0

ماں تجھے سلام :: تحریر: سحر رشید راجپوت

میری یہ تحریر میری ماں کے نام جس نے ہر گرم سرد حالات میں بھی گزارا کیا لیکن ہم پر کبھی آنچ نہیں آنے دی ۔ہمیں پڑھایا اور آج اس قابل بنایا کہ ہم سر اٹھا کر چل سکتے ہیں۔خود تو وہ پڑھ نہ سکیں، لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی۔ بلکہ اپنے ہر بچے کو اس مقام تک پہنچایا جہاں وہ خود پہنچنا چاہتی تھی بحثیت بیٹی مجھے اپنی ماں کے بارے میں بتاتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے۔اور بحیثیت عورت، میں جانتی ہوں، ہر بیٹی اپنی ماں پر فخر محسوس کرتی ہے۔
بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے ماں۔ ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک محبت ، ٹھنڈک ، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے ۔ اس کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈی چھاؤں کی مانند ہے ۔ سخت دھوپ میں اس کا دستِ شفقت شجرِسایہ دار کی طرح سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دلاتا ہے ۔ اس کی گود سردی کااحساس نہیں ہونے دیتی ۔ خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے ، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دُنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے۔اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی ۔آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی ۔ وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتی ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی ہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاورکرتی رہتی ہے.
سرکارِ دو جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے ۔”حضرت رابعہ بصری نے کہاکہ”جب میں دنیا کے ہنگاموں سے تھک جاتی ہوں ،اپنے اندر کے شور سے ڈر جاتی ہوں تو پھر میں اللہ کے آگے جھک جاتی ہوں یا پھر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کے جی بھر کے رو لیتی ہوں۔ حضرت شیخ سعدیؒ نے کہا ‘محبت کی ترجمانی کرنے والی اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف ماں ہے”۔ مشہور مفکر اور شاعر علامہ اقبال نے کہا،سخت سے سخت دل کو ماں کی پرنم آنکھوں سے موم کیا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سب سے زیادہ پیار اسی کی گود میں بسا رکھا ہے۔ یہ کائنات اوراس کا ئنات کے سارے رنگ ،اس کی ساری راعنائیاں ،رونقیں ،خوشیاں ، جذبے ،احساسات سب ماں کے وجود سے ہیں۔ ماں اپنے بچوں کے لیے ایک چلتی پھرتی دُعا ہے جو ہر وقت ربّ رحیم کے آگے دامن پھیلائے رکھتی ہے اور قدم قدم پر اُن کی حفاظت کرتی ہے۔ خدا نے اس کے عظیم تر ہونے کی پہچان اس طرح کرائی کہ اس عظیم ہستی کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔ اب جس کا جی چاہے وہ اِس جنت کو حاصل کر سکتا ہے۔اِس کی خدمت کرکے ، اُس سے محبت کرکے اوراُسے عزت و احترام دے کر۔ہر رشتے میں خود غرضی شامل ہو سکتی ہے مگر ماں کے رشتے میں کوئی خود غرضی شامل نہیں ہوتی۔
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا ”یارسول اللہﷺ !میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟“ فرمایا، ”تیری ماں ۔“ پوچھا، ”پھرکون؟“ فرمایا:” تیری ماں۔ “ اُس نے عرض کیا،”پھر کون ؟“فرمایا:”تیری ماں“ تین دفعہ آپ ﷺنے یہی جواب دیا ۔ چوتھی دفعہ پوچھنے پر ارشاد ہوا ۔”تیرا باپ ۔“ دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیاگیا ہے.
ماں دنیا کا ایک انمول ستارہ ہے۔ ماں اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ایک انمول تحفہ ہے جس نے اس کی قدر کی وہ بہت سی خوش نصیب انسان ہے جس نے اس کی خدمت کی اس کو جنت نصیب ہے کیونکہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے جس گھر میں ماں ہے، وہ گھر جنت سے کم نہیں اور جس گھر میں ماں نہیں وہ گھر قبرستان کی مانند ہے۔
ایک ماں کی اپنے بچوں سے محبت ،اس کے جذبات اور احساسات کو بیان کرنے کے لئے آج تک کوئی ایسا پیمانہ ایجاد نہیں ہو سکا اور نہ ہی ایسے الفاظ اترے کہ جو ماں کی محبت کو مکمل طور پر بیان کر سکیں۔ماں کی محبت اس شجر سایہ کی سی ہے کہ جس کے نیچے بیٹھ کر ٹھنڈک اور سکون کا احساس ہوتا ہے اور جو اپنے وجود میں سمیٹ کر دنیا کے ہر دکھ اور غم کو چھپا لیتی ہے۔ماں کی گود سردی کااحساس نہیں ہونے دیتی۔ خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے ، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ماں تجھے سلام :: تحریر: سحر رشید راجپوت” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں