0

طاقت کا توازن :: تحریر: یوسف جمیل

رواں سال کے شروع میں امریکی کیپٹلسٹ پارٹیوں میں خوب خوشی منائی گئی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانا چین کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ اور اس سے ایسا معاشی انحطاط آئے گا کہ کمیونسٹ پارٹی کے لیے اس پر قابو رکھنا ممکن نہ ہوگا۔ لیکن جیسے جیسے چین نے بحالی کی طرف قدم بڑھایا اور کورونا وائرس نے مغرب کی طرف رخ کیا تو وہ غیر دانشمندانہ خوشی اور جوش غیر عقلمندانہ مایوسی میں تبدیل ہوگیا۔
تبصرہ نگاروں نے اس بات پر غصے اور افسوس کا اظہار کرنا شروع کردیا کہ چین کے کورونا وائرس پر قابو پالینے سے اس کی سیاسی اور جغرافیائی برتری ثابت ہوجائے گی اور مغرب اور امریکا اس مقابلے میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ پریشانی اس وجہ سے پیدا ہورہی تھی کہ چین نے کورونا وائرس کے پیدا ہونے کے بارے بہت سے خدشات پھیلا دیے تھے کہ یہ امریکا کی پیداوار تھا۔ اس کے ساتھ چین کے وہ اقدامات جو اس نے کورونا کی روک تھام کے لیے اٹھائے تھے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ چین نے کورونا ریلیف کے نام سے ایک پروگرام بھی عالمی سطح پر شروع کردیاتھا۔ چینی دانشور اور تبصرہ نگاروں نے بھی اسے چین کی فتح قرار دینا شروع کردیا تھا۔ وہ اسے چینی کمیونسٹ نظام کی جیت تصور کر رہے تھے اور خوشی کا اظہار کررہے تھے کہ امریکی اس وبا سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ کورونا کے خلاف عوامی جنگ کی جیت کا سہرا چین کے سر ڈال رہے تھے۔ نظریاتی جنگجوؤں کی تمام تر کوششوں کے باوجود تکلیف دہ سچ یہی ہے کہ اس وبا کے مہلک اثرات کی وجہ سے چین اور امریکا دونوں ہی کمزور ہوجائیں گے۔ اس وبا سے نہ صرف چین بلکہ امریکہ بھی بری طرح متاثرہواہے اور اس کا نتیجہ بین الاقوامی انارکی کی شکل میں سامنے آنے کے خدشات بھی ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس وبا کے تدارک اور ردعمل کے نتیجے میں ایک چیز خبردار کررہی ہے کہ وسیع پیمانے پر کیا ہوگا۔
آنے والے وقت میں تین عوامل عالمگیر سطح پر تبدیلی کا معیار ہوں گے۔ پہلے یہ کہ اس وبا کے بعد بڑی طاقتوں کی معاشی اور فوجی قوت میں کیا تبدیلی آئے گی؟ دوسری بات جو اس سے بھی زیادہ اہم ہوگی وہ یہ کہ ان معاشی اور فوجی تبدیلیوں کو دنیا کس نظر سے دیکھے گی؟ اور تیسری یہ کہ بڑی طاقتیں کیا حکمت عملی اپناتی ہیں؟ ان تینوں عوامل کی بنیاد پر امریکا اور چین اپنے عالمگیر اثرات کے بارے میں ضرور پریشان ہوں گے کہ کس طرح انہیں برقرار رکھیں اور مزید بڑھائیں۔ امریکی اس بات کو لے کر پروپیگینڈہ کر رہے ہیں کہ چین نے کسی کو بھی اس وائرس کے متعلق کوئی آگاہی نہیں دی۔ اس طرح امریکی یہ باور کرانے کی سازش میں لگے ہیں کہ چین ہی نے اپنے لوگوں کو اس وبا سے دوچار کیا اور پوری دنیا میں بھی ان ہی کی وجہ سے یہ وبا پھیل رہی ہے۔ اسی لیے چین کے اندر کمیونسٹ پارٹی میں بھی دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ امریکی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ چین اب مزید اپنی ساکھ قائم نہیں رکھ سکے گا۔ عام توقعات کے برعکس چینی معیشت کو کافی زیادہ دھچکا لگ چکا ہے۔ مغرب کا خیال ہے کہ چین اس معاشی صدمے کو بڑی مشکل سے سہہ پائے گا اور اس کی ملکی پیداوار میں کوئی اضافہ نہ ہوپائے گا۔ جہاں تک امریکی طاقت کا سوال ہے تو صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی بدانتظامی نے دنیا پر یہ واضح کردیا ہے کہ یہ ایسی طاقت ہے جو اپنے بحران سے ہی نہیں نمٹ سکتی تو دوسروں کے بحران سے کیا نمٹے گی۔ امریکا اندرونی طور پر کچھ منقسم سا ہوتا جارہا ہے اور اس وبا کے بعد اس میں اور بھی کمزوری آئے گی۔ لیکن فی لحال امریکی صرف چین کا نام خراب کرنے اور ان کے نقصان پہ خوشیاں منانے میں مصروف ہیں۔ یقینا اس خوشی سے باہر نکلنے تک امریکی جب اپنی طرف دیکھیں گے تب ان کو اپنے نقصان کااندازا ہو گا اور شاید تب تک امریکی حکومت کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں