بنتِ حوّا اس سوچ میں گم ہے کہ زندگی کا دامن اس کے لئے اس قدر تنگ کیوں ہے؟وہ دنیا میں قدم دھرنے سے پہلے ہی مرد کی سفاکیت کا اندازہ لگا لیتی ہے۔باپ اس کی ماں پر تشدد کرتا ہے، صرف اس لیے کہ اس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی ہے۔آخرمرد کی غیرت فقط عورت پر ہی کیوں جاگتی ہے؟ غیرت کے نام پر قتل اور شک کی بنیاد پر کئی حوا کی بیٹیاں منوں مٹی تلے جاچکی ہیں.لیکن یہی مرد زنا کرے، عزتیں پامال کرے تو اس سے کوئی جوابدہی نہیں ہے۔وہ اپنے آپ کو ہرقاعدے قانون سے آزاد سمجھتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ عورت کے قتل پر معاشرہ قاتل کا طرف دار دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ عورت مہر و فا، عورت کہیں ممتا، کہیں ہمشیرہ توکہیں شریک حیات، بیٹی کی شکل رحمت، اہلیہ کی صورت نصف ایمان اوراس سے بڑھ کر یہ کہ جنت اس کے قدموں تلے۔
اقبال نے کیا خوب کہا۔۔
؎ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِدروں
ان سب حقیقتوں کے باوجود پاکستان میں سینکڑوں لڑکیاں اس لیے قتل کردی گئیں کہ انہوں نے پسند کی شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
کاش! میری یہ فریاد ہر باپ تک پہنچ جائے کہ وہ بیٹی کی پیدائش کو بُرا نہ جانے، بیٹی سے محبت کرے،اُس پر شفقت کرے، اُسے ایذا نہ دے، (مَعَاذَاللہ) اُسے قتل نہ کرے، بلکہ اُس کی قرآن و سنّت کے مطابق بہترین تربیت کرکے آخرت میں ثواب کا مستحِق بنے۔
جس شخص پر بیٹیوں کی پرورش کا بوجھ آپڑے اور وہ ان کے ساتھ حُسنِ سُلوک(یعنی اچھا برتاؤ)کرے تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنَّم سے روک بن جائیں گی۔(مسلم،ص1084،حدیث:6693)
یہ سب جانتے ہوئے بھی ہم نے حوا کی بیٹی کو ظلم اور حوس کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آئے روز پاکستان میں کہیں غیرت کے نام پر بہن بیٹی کو قتل کر دیا جاتا ہے تو کہیں بیٹی پیدا ہونے پر عورت کو یا تو طلاق دے دی جاتی ہے یا اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اور کبھی معصوم زینب جیسی بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کچھ کیس جو میڈیا کی وجہ سے سامنے آجاتے ہیں، ان پر تو عدالت اور سول سوسائٹی آواز اٹھا لیتی ہے لیکن چند دن شور مچتا ہے، پھر خبر اندرونی صفحات کے کونوں کھدروں میں دب جاتی ہے اور لوگ بھول جاتے ہیں۔ نہ جانے کتنی عورتوں اور بچیوں کی عزتیں گاؤں کی پنچایت کے ایماء پر سرعام لوٹی گئی ہوں گی۔ لیکن بے کس اور مجبور اپنے ہی باپ بھائیوں کے آگے روند ڈالی جاتی ہیں اور ان کا کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ کیونکہ ”باعزت مرد“ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو خود ”ونی“ کردیتے ہیں۔
کہیں 70 سالہ بوڑھے کو 13 سالہ بچی ونی کردی جاتی ہے۔ کہیں پنچایت زبردستی کے فیصلوں سے بیٹیوں کو وڈیروں کے نکاح میں دے دیتی ہے، اور کہیں ان بیٹیوں پر ایسے فیصلے مسلط کیے جاتے ہیں جن سے زمین پھٹ جاتی اور آسمان شرما جاتا ہے۔
کیا یہی ہے پاکستان کا اصلی چہرہ؟ جرم مرد کریں اور اس جرم کی سزا عورت بھگتے۔ کمسن، نابالغ اور کنواری بہنیں اور بیٹیاں بھگتیں۔
اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہ بہت عظیم ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ ماں بنتے ہی اس کے قدموں تلے جنت آ جاتی ہے۔ایدھی فاونڈ یشن کو گزشتہ سال میں پورے ملک سے تقریباً 355 مردہ نومولود بچوں کی لاشیں کوڑے کے ڈھیر سے برآمد ہوئیں۔ جن میں سے99 فیصد لڑکیاں تھیں۔ شاید لوگ انسان بننے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ سفاکی بڑھتی جارہی ہے اور انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ تعلیم یافتہ طبقہ بھی بیٹی پر بیٹے کو ترجیح دیتا ہے۔ ا ٓخر یہ سب کب تک چلتا رہے گا؟ آخر عورت کی حیثیت کو کب تسلیم کیا جائے گا؟ اس پر تشدد کی خبریں نہ جانے کب آنا بند ہوں گی؟ کب وہ معاشرے میں بحیثیت عورت بِنا کسی خوف و ڈر کے چل سکے گی؟آخر کب تک عورت اس ظلم کا نشانہ بنتی رہے گی؟اگر عورت کبھی اپنے او پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا لے تو ہمارے معاشرے میں مرد کہلانے والے نامرد اس سے اس کا یہ حق بھی چھین لیتے ہیں۔
کنواری لڑکی کو ہمارے معاشرے کے حوس کے پجاری حوس کی نظر سے دیکھتے ہیں۔خیر کنواری کیا ان حوس کے ماروں نے تو معصوم بچیوں کیا بچوں تک کو اپنی حوس کی تسکین کا نشانہ بنایا ہے۔ اس معاشرے میں خواتین کیا چھوٹا بچہ تک محفوظ نہیں ہے۔
بیٹی کا تو مقام ہمارے اللہ نے بہت بلند رکھا ہے۔ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل بھی ان کی بیٹی حضرت بی بی فاطمہؓ سے چلی۔
”رسولؐ کی دُعا سے بیٹی پیدا ہوئی،بیٹی کی خاطر تو سورہ کوثر کا نزول ہوا۔بیٹی نے باپ کو ماں کی طرح پالا ہے، پتھر کھاتے رسولؐ کوبیٹی نے سنبھالا ہے۔ اور ایک بیٹی نے ہی بعدِ کربلا، علی ؑ کے کردار کو نبھایاہے۔بیٹی کے خوف سے یزید شام سے مفرورہوا۔بیٹی نے قید خانے کو عزاخانہ بنادیا،بیٹی نے اسلام کو جینا سکھادیا ”
معاشرے کی ایسی درناک داستانیں سن کر خون کھول اٹھتا ہے دین اسلام نے معاشرے میں ماں بہن بیٹی کو تو اعلی درجہ عطاء کیا تھا پر معاشرہ ان کے ساتھ کیا کر رہا ہے کیا مرد کی حاکمیت یہی ہے جب عورت اپنے جائز حقوق مانگے تو اسے قتل کر دو؟ اپنے گناہوں کی معافی کے بدلے اپنی بہن اور بیٹی کو سولی چڑھا دو؟ اور اپنے بدلے کی آگ بجانے کے لئے کسی کی بہن بیٹی کو سر بازار برہنہ کر کے گلیوں میں رسوا کرتے رہو؟کیا ان کی کوئی عزت، کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہے؟
ایک عورت کی زندگی کیا ہے:
بابا میں اس عید پہ ساڑھی بنواؤں گی۔
”اپنے شوہر کے گھر جا کے پہننا بیٹا،کنواری لڑکیوں کو یہ زیب نہیں دیتا ”
ماں میں لہنگا پہنوں گی بھائی کی شادی پہ۔
”اپنی شادی کے بعد پہننا”
گھر کے اس حصے میں پودے لگا لوں؟؟
” یہ شوق اپنے گھر جا کے پورے کرنا”
ماں اس بار سرخ رنگ کا سوٹ لے دو ناں۔
” کنواری لڑکیاں سرخ رنگ نہیں پہنتیں, اپنے گھر جا کے لینا ”
یہ لپ اسٹک اچھی لگ رہی ناں میرے پہ؟؟
”یہ بناؤ سنگھار اپنے گھر جا کے اپنیشوہر کو کر کے دکھانا”
اور جب شادی ہو جائے:
سنئے، عید پہ ساڑھی بنوا لوں میں؟؟؟
” وہ کوئی پہننے کی چیز ہے؟ کوئی ڈھنگ کا سوٹ سلوانا جو بعد میں کام بھی آئے ”
سنیں،آپکی بہن کی مہندی پہ لہنگا پہنوں گی میں۔
”اپنی شادی پہ پہن کے شوق پورا نہیں ہوا؟ کچھ ڈھنگ کا پہن لو”
ساسو ماں اس جگہ پودے لگا لوں میں؟
”یہ شوق اپنے باپ کے گھر پورے کر کے آتی بی بی”
سنئے،میں اس بار سرخ رنگ کا سوٹ لوں گی۔
”مجھے پسند نہیں اتنے شوخ رنگ۔ کسی ہلکے رنگ کا لینا”
آج یہ لپ اسٹک لے کے آئی ہوں میں۔
” تمھیں پتا ہے مجھے نفرت ہے اس سے۔ لیکن تمھیں میری پسند نا پسند سے کیا فرق پڑتا ہے؟”
اپنے شوہر کے گھر جا کے لینا۔
اپنے باپ کے گھر میں کرتی یہ سب۔
اپنے گھر کو سجانا۔
یہ تمھارا گھر نہیں ہے۔
عورت کا گھر آج تک نا معلوم ہے۔
عورت آج تک لاوارث ہے۔
کیا عورت رہتی دنیا تک لاوارث رہے گی؟
کیا ایک بیٹی،ایک بہن،ایک ماں کا اس معاشرے پر کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی ہی زندگی گزار سکے؟ کیا اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ بنا کسی خوف کے باہر جاسکے ہمارے معاشرے میں ایسے مردوں کے لیے جن کی وجہ سے خواتین باہر نکلنے سے ڈرتی ہیں ان کے لیے کوئی قانون نہیں ہے؟
ایک ماں اپنی پانچ سالہ بچی کو اس خوف سے باہر کھیلنے کو نہیں بھیجتی کہ کہیں اس کی بیٹی کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو جائے۔
عدالت کو عوام میں اپنا اعتماد بحال کرنے کے لیے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ضروری ہے اور یہ حکومت کی جانب سے خواتین کے لیے کم سے کم اقدام ہے۔ حالات کو عوام کے لیے بغیر کسی طبقاتی، مذہبی اور جنسی تضاد سے پاک کرنا حکومت کی ہی زمہ داری ہے۔ تمام خواتین جو غیرت کے نام پر ظلم کا نشانہ بنیں یہ واقعات ساری زندگی انہیں خوف میں مبتلا رکھیں گے۔ ایسی خواتین کو نچلے طبقات میں سزا کے طور پر بیاہ دیا جاتا ہے اور خاندان کے معاملات سے عاق کردیا جاتا ہے۔ وہ پھر ظلم کی ایک نئی دنیا میں داخل ہوجاتی ہیں جہاں اپنے اوپر ہونے والے ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں کالی اور بدکردار عورت ہونے کا الزام دے دیا جاتا ہے۔
ایک بیٹی ایک بہن خاص کر ایک عورت ہونے کے تحت میں امید کرتی ہوں کہ آنے والے دنوں میں ہماری حکومت ان مجرموں کے خلاف ایسے قانون بنانے گی کہ جرم کرنے والے سو بار سوچے۔ایسی کڑی سے کڑی سزائیں سنائی جائیں کہ مجرم کسی کی بہن بیٹی کی عزت پامال کرنے سے پہلے کا نپے۔
0

