0

کاش! ہم دورِعمر ؓ میں پیدا ہوتے :: تحریر: بلال عباسی

پاکستان ایک معجزہ ہے ۔ اہل علم کے مطابق یہ 712 میں محمد بن قاسم کی سندھ آمد سے ظہور پذیر ہونا شروع ہوگیا تھا اور بالآخر اس کی تکمیل 14 اگست 1947 کو اس وقت ہوئی جب اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔اعلان ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے روانہ ہونے والی ٹرین تیار ہے۔ ایک بوڑھی عورت کمزور کپکپاتے ہاتھوں سے میلے کچیلے کپڑوں کی گٹھڑی اٹھاتے ہوئے اپنے معصوم پوتے سے مخاطب ہوتی ہے۔میرے بیٹے، تم نے بہت ظلم سہا ہے۔ تم نے اپنے والدین کو اپنی آنکھوں کے سامنے لہولہان ہوتے دیکھا ہے۔ تمہارے دن بھوک پیاس سے بلکتے اور راتیں خوف سے جاگتے گزری ہیں۔اللہ نے ہماری سن لی ہے۔ اب ہمیں دوبارہ کبھی ان مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پاک سرزمین ہمیں بلا رہی ہے۔ٹرین روانہ ہوتی ہے۔ وقت جیسے تھم سا جاتا ہے۔ سیکنڈ گھنٹوں میں بدل جاتے ہیں۔ آنکھیں پر نم ہیں۔ لبوں پہ حمدوثناء ہے۔ جب منزل ایسی سرزمین ہو کہ جس نے مدینہ ثانی، اسلام کا قلعہ، امت مسلمہ کا محافظ، غیرت و حمیت کا پیکر اور اسلام کے سنہری اصولوں کی عملی تصویر بننا ہو، تو جذبات میں طلاطُم یقینی ہے۔اپنے بچھڑے پیاروں کی یادوں میں غمگین لیکن آنے والی نسلوں کے روشن اور محفوظ مستقبل کی امید لگائے کتنے ہی ایسے لوگ ٹرین کے جلد از جلد پاک سرزمین میں داخل ہونے کے منتظر تھے۔
تخیل کی آنکھ سے دیکھئے وہ وقت کہ جب وہ ٹرین لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر رکتی ہے تو کوئی دروازہ نہیں کھلتا۔ ریلوے ملازم جب ٹرین کے اندر قدم رکھتا ہے تو قیامت کا منظر ہوتا ہے۔ مسافروں کی زندگی کا سفر تو کہیں رستے میں ہی ختم ہوگیا تھا۔ دل ساکن اور آنکھیں بے نور تھیں۔خاموش زبانیں جیسے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ ہم نے جس مقصد کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دیا اسے بھول تو نہیں جاؤ گے؟ پاکستان تمہارے پاس اللہ کی عطا کردہ بیش قیمت امانت ہے، اسے ضائع نہ کر دینا۔ اس ارض پاک نے امت مسلمہ کی کشتی کا ملاح بننا ہے۔ اسے دنیا میں اپنے اسلاف کے عظیم الشان ماضی کو ایک بار پھر زندہ کرنا ہے۔ اس نے اعلی اسلامی روایات کا عملی نمونہ بننا ہے۔ اس نے دنیا میں ظلم و بربریت کا شکار مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز اور ظلم کے خلاف ڈھال بننا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی تمام تر توانائی صرف کرنا۔
پاکستان کو معرض وجود میں آئے بہتر سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔ ہم ہر طرح کی قدرتی دولت سے مالا مال ہیں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہیں۔ مگر ہم نے اپنے مقصد حیات کو بھلا دیا۔ ہم نے امت مسلمہ کا نگہبان بننا تھا لیکن آج ہم خود اپنے وجود اور مقصد حیات کے متلاشی ہیں۔ ہم گناہوں کی پستیوں میں گرتے چلے گئے۔ بے حیائی میں ڈوبی اس نوجوان نسل کے لئے محمد بن قاسم ایک ایسا کردار ہے جو صرف کہانیوں تک محدود ہے۔ اللہ نے ہمیں سزا دی، مفاد پرست اور غیرت و حمیت سے عاری حکمران مسلط کر دیے۔ ہم دنیا میں مذاق بن گئے۔ ہمارے سامنے فلسطین، کشمیر، عراق، افغانستان اور شام لٹ گئے۔ بیت المقدس کو ہم سے چھین لیا گیا۔ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر جب دنیا خاموش تماشائی بنی تو خاموشی میں ہم سرفہرست تھے۔ شام اور عراق پر ظلم ہوا تو ہم بدستور خاموش رہے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب ہم افغانستان پہ ظلم کرنے والے امریکہ کے شراکت دار بن گئے۔کسے خبر تھی کہ یہ قافلہ یوں لٹے گا؟
2014 سے لے کر 2018 تک امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں 409 ڈرون حملوں کے ذریعے 4 ہزار سے زائد معصوم پاکستانیوں کو ان کے گھروں میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اپنے ملک اور گھر کی دیواروں میں خود کو محفوظ سمجھنے کے بجائے طیاروں کی پروازوں سے ڈرے سہمے لوگ یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں، کہ کیا یہی ہے وہ اسلام کا قلعہ جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا؟ ڈرون حملوں کے شہدا کے بچوں کی فلک شگاف چیخیں شاید اسلام آباد کے ایوانوں کی مضبوط دیواروں کے سامنے ہار گئیں اور ایوانوں کے نرم بستروں میں وطن فروش خوف خدا سے عاری سوتے رہے۔7 جنوری 2011 کا دن بحیثیت قوم ہمارے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا دن تھا۔ لاہور کی پر رونق سڑکیں جہاں چہل پہل زندگی کا پتہ دیتی ہے دو بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے رنگ دی گئیں۔ قاتل امریکی خفیہ ادارے سی۔آئی۔اے کا ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس تھا۔ امریکہ نے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی تھیں۔ زندہ قومیں اپنے باسیوں کے تحفظ کو یقینی بناتی ہیں۔ ہم نے مردہ ضمیری کا ثبوت دیتے ہوئے امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور ریمنڈ ڈیوس کو واپس اس کے ملک بھیج دیا۔کہاں ہے وہ جذبہ ایمانی کہ جس کی بدولت دیبل کی بندرگاہ پر کشتیاں جلائی گئی تھیں؟
17 جون 2014 کو لاہور کی سڑکوں کو ایک بار پھر خون سے رنگ دیا گیا، لیکن اس بار قاتل بھی ہم تھے اور مقتول بھی ہم۔ پنجاب پولیس نے نہتے شہریوں پر گولیاں برسا کر حاملہ عورتوں سمیت کئی لوگوں کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ ہم ایسے وقت میں زندہ ہیں جہاں غریب کے بچے کو مہنگی گاڑی تلے کچل کر “شہید جمہوریت” کا نام دے دیا جاتا ہے اور کوئی سوال نہیں کرتا۔

؎ پروردگار ظلم پہ پرچم نگوں کیا
ہر سانحے پہ صرف ترانے لکھے گئے

ظلم کی یہ داستان ابھی باقی ہے۔ مفاد پرست پاکستان کے خیر خواہوں کا روپ دھار کر اپنے مقاصد حاصل کرتے رہے اور جونکوں کی طرح اس کی نسوں سے خون چوستے رہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک نے یہ عالم بھی دیکھا کہ تھر میں بھوک سے لوگوں کی اموات ہوئیں۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے بلکتے بچے جب تپتی زمین پر اپنی ایڑیاں رگڑتے تھے تو ان کی آہیں عرش کو ہلاتی ہوں گی۔ وہ کہتے ہوں گے کہ اے رب کائنات! ہمیں کن ظالموں کے حوالے کردیا؟ اب کیوں وہ آواز خاموش ہے کہ جو کہتی تھی “دریائے فرات کے کنارے اگر کتا بھی بھوکا مر گیا تو اللہ عمر ؓسے جواب طلب کرے گا؟” وہ بے بسی کے عالم میں ضرور کہتے ہوں گےکہ، کاش! ہم دور عمرؓ میں پیدا ہوتے۔ وہ دور کے جب گلیوں میں حضرت عمر ؓکے قدموں کی آوازیں ایک مشفق باپ کی تھپکی سے کم نہ تھیں۔ اے رب کائنات! ہمارے گناہوں سے درگزر فرما۔ ہمیں ایک بار پھر دورِ عمر ؓ عطا کر۔ آمین

؎ مرشد میں لڑ نہیں سکا پر چیختا رہا
خاموش رہ کے ظلم کا حامی نہیں بنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “کاش! ہم دورِعمر ؓ میں پیدا ہوتے :: تحریر: بلال عباسی

  1. آج کا نوجوان!
    نوجوان کسی بھی معاشرے کا اہم ترین سرمایہ ہوتے ہیں ۔نوجوان معاشرے کو ترقی یافتہ اور خوش حال بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔پاکستان کی آبادی کا 64% حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔اگر نوجوان نسل اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے تو وہ کامیابی کی نئی مثال رقم کر سکتے ہیں ۔مگر بےروزگاری کی بڑھتی شرع اور وسائل کی کمی نےہماری نوجوان نسل کو مغربی دنیا کا گرویدہ بنا دیا ہے ۔لٹریچر سے دوری نے ہماری نوجوان نسل کے خیالات کو محدود کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان اپنی تاریخ سے ناواقف اور ناآشنا ہے ۔آج  کا نوجوان نوکری کے نام پر غیرمسلموں کی غلامی کر رہا ہے ۔بقول شاعر 

     ~ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے
    وہاں کنڑ سب بلوری ہیں یہاں اک  پرانا لٹکا  ہے  

    آج اقبال کا شاہین حب الوطنی کے جذبات سے عاری ہے ۔اس نے اپنے ذاتی مفادات کو ملکی مفاد پر ترجیح دینا شروع کر دیا ہے ۔افسوس صد افسوس کہ آج اقبال کا شاہین ایک پلیٹ بریانی کے عوض آزادی رائے کا حق یعنی اپنا ووٹ بخوشی فروخت کر دیتا ہے کیونکہ وہ اسے محض کاغذ کا ایک ٹکڑا سمجھتا ہے 
         آج ہمارا وزیراعظم نوجوانوں کو ان کی اہمیت باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے اور ہمارا نوجوان pubg اور tik tok جیسے انتہائی فضول کاموں میں سرگرم عمل ہے۔ایسے کام ہماری نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔

    آج اگر ان کی سرپرستی نہ کی گئی تو ہمارا یہ قیمتی سرمایہ بھی مغربی دنیا کی نذر ہو جائے گا ۔کچھ عرصہ پہلے بنانے والی “Tiger’s force”اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ نوجوان مشکل کی گھڑی میں پوری قوم کیلئے امید کی روشن کرن ہوتے ہیں ۔کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال نے اس بات کو ثابت کیا ہے ۔
    آج اگر یہ نوجوان حب الوطنی کے جذبات کو اپنے ذاتی مفاد پر ترجیح دینا شروع کر دیں تو ملک کے ساتھ وفاداری کی نئی مثال رقم کر سکتے ہیں اور یہ قوم ترقی کی اونچائیوں کو چھو سکتی ہے۔ذرا سوچئے!۔۔۔آج ضرورت ہے بدلنے کی! سوچ کو! خیالات کو! خود کو۔۔۔!
    بقول اقبال
    اگر نوجوان ہو میری قوم کے جسوروغیور
    قلندر میری کچھ کم سکندریسے نہیں
     

  2. “”سلام میرے اساتذہ کـــرام””

    جہاں کوئی اُستاد نہ بننا چاہے وہاں بظاہر پڑھے لکھے لیکن حقیقتا جاہل راج کرتے ہیں.

    “ساٹھ کی دہائی میں ایوب خان ملکہ برطانیہ اور ان کے شوہر کو پاکستان دورے کے دوران برن ہال سکول ایبٹ آباد لے گئے، ملکہ تو ایوب خان کے ساتھ بچّوں سے ہاتھ ملاتی آگے بڑھ گیئں، اُن کے شوہر بچّوں سے باتیں کرنے لگے، پُوچھا کہ بڑے ہو کے کیا بننا ہے، بچّوں نے کہا ڈاکٹر ، انجنیئر ، آرمی آفیسر ، پائلٹ ، وغیرہ وغیرہ۔
    وہ کچھ خاموش ہو گئے پھرلنچ پر ایوب خان سے کہا کہ آپ کو اپنے ملک کے مستقبل کا کچھ سوچنا چاہیے، میں نے بیس بچّوں سے بات کی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اسے ٹیچر بننا ہے اور یہ بہت خطرناک ہے… ایوب خان صرف مسکرا دیے کچھ جواب نہ دے سکے اور یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے

    آج تہذیب و تمدن کی یہ جو اتنی بڑی عمارت کھڑی ہے۔ اس کے پیچھے اْسی شفیق و محترم ہستی کا ہاتھ ہے جسے اتالیق یا استاد کہتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ ، جن کی گردن ہمہ وقت اکڑی رہتی تھی ، اپنے اساتذہ کے سامنے ہمیشہ سر جھکا دیا کرتے تھے۔’’ سکندرِ اعظم ‘‘یونانی جس نے آدھی سے زیادہ دنیا اپنی تلوار کی دھار پر فتح کی ،’’ ارسطو ‘‘جیسے معلم اول کا شاگرد تھا۔
    یہ مجلسِ یونان ہو، یا ایوانِ قیصرو کسریٰ، یہ خلافتِ بنو عباس ہو یا محمود غزنوی کا دربار، یہ اندلس کا الحمراء ہو یا ہندوستان کا شہنشاہ’’ جلال الدین محمد اکبر۔
    تاریخ شاہد ہے کہ استاد کی عظمت سے اس قدر بلند پایہ اولو العزم حکمران بھی واقف تھے۔

    آج اگر اہلِ مغرب ہم سے اس قدر آگے نکل گئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ استاد کا اصل مقام جانتے ہیں۔ اگر پبلک ٹرانسپورٹ میں کوئی سیٹ خالی نہ ہو تو پھر بھی لوگ قوم کے استاد کے لیے سیٹ خالی کردیتے ہیں۔ وہاں عدالت میں استاد کی گواہی کو پادری کی گواہی سے زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں رواج ہے کہ جب کوئی طالب علم کامیابی حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے استاد کو سلیوٹ کرتا ہے ، بالکل ویسے جیسے ایک سپاہی اپنے افسر کو سلیوٹ کرتے ہیں۔

    کوئی بھی کچھ جانتا ہے تو معلم کے طفیل
    کوئی بھی کچھ مانتا ہے تو معلم کے طفیل
    گر معلم ہی نہ ہوتا دہر میں تو خاک تھی
    صرف ادراکِ جنوں تھا اور قبا ناچاک تھی

    تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب ہندوستان کی انگریز حکومت نے حضرت علامہ اقبال ؒ کو سر کا خطاب دینے کا ارادہ کیا تو اقبال ؒ کو وقت کے گورنر نے اپنےدفتر آنے کی دعوت دی۔ اقبال نےیہ خطاب لینے سے انکار کردیا۔ جس پر گورنر بے حد حیران ہوا۔ وجہ دریافت کی تو اقبالؒ نے فرمایا:۔ ’’میں صرف ایک صورت میں یہ خطاب وصول کرسکتا ہوں کہ پہلے میرے استاد مولوی میرحسنؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا جائے‘‘۔

    یہ سن کر انگریز گورنر نے کہا:۔
    ’’ڈاکٹر صاحب! آپ کو تو’’سر‘‘کا خطاب اس لیے دیا جا رہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ نے کتابیں تخلیق کی ہیں، بڑے بڑے مقالات تخلیق کیے ہیں۔ بڑے بڑے نظریات تخلیق کیے ہیں۔ لیکن آپ کے استاد مولوی میر حسنؒ صاحب نے کیا تخلیق کیا ہے…؟‘‘

    یہ سن کر حضرت علامہ اقبالؒ نے جواب دیا کہ:۔
    ’’مولوی میر حسن نے اقبال تخلیق کیا ہے‘‘

    یہ سن کر انگریز گورنر نے حضرت علامہ اقبالؒ کی بات مان لی اور اْن کے کہنے پر مولوی میر حسن ؒ کو’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس پر مستزاد علامہ صاحب نے مزید کہا کہ:۔
    ’’میرے استاد مولوی میر حسن ؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینے کے لیے یہاں سرکاری دفاتر میں نہ بلایا جائے بلکہ اْن کو یہ خطاب دینے کے لیے سرکاری تقریب کو سیالکوٹ میں منعقد کیا جائے ، یعنی میرے استاد کے گھر‘‘

    اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔ مولوی میر حسنؒ کو آج کوئی بھی نہ جانتا اگر وہ علامہ اقبالؒ کے استاد نہ ہوتے۔لیکن آج وہ شمس العلماء مولوی میر حسن ؒکے نام سے جانے جاتے ہیں۔

    الغرض استاد کا مقام اور عظمت ہر شے سے بُلند ہے۔ حتیٰ کہ خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استاد اللہ تعالیٰ کو کہا جاتا ہے۔اور رسولِ اکرم کی حدیث پاک ہے کہ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا‘‘۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے تاجر کا خطاب پسند نہ کیا حالانکہ آپ حجاز کے ایک کامیاب ترین تاجر تھے۔ آپ نے اپنے لیے پسند کیا تو معلم یعنی استاد کا رتبہ ۔ چنانچہ استاد کی عظمت سے کچھ بھی بڑھ کر نہیں.

    کانپتے ہاتھوں یہ الفاظ ان اساتذہ کے نام۔۔۔۔!!
    جنہوں نے مجھے انسان بنایا
    میرے استاد
    میرے معلم
    میرے مدرس
    آپ کی تعریف و شکریے کے لئے
    میرے پاس الفاظ نہیں
    میری زندگی کا ہر اک
    لمحہ آپ نے سنوارا ہے
    بس یہی حقیر تحفہ ہے
    میری زندگی کے وہ سارے لمحے
    میرے اساتذہ
    آپ کے نام
    سلام میرے اساتذہ کـــرام۔۔۔!!

    Written By:
    ایس پی ایس کاظمی

اپنا تبصرہ بھیجیں