0

کورونا، تجدیدِ انسان :: تحریر: عثمان یٰسین

آج پوری دنیا خدا کے بھیجے ہوئے عذاب یا آزمائش سے دوچار ہے۔ ہم اسے آزمائش گردان کرچلتے ہیں۔ بہت سارے ترقی یافتہ ممالک کے بارے میں سنتے ہیں کہ کیسے وہاں کی حکومتیں اپنےباشندوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہر فرد کے لئے مالی امداد کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ خوردونوش کی اشیاء گھر کی دہلیز پر پہنچائی جارہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان ممالک کے وسائل مالی اور تنظیمی لحاظ سے بہت بہتر ہیں۔
ہمارے ہاں طبی سہولیات کو کھنگالا جائے تو معلوم ہوگا کہ حالات شاید مثالی نہیں ہیں۔ بلکہ اکثر ممالک کی نسبت کافی ابتر دکھائی دیتے ہیں اور مستقبل کے بارے میں بے تحاشہ شکوک و شبہات نظر آتے ہیں۔ ہم ہرگز کسی ترقی یافتہ ملک کے ساتھ موازنہ کرنے کے قابل دکھائی نہیں دیتے۔ ہم نہ تو مالی طور پر کسی مضبوط معیشت کے مالک ہیں اور نہ ہی ہمارے ہاں کوئی ایسی تنظیم سازی ہوئی ہے جو ان مشکل حالات میں ہم وطنوں کی مشکلات کو کم کرنے میں کوئی کردار ادا کر سکے۔ ہمارا طبی شعبہ بھی کوئی قابل ستائش نہیں بلکہ یہاں تو عام حالات میں روزمرہ کی بیماریوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا بھی فقدان نظر آتا ہے۔
مگر ٹھہریے!بہت کچھ قابل رشک بھی ہے۔ میں نے اپنے لوگوں میں ایک بے فکری اور اللہ پر توکل دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے جب ساری دنیا اجتماعیت کے سبھی راستے بند کر کے معاشرتی دوری اختیار کر رہی ہے اسی دور میں ہماری مسجدیں قیام کرنے والوں سے آباد ہیں۔ یہ عمل صحیح ہے یا غلط اس پر بحث کئے بغیر ان لوگوں میں اللہ تعالی سے معافی کی طلب اور زندگی اور موت اس کے ہاتھ میں ہونے کا یقین دکھائی دیتا ہے ہے۔
اس دورِ آفت میں کہ جب عالمی ادارہ صحت اور دوسرے اداروں کو ڈر ہے کہ دنیا کی ایک کثیر آبادی بھوک اور وسائل کی کمی کا شکار ہو سکتی ہے میں نے بہت سے لوگوں کو چپکے سے ضرورت مندوں کی مدد کرتے دیکھا ہے۔خاص طور پر میں یہاں اپنے کچھ بہت ہی عزیز طلباء کا ذکر کرنا چاہوں گا جو مل کر بہت سارے خاندانوں کے لیے راشن کا انتظام کر رہے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جنہیں شاید آج سے پہلے بہت ہی شاہ خرچ پایا تھا مگر جب ان کو اپنی قوم کے ضرورت مندوں کے لیے بغیر کسی شرم کے امداد جمع کرتے دیکھا تو دل میں ان کی عزت کئی گنا بڑھ گئی۔ اللہ تعالی انہیں اس نیک مقصد میں کامیاب کرے اور اسی وسیلے سے ان کے لیے اس دنیا اور آخرت میں کامیابی کا سامان پیدا کرے آمین!
ایک بابا جی کے ساتھ ان کے رکشے میں سفر کا موقع ملا۔وہ صحیح معنوں میں ایک زندہ دل انسان محسوس ہوئے۔ پہلے تو ہمیں اپنی مزاح بھری باتوںس ے ہنسایا، پھربولے بیٹا، میر تو خیال ہے کہ کورونا کا کوئی وجود ہی نہیں۔ مجھے تو یہ صرف ایک تخیلاتی بیماری محسوس ہوتی ہے۔ اور اگر یہ بیماری موجود بھی ہے تو یہ لوگوں کو اللہ یاد کروانے کے لیے آئی ہے۔لہذا اس سے ڈرنا کیسا؟ مرنا تو ایک دن لازم ہے پھر چاہے وجہ کچھ بھی بن جائے۔ ان کی گفتگو سے احساس ہوا کہ شاید یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے جس نے ہمیں اس قدر خوفزدہ کر رکھا ہے ورنہ دنیا میں لاتعداد ایسی بیماریاں موجود ہیں جن کا ابھی تک کوئی علاج معلوم نہیں کیا جا سکا ۔ ان میں بہت سی جان لیوا بھی ہیں مگر یہ کورونا تو انسان کو اللہ تعالیٰ کی یاد کروانے کے واسطے ہی آیا ہے۔
چندماہ پہلے کی دنیا پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ انسان بہت تیزی کے ساتھ اس دنیا اور اس میں موجود اللہ تعالی کی نعمتوں کے ضیاع میں مصروف عمل تھا۔اکثر سننے میں آتا تھا کہ صنعتی ترقی کی وجہ سے جو ماحولیاتی آلودگی پیدا ہورہی ہے اس کو روکنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ یہ آلودگی انسانوں کے ساتھ ساتھ باقی تمام مخلوقات کے لئے بھی نقصان دہ بلکہ جان لیوا ثابت ہو رہی تھی۔ مگر قدرت کا پہیہ دیکھیے کہ ایسا گھوما کہ انسان کی ترقی اور تیزی کا ہر پہیہ جیسے رک سا گیا۔آلودگی پھیلانے والے تمام اسباب آج میٹھی نیند سو رہے ہیں ۔ انسانوں کے علاوہ باقی تمام مخلوقات کے لئے تو جیسے عید کا سماں معلوم ہورہا ہے ۔صبح کے وقت جاگ کر اب کی دفعہ ایسے ایسے پرندے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں جو آج سے پہلے شاید کبھی نہ دیکھے تھے۔
انسانی زندگی جس قدر تیز رفتار تھی اسی قدر دوری پسند بھی تھی ایک ہی خاندان کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ شاید بیٹھ بھی نہ سکتے تھے اور انہیں ایک ساتھ جمع ہونے کے لئے کسی تہوار یا خوشی غمی کی ضرورت درکار ہوتی تھی.آج اس مشکل کی بدولت لوگ اپنے پیاروں کے قریب آبیٹھے ہیں۔اس آفت کے بہانے لوگ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے لگے ایک دوسرے کا حال پوچھنے لگے ہیں وہ رشتے جو حال احوال نہ پوچھنے کی وجہ سے ماند پڑتے جا رہے تھےاس مشکل وقت نے ان میں بھی ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

مجھے تو ان سب مثبت تبدیلیوں میں اس با برکت مہینے کا کردار بھی نظر آتا ہے۔ یہ وہی مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنی اپنا پاک کلام نازل کیا۔ دیکھا جائے تو اسلام کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے اکثر مشکلات کا سامنا بھی اسی مہینے میں کیا اور اللہ تعالی کی نصرت سے ہمیشہ ہر مشکل سے چھٹکارا بھی حاصل کیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس بابرکت مہینے کے طفیل ہمیں اور تمام دنیا کو اس ناگہانی آفت سے محفوظ فرمائے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “کورونا، تجدیدِ انسان :: تحریر: عثمان یٰسین

  1. جہاں کوئی اُستاد نہ بننا چاہے وہاں بظاہر پڑھے لکھے لیکن حقیقتا جاہل راج کرتے ہیں.

    “ساٹھ کی دہائی میں ایوب خان ملکہ برطانیہ اور ان کے شوہر کو پاکستان دورے کے دوران برن ہال سکول ایبٹ آباد لے گئے، ملکہ تو ایوب خان کے ساتھ بچّوں سے ہاتھ ملاتی آگے بڑھ گیئں، اُن کے شوہر بچّوں سے باتیں کرنے لگے، پُوچھا کہ بڑے ہو کے کیا بننا ہے، بچّوں نے کہا ڈاکٹر ، انجنیئر ، آرمی آفیسر ، پائلٹ ، وغیرہ وغیرہ۔
    وہ کچھ خاموش ہو گئے پھرلنچ پر ایوب خان سے کہا کہ آپ کو اپنے ملک کے مستقبل کا کچھ سوچنا چاہیے، میں نے بیس بچّوں سے بات کی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اسے ٹیچر بننا ہے اور یہ بہت خطرناک ہے… ایوب خان صرف مسکرا دیے کچھ جواب نہ دے سکے اور یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے

    آج تہذیب و تمدن کی یہ جو اتنی بڑی عمارت کھڑی ہے۔ اس کے پیچھے اْسی شفیق و محترم ہستی کا ہاتھ ہے جسے اتالیق یا استاد کہتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ ، جن کی گردن ہمہ وقت اکڑی رہتی تھی ، اپنے اساتذہ کے سامنے ہمیشہ سر جھکا دیا کرتے تھے۔’’ سکندرِ اعظم ‘‘یونانی جس نے آدھی سے زیادہ دنیا اپنی تلوار کی دھار پر فتح کی ،’’ ارسطو ‘‘جیسے معلم اول کا شاگرد تھا۔
    یہ مجلسِ یونان ہو، یا ایوانِ قیصرو کسریٰ، یہ خلافتِ بنو عباس ہو یا محمود غزنوی کا دربار، یہ اندلس کا الحمراء ہو یا ہندوستان کا شہنشاہ’’ جلال الدین محمد اکبر۔
    تاریخ شاہد ہے کہ استاد کی عظمت سے اس قدر بلند پایہ اولو العزم حکمران بھی واقف تھے۔

    آج اگر اہلِ مغرب ہم سے اس قدر آگے نکل گئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ استاد کا اصل مقام جانتے ہیں۔ اگر پبلک ٹرانسپورٹ میں کوئی سیٹ خالی نہ ہو تو پھر بھی لوگ قوم کے استاد کے لیے سیٹ خالی کردیتے ہیں۔ وہاں عدالت میں استاد کی گواہی کو پادری کی گواہی سے زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں رواج ہے کہ جب کوئی طالب علم کامیابی حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے استاد کو سلیوٹ کرتا ہے ، بالکل ویسے جیسے ایک سپاہی اپنے افسر کو سلیوٹ کرتے ہیں۔

    کوئی بھی کچھ جانتا ہے تو معلم کے طفیل
    کوئی بھی کچھ مانتا ہے تو معلم کے طفیل
    گر معلم ہی نہ ہوتا دہر میں تو خاک تھی
    صرف ادراکِ جنوں تھا اور قبا ناچاک تھی

    تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب ہندوستان کی انگریز حکومت نے حضرت علامہ اقبال ؒ کو سر کا خطاب دینے کا ارادہ کیا تو اقبال ؒ کو وقت کے گورنر نے اپنےدفتر آنے کی دعوت دی۔ اقبال نےیہ خطاب لینے سے انکار کردیا۔ جس پر گورنر بے حد حیران ہوا۔ وجہ دریافت کی تو اقبالؒ نے فرمایا:۔ ’’میں صرف ایک صورت میں یہ خطاب وصول کرسکتا ہوں کہ پہلے میرے استاد مولوی میرحسنؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا جائے‘‘۔

    یہ سن کر انگریز گورنر نے کہا:۔
    ’’ڈاکٹر صاحب! آپ کو تو’’سر‘‘کا خطاب اس لیے دیا جا رہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ نے کتابیں تخلیق کی ہیں، بڑے بڑے مقالات تخلیق کیے ہیں۔ بڑے بڑے نظریات تخلیق کیے ہیں۔ لیکن آپ کے استاد مولوی میر حسنؒ صاحب نے کیا تخلیق کیا ہے…؟‘‘

    یہ سن کر حضرت علامہ اقبالؒ نے جواب دیا کہ:۔
    ’’مولوی میر حسن نے اقبال تخلیق کیا ہے‘‘

    یہ سن کر انگریز گورنر نے حضرت علامہ اقبالؒ کی بات مان لی اور اْن کے کہنے پر مولوی میر حسن ؒ کو’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس پر مستزاد علامہ صاحب نے مزید کہا کہ:۔
    ’’میرے استاد مولوی میر حسن ؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینے کے لیے یہاں سرکاری دفاتر میں نہ بلایا جائے بلکہ اْن کو یہ خطاب دینے کے لیے سرکاری تقریب کو سیالکوٹ میں منعقد کیا جائے ، یعنی میرے استاد کے گھر‘‘

    اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔ مولوی میر حسنؒ کو آج کوئی بھی نہ جانتا اگر وہ علامہ اقبالؒ کے استاد نہ ہوتے۔لیکن آج وہ شمس العلماء مولوی میر حسن ؒکے نام سے جانے جاتے ہیں۔

    الغرض استاد کا مقام اور عظمت ہر شے سے بُلند ہے۔ حتیٰ کہ خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استاد اللہ تعالیٰ کو کہا جاتا ہے۔اور رسولِ اکرم کی حدیث پاک ہے کہ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا‘‘۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے تاجر کا خطاب پسند نہ کیا حالانکہ آپ حجاز کے ایک کامیاب ترین تاجر تھے۔ آپ نے اپنے لیے پسند کیا تو معلم یعنی استاد کا رتبہ ۔ چنانچہ استاد کی عظمت سے کچھ بھی بڑھ کر نہیں.

    کانپتے ہاتھوں یہ الفاظ ان اساتذہ کے نام۔۔۔۔!!
    جنہوں نے مجھے انسان بنایا
    میرے استاد
    میرے معلم
    میرے مدرس
    آپ کی تعریف و شکریے کے لئے
    میرے پاس الفاظ نہیں
    میری زندگی کا ہر اک
    لمحہ آپ نے سنوارا ہے
    بس یہی حقیر تحفہ ہے
    میری زندگی کے وہ سارے لمحے
    میرے اساتذہ
    آپ کے نام
    سلام میرے اساتذہ کـــرام۔۔۔!!

Leave a Reply to سید صاءم شاہ گردیزی Cancel reply