دسمبر ۲۰۱۹کے آخر میں چین کے صوبے ووہان کے Dr. Li Wenliang جو کہ سنٹرل ہسپتال میں کام کرنے والےڈاکٹرتھے اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے ایک نئی پیدا ہونے والی بیماری کا انکشاف کیا۔چین نے دنیا کے ساتھ اپنے کارروبار کو متاثر ہونے سے بچانے کے لئے ڈاکٹر کو سختی سے خاموش رہنے کی ہدایات جاری کیں۔بیماری جسے بعد میں کووڈ۔ ۱۹ کا نام دیا گیا جنگل میں لگی آگ کی طرح Dr. Li Wenliang کی سچائی کی گواہی دینے لگی،پھیلنے لگی اور
بد قسمتی سے ۳۴ سالہ ڈاکٹر نے اسی بیماری سے متاثر ہو کر سنٹرل ہسپتال میں اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔ یاد رہے کہ یہ وہی ہسپتال ہے جہاں وہ ایک عرصے تک مسیحا بن کر لوگوں کی زندگیاں بچاتے رہے۔ یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ کورونا وائرس کو سب سے پہلے 1930 میں مرغیوں میں جبکہ1960 میں انسانوں میں دریافت کیا گیا۔2019 میں چین میں سامنے آنے والا وائرس اپنی فیملی میں ایک نیا اضافہ تھا۔ یہ وائرس خصوصیات میں اپنی فیملی سے قدرے نیاتھا۔یہ وائرس منفرد ہے، یہ بات مذکورہ ڈاکٹر صاحب سمجھاتے سمجھاتے اپنی جان سے گئے۔
پاکستان میں Covid-19 کا پہلا مریض جب سامنےآیاکہ جب ایران سے واپس آنے والے ایک مریض میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔ چین میں وائرس شروع ہونے کے بعد پاکستان میں آنے تک 2ماہ سے زیادہ کا وقت لگا۔ اس وقت میں ہماری قومی سوچ یہ تھی کہ بیماری اللہ کا عذاب ہےجو کافروں پر نازل ہوا ہے۔ ذہنی پسماندگی کی ایسی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی ۔ ہماری حکومت اور متعلقہ اداروں نے اپنی قوم کا بھرپور ساتھ دیا اور چَین کی نیند سوئے رہے۔ اس بات کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے متعلقہ ممکنہ تباہی کا ادراک کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے اِس کے تدارک کے لیے کوئی بھی تدبیر کرنا ضروری نہیں سمجھا کیو نکہ ہم تو مسلمان ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ عذاب صرف کافروں تک محد ود رہنے والا تھا۔مارچ ۲۰۲۰ کے آخر میں حکومت بڑے فخر کے ساتھ یہ اعلان کرتی ہے کہ پورے پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے لیے وینٹی لیٹرز خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ہمیں بتایا جاتا ہے کہ وینٹیلیٹرز کی کمی میں سارا قصور ماضی کے حکمرانوں کا ہے۔ اگر حکومت کی بات مان بھی لی جائے تب بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وینٹیلیٹرز خریدنے کا کام 2 ماہ میں کیوں نہ کیا گیا؟وقت ضائع کیوں کِیا گیا؟
اچانک وطنِ عزیز میں ماسک اور سینی ٹائزرز کا قحط پڑ جاتا ہے۔منافع خوری عروج پہ پہنچ جاتی ہے۔ میڈیامیں بحث چھڑ جاتی ہے کہ بیماری زائرین کی وجہ سے پھیلی یا تبلیغی جماعت کی وجہ سے۔ ایک شہر میں سینکڑوں لیٹر دودھ یہ کہہ کر گندی نالی میں بہا دیا جاتا ہے کے کم دام میں کسی غریب کے پیٹ کی آگ نہیں بجھنے دی جائے گی۔ کچھ نام نہاد عالمِ دین اپنی آ مدن بند ہو جانے کے خوف سے لوگوں کو محفلیں سجانے کے مشورے دیتے نظر آئے۔ سعودی عرب نے بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حرمین شریفین کو بند کر دیا۔ وطنِ عزیز میں جب مساجد کے اندر نمازیوں کو محدود کرنے کا مشورہ حکومت نے دیا تو خود ساختہ حقیقی مسلمان سڑکوں پر آ گئے اور بے گناہ پولیس اہلکاروں کو پیٹ کر اپنے کامل ایمان کا ثبوت دیتے نظر آئے۔آن لائن کلاسز کا آغاز یہ سوچ کر کیا گیا کہ طالبعلموں کے تعلیمی حرج کو روکا جا سکے۔ طالبعلموں نےعلم کی پیاس کی شدت اساتذہ کو گالیاں دے کر اور ان کا تمسخر اڑا کر کم کی ۔ “محبوب قدموں میں” کے اشتہاروں کی جگہ “کورونا کا شافی علاج” کے اشتہاروں نے لے لی۔راز یہ بھی کھلا کہ وطنِ عزیز میں ادویات سازی کے میدان میں تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں صرف خام درآمد شدہ مال پیک کر کے اُنہیں ادویاتک کا نام دے دیا جاتا ہے۔ذرا سوچئے ہزاروں طلباء ہر سال محنت کر ڈاکٹرآف فارمیسی کی ڈگری لیتے ہیں، اُن کا کیا مستقبل ہے؟
ہمارے نام نہاد کےلیڈر بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور خوب سیاست سیاست کھیلی۔ میڈیا نے سنسنی اور خوف پھیلا کر خوب مال بنایا۔ گزشۃ دنوں ایک مشہور عالمِ دین نے ان برائیوں کا ذکر کِیا تو کئی مفاد پرست اور میڈیا کے خدا ناراض ہو گئے اور پھر گالیاں دے کر نوجوان نسل کی تربیت کرتے نظرآئے۔
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟
کورونا نے ہمارے بھیانک چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ہم قومی، سماجی، سیاسی اور مذہبی سطح پر تقسیم در تقسیم نظر آئے ہیں۔ بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان اللہ تعالی’ کا معجزہ ہے۔ اب اس بات پہ یقین اور پختہ ہو گیا ہے۔ اگر پاکستان ایک معجزہ نہ ہوتا ، تو ان مفاد پرستوں کے ہاتھوں کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ جب یہ سطریں تحریر کر رہا ہوں تو اتفاق سے سوشل میڈیا پر ایک انٹرویو چل رہا ہے۔ اس میں لاہور کے ایک شخص کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جو روزانہ بھوک سے بلکتے تین ہزار خاندانوں تک سبزی پہنچاتا ہے۔ہم اس ہیرو کی عمر اور مال میں برکت کی دعا کرتے ہیں۔ شاید یہی وہ انفرادی اعمال ہیں جن کی وجہ سے ہمیں مہلت ملتی جا رہی ہے۔ لیکن آخر کب تک؟
؎ خداتجھےکسی طوفاں سےآشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
(کالم کار ایم ایس بیالوجی ہیں اور راولپنڈی میں بیالوجی کے لیکچرار ہیں)

تحریر: بلال عباسی


!Marvellous Work
You’ve really exposed the
. demons of our society
ماشاء اللّٰہ ۔۔sir Allah Pak apko aur
..barkatein Aata frmaye Ameen proud to be ur student😊