانگی اور اس قوم میں موجود کچھ خرافات کا ذکر کیا تو ہمارے کچھ نام نہاد دانشور اور اینكر برا مان گنے۔کیا ان لوگوں کو میڈیا پر روز بولا جانے والا جھوٹ نظر نہیں آتا یا ہمارے معاشرے میں ہر دن پھیلتی بےحیائی جو کہ جدت اور ماڈرن ازم کے نام پر ہمارے اپنے گھروں میں پاؤں پھیلاتی جا رہی ہے، معیوب نہیں لگتے؟
ہماری قوم اس وقت غفلت کے اسی راستے پر گامزن ہے جس کی مثال دیتے ہوےً بھی زبان اور قلم ساتھ نہیں دیتے۔منافقت ہمارے قول و فعل کے تضاد کو عیاں کرتی جا رہی ہے۔ہمارے لوگ صرف اسی شخص پے دھونس جما تے ہیں جو گھبرا کر اپنی بات سے پیچھے ہٹ جائے۔یہاں میں یہ بات بھی کہتا چلوں کہ ہر عالم دین ٹکراؤ سے بچنے کیلئے اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔کئی دفعہ قوم کو آئینے کی ضرورت بھی ہوتی ہے جس میں وہ اپنا بد صورت چہرہ دیکھ سکے۔ ہمارے موجودہ وزیرِ اعظم تو بات بھی ریاستِ مدینہ کی کرتے ہیں پھر ریاستِ مدینہ میں تو سچ بولنے پر کسی کی باز پرس کرنے کا ہرگز کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
خیر ہماری ایلیٹ کلاس کے رد عمل کی وجہ سے اگر ہمارے عالم دین اسی طرح سچ بول کر معافی مانگتے رہے تو ہمیں ڈرنا چاہیے اس وقت سے کہ جب اللہ ہمارے دلوں پر بھی مہر لگا دے اور ہم سے صحیح اور غلط کی پہچان بھی نہ ہو سکے گی۔اگر ایسا ہوا تو ہمارے دردناک انجام کے لئے شاید کورونا جیسی کسی وبا کی ضرورت بھی نہ ہو۔
مجھے تو آج کورونا سے زیادہ ڈر اپنے لوگوں کی سوچ کے پستی میں گرنے سے لگ رہا ہے۔اللہ سے دعا ہے کے ہمیں منافقت کی اس نیند سے نکلنے اور اپنی زندگیوں کو حضور ﷺ کے بتلاے ہوے راستے پے آگے بڑھانے کی توفیق عطا کرے۔ آمین
0


ماشاءاللہ بہت بہترین کاوش ہے سر👌👌