پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں بہت سے عظیم کھلاڑی گزرے ہیں۔ اورکئی کھلاڑی پاکستانی کرکٹ میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ ھتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن یہاں پر میں ایک ایسے عظیم کھلاڑی کے بارے میں اپنا قلم اُٹھا رہا ہوں جس کا نام عمران احمد خان نیازی ہے، جو کہ اپنے زبردست کھیل اور بہترین کپتانی کی وجہ سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔
عمران خان کا تعلق ایک بہادر پٹھان قبیلہ سے ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے ان کا خاندان لاہور میں قیام پذیر تھا۔ اس وجہ سے عمران خان کو اُردو زبان پر مکمل عبور حاصل ہے۔ عمران احمد خان نیازی 25 نومبر 1952کو لاہور کےتاریخی شہر میں پیدا ہوئے۔ عمران خان نے ابتدائی تعلیم ایچیسن کاج لاہور سے مکمل کی۔ اور اعلٰی تعلیم کے لیے آکسفورڈ کالج انگلینڈ چلے گئے۔ عمران خان نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے معاشیات میں گریجویٹ ڈگری حاصل کی۔اعلٰی تعلیم مکمل کرنے کے بعد عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کے کپتان منتخب ہوئے۔ بچپن سے عمران خان کو کرکٹ کا بے حد شوق تھا۔ کیونکہ اُن کے دو چچاذاد بھائی، ماجد خان اور جاوید برکی، پہلے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم میں کھیل چکے تھے۔ عمران خان نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز سن 1971 میں برمنگھم کے مقام پر بمقابلہ انگلینڈ 18سال کی عمر میں کیا۔ اُنھوں نے 1971سے لے کر 1992 تک پاکستان کےلیے کرکٹ کے میدان میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔اور آخر کار 1992 کو عمران خان کی سربراہی میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے عالمی کپ جیتا۔ اور یوں عمران خان نے پاکستان کے لیے عالمی کرکٹ کپ جیتنے والے پہلے کپتان کا اعزاز حاصل کیا۔
کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کےفوراً بعد عمران خان نے اپنی ذاتی زندگی پاکستانی قوم اور دُکھی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ اور اس سلسلے کی پہلی کڑی شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر کی بنیاد ہے۔چونکہ عمران خان کاشروع ہی سے مذہبی تحریک سے کافی لگاؤ تھا، اُنہوں نے سن 1996 میں پاکستان مومنٹ فار جسٹس کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی زندگی کا سفر شروع کیا۔اس مومنٹ میں اسلامی اقدار کا بڑی حد تک سہارا لیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ عمران خان مذہبی لگاؤ اور ایک ایماندار لیڈر کے طور پر پاکستانی حلقوں میں مشہور ہوئے۔ اوریوں عمران خان نے باقاعدہ طور پر پاکستانی سیاست میں قدم رکھا۔ اُنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے نام سے ایک سیاسیی پارٹی کا اعلان کیا جسے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجسڑ کروایا۔ عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
2002 کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ اپنے آبائی حلقہ میانوالی سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ عمران خان نے ہمیشہ غریب اور مڈل کلاس طبقہ کے لیے آواز اُٹھائی۔ کیونکہ پاکستان میں اس طبقے کی سطح پر انصاف کے تقاضے پورےکرنے میں بے پناہ رکاوٹیں اور کرپٹ مافیا حائل تھی۔
عمران خان نے سن 1995 میں جمائمہ خان سے شادی کی۔ جو کہ انگلینڈ کے مشہور سرمایہ دار سر جیمز گولڈ سمیتھ کی صاحبزادی تھیں۔ جمائمہ خان نے شادی سے پہلے اسلام کو بطور مذہب قبول کر لیا تھا۔ عمران خان کے دو صاحبزادے قاسم خان اور سلیمان خان اُن کے ہاں پیداہوئے۔
عمران خان اپنی باقی زندگی پاکستان میں گزارنے پر بضد تھے اور جمائمہ خان خواہش تھی کہ عمران خان اُن کے ساتھ انگلینڈ شفٹ ہو کراُن کے والد صاحب کے ساتھ کاروبار میں شریک ہو جائیں۔وہیں سے عمران خان اور جمائمہ خان کی سنہری زندگی اختتام پذیرہوئی۔ اور 2004 کو عمران خان اور جمائمہ خان ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔
خان صاحب نے اپنی سیاسی تحریک کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے دن رات محنت شروع کی۔ اور سن 2008 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کرکے اُنھوں نے الیکشن میں حصّہ نہیں لیا۔ تقریباً پانچ سال بعد 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے بھر پور حصّہ لیا۔لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔اور صرف صوبہ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف نے جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی، اور جمہوری اتحاد کے ساتھ ایک مخلوط حکومت بنائی۔ پاکستان تحریک انصاف نے پانچ سالہ اقتدار میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں اچھے کام کیے۔اور اُس پانچ سالہ کار کردگی کی بدولت 2018 کے عام انتخابات میں قدرے بہتر پوزیشن حاصل کی۔ اور مرکزی حکومت سمیت پاکستان کے باقی تین صوبوں میں اپنی حکومت بنائی۔ اور یوں عمران خان پاکستان کا وزیراعظم بنے۔ اُنھوں نے اپنی 22 سالہ جدوجہد کے باوجود پاکستان میں ایک مرتبہ پھر مخلوط حکومت پر اکتفا کیا۔ جو کہ مسلم لیگ ق ،شیخ رشید،جی ڈی اے،ایم کیو ایم،اوراختر مینگل کی مدد سےوجود میں آئی تھی۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کواگر دیکھا جائے تو بہت کم حکومتیں ایسی بنیں جن کا انحصار ایک پارٹی پر ہو۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں کرپٹ مافیا کا کردار شامل ہیں۔ اور اس کرپٹ مافیا سمیت اور بھی بہت سے چہرے ہیں۔ یہ سارے چہرے پاکستانی سیاست میں مختلف مواقع پر مختلف پارٹیوں سے جیت کر حکومت میں شامل ہوئے۔
عمران خان جو کہ پوری دنیا میں ایک ایماندار مخلص نڈر لیڈر کے طور پر مشہور ہیں، اُن کی 22 سالہ جدوجہد کو اس کرپٹ مافیا نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔اور پاکستان تحریک انصاف کو ایک ایسے جال میں پھنسایاہے کہ آئندہ کوئی بھی پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد نہ کرسکےگا۔ کیونکہ عمران خان ان کرپٹ مافیا کی موجوگی میں ایک بھی آزادنہ فیصلہ نہ کر سکے ہیں۔
میری پاکستانی قوم سے اپیل ہے کہ عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس کرپٹ نظام اور کرپٹ مافیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں۔اور ملک خداداد اسلامی جہموریہ پاکستان میں ایک مضبوط اسلامی صدارتی نظام قائم کردیں۔ تاکہ ہماری آئندہ نسلیں اس مغریی کرپٹ مافیا سے محفوظ رہیں۔آمین
پاکستان زندہ آباد اسلامی صدارتی نظام پائندہ آباد۔
0

