0

وہ راستے کا شجر جس نے مجھ پہ سایہ کیا : تحریر: حافظ مدثر رحمان

“ساٹھ کی دہائی میں ایوب خان ملکہ برطانیہ اور ان کے شوہر کو پاکستان دورے کے دوران برن ہال سکول ایبٹ آباد لے گئے۔ ملکہ تو ایوب خان کے ساتھ بچّوں سے ہاتھ ملاتی آگے بڑھ گئیں، اُن کے شوہر بچّوں سے باتیں کرنے لگے۔ پُوچھا کہ بڑے ہو کے کیا بننا ہے؟ بچّوں نے کہا ڈاکٹر، انجنیئر، آرمی آفیسر، پائلٹ، وغیرہ وغیرہ۔
وہ کچھ خاموش ہو گئے پھرلنچ پر ایوب خان سے کہا کہ آپ کو اپنے ملک کے مستقبل کا کچھ سوچنا چاہیے، میں نے بیس بچّوں سے بات کی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اسے ٹیچر بننا ہے اور یہ بہت خطرناک ہے۔ ایوب خان صرف مسکرا دیے، کچھ جواب نہ دیا۔
آج تہذیب و تمدن کی یہ جو اتنی بڑی عمارت کھڑی ہے۔ اس کے پیچھے اْسی شفیق و محترم ہستی کا ہاتھ ہے جسے اتالیق یا استاد کہتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ، جن کی گردن ہمہ وقت اکڑی رہتی تھی، اپنے اساتذہ کے سامنے ہمیشہ سر جھکا دیا کرتے تھے۔* ’’سکندرِ اعظم‘‘ یونانی جس نے آدھی سے زیادہ دنیا اپنی تلوار کی دھار پر فتح کی، ’’ارسطو‘‘جیسے معلم اول کا شاگرد تھا۔
یہ مجلسِ یونان ہو، یا ایوانِ قیصرو کسریٰ، یہ خلافتِ بنو عباس ہو یا محمود غزنوی کا دربار، یہ اندلس کا الحمراء ہو یا ہندوستان کا شہنشاہ ’’جلال الدین محمد اکبر”, تاریخ شاہد ہے کہ استاد کی عظمت سے اس قدر بلند پایہ حکمران بھی واقف تھے۔
آج اگر اہلِ مغرب ہم سے اس قدر آگے نکل گئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ استاد کا اصل مقام جانتے ہیں۔ اگر پبلک ٹرانسپورٹ میں کوئی سیٹ خالی نہ ہو تو پھر بھی لوگ قوم کے استاد کے لیے سیٹ خالی کردیتے ہیں۔ عدالت میں استاد کی گواہی کو پادری کی گواہی سے زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں رواج ہے کہ جب کوئی طالب علم کامیابی حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے استاد کو سیلوٹ کرتا ہے، بالکل ویسے جیسے سپاہی اپنے افسر کو سلیوٹ کرتے ہیں۔
لیکن ہمارے ہاں صورتحال بالکل بر عکس ہے ۔ یہاں اگر استاد کسی طالبعلم کو ڈانٹ دے تو اس کا ہاتھ استاد کی گریبان تک آ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں آئے روز اساتذہ پر تشدد کیا جاتا ہے۔ ان کا قصور کیا ہے؟ کیا ان کا یہ قصور ہے کہ وہ آپ کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے نور سے آراستہ کر رہے ہیں؟ کیا ان کا یہ قصور ہے کہ وہ آپ کو ایک مہذب شہری بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
کوئی بھی قوم ، کوئی بھی معاشرہ تب تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا جب تک وہ استاد کی عزت نہیں کرتا۔ ہمارے ایک پروفیسر صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میرے استاد بننے کا صرف اور صرف مقصد یہ ہے کہ کل جب میں بوڑھا ہو جاؤں اور میری آنکھیں چہروں کو پہچاننے سے قاصر ہو جائیں اور میں کسی دفتر میں کسی کام کی غرض سے جاؤں اور وہاں بیٹھا شخص میرا شاگرد ہو اور مجھے پہچان لے اور عزت سے بٹھائے تو میرا مقصد اس دن پورا ہو گا۔

کوئی بھی کچھ جانتا ہے تو معلم کے طفیل
کوئی بھی کچھ مانتا ہے تو معلم کے طفیل
گر معلم ہی نہ ہوتا دہر میں تو خاک تھی
صرف ادراکِ جنوں تھا اور قبا ناچاک تھی

تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب ہندوستان کی انگریز حکومت نے حضرت علامہ اقبال ؒ کو سر کا خطاب دینے کا ارادہ کیا تو اقبال ؒ کو وقت کے گورنر نے اپنےدفتر آنے کی دعوت دی۔ اقبال نے یہ خطاب لینے سے انکار کردیا۔ جس پر گورنر بے حد حیران ہوا۔ وجہ دریافت کی تو اقبالؒ نے فرمایا؛ ’’میں صرف ایک صورت میں یہ خطاب وصول کرسکتا ہوں کہ پہلے میرے استاد مولوی میرحسنؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا جائے۔
یہ سن کر انگریز گورنر نے کہا؛
’’ڈاکٹر صاحب! آپ کو تو ’’سر‘‘ کا خطاب اس لئے دیا جا رہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ نے کتابیں تخلیق کی ہیں، بڑے بڑے مقالات تخلیق کئے ہیں۔ بڑے بڑے نظریات تخلیق کئے ہیں۔ لیکن آپ کے استاد مولوی میر حسنؒ صاحب نے کیا تخلیق کیا ہے؟‘‘
یہ سن کر حضرت علامہ اقبالؒ نے جواب دیا:
’’مولوی میر حسن نے اقبال تخلیق کیا ہے۔ ‘‘
یہ سن کر انگریز گورنر نے حضرت علامہ اقبالؒ کی بات مان لی اور اْن کے کہنے پر مولوی میر حسن ؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینے کا فیصلہ کرلیا۔جیسے عطار کو عطر کے تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی اسی طرح ایک استاد بھی اپنے شاگرد کو پہلی نظر میں بھانپ جاتا ہے۔ مولوی میر حسنؒ کو شاید آج کوئی بھی نہ جانتا، اگر وہ علامہ اقبالؒ کے استاد نہ ہوتے۔ لیکن لیکن علامہ اقبال یقیناً کبھی بھی علامہ اقبال نہ بن پاتے اگر وہ مولوی میر حسن کے شاگرد نہ ہوتے۔
کانپتے ہوئے ہاتھوں سے، جھکی ہوئی آنکھوں سے اور خمیدہ سر سے یہ الفاظ سلام کے طور پر ان اساتذہ کے نام جنہوں نے مجھے انسان بنایا۔ میرے استاد ، میرے معلم، میرے مربی، میرے مدرس۔ آپ کی تعریف و شکریے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میری زندگی کا ایک ایک لمحہ آپ نے سنوارا ہے۔ بس یہی حقیر تحفہ ہے میری زندگی کے وہ سارے لمحے میرے استاد آپ کے نام۔ سلام میرے اساتذہ کرام۔
؎ وہ راستے کا شجر جس نے مجھ پہ سایہ کیا
اسے میں آج بھی دل سے سلام کرتا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں