0

باتیں نہیں کام :: تحریر: حافظ مدثر رحمان

میں اکثریت سے یہ بات سنتے آیا ہوں کہ حضرت یوسفؑ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس یوسفؑ نے اپنے ملک کو کیا “معاشی پروگرام” دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔

سب صرف یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ کی بادشاہت اتنی دبدبے والی تھی کہ جنات بھی ان کے ماتحت تھے مگر کوئی نہیں بتاتا کہ وہ بے پناہ “سیاسی بصیرت” رکھنے والے بادشاہ تھے۔اپنے ملک فلسطین [صنعتی اکانومی ] اور ملکہ بلقیس کے ملک یمن [ذرعی اکانومی ] کے درمیان دو طرفہ معاہدہ کے نتیجے میں خطے کو جس طرح خوشحالی دی، آج کی جدید دنیا بھی اس کی مثال نہیں دیتی ۔

مجھے سب یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ کی زلفیں “والیل” اور رخِ مبارک “والضحی”، مگر اس سے آگے کبھی کوئی یہ نہیں بتاتا کہ جس معاشرے میں لوگ غربت سے تنگ آ کر ہمہ وقت لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت گری کرتے رہتے تھے وہاں حضرت محمد ﷺ کس طرح “ہمہ گیر تبدیلی” لائے، وہ وقت بھی آیا کہ زکوۃ دینے والے تو بہت ہو گئے مگر کوئی ایسا غریب نہ رہا کہ اسے زکوۃ دی جاتی۔

اس دو جہتی دنیا میں جہاں آدھی دنیائے انسانیت قیصر روم اور آدھی کسری ایران کے ظلم و استبداد کا شکار تھی وہاں انسانیت کی تذلیل کرنے والا اور ان کے حقوق کو پامال کرنے والا کوئی نہ رہا ۔

مجھے انبیاء کے “کردار” کا تعارف چاہیے کیونکہ میرا معاشرہ بھی آج قیامت خیز فساد کا شکار ہے۔ انسانیت آج بھی اس بائی پولر ورلڈ میں الجھی ہوئی ہے، انسانیت آج بھی سسک رہی ہے ،عزتیں آج بھی ویسے ہی نیلام ہو رہی ہیں، بیٹے آج بھی مذہب کے نام پہ ذبح ہورہےہیں۔
کیا تھی وہ عیسیٰ کی عدم تشدد کی حکمت عملی؟ کیا تھی وہ موسیٰ کی فرعون کے خلاف آزادی کی تحریک؟ کسی کو قتل بھی نہ ہونے دیا اور آزادی بھی حاصل کر لی۔ ہمیں انبیاء کے کردار کا بھی تعارف چاہیے صرف شکل و صورت کا ہی نہیں۔

اس دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ پچھلے دنوں فلم انڈسٹری کے دو اداکار اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے تو گویا سوشل میڈیا پر جیسے بھونچال آ گیا ہو ۔ لیکن اسی سوشل میڈیا کے صارفین کو یہ نظر نہیں آیا کہ کشمیر میں کتنے معصوم مسلمان نہتے بے گناہ مارے جاتے ہیں۔ وہ اداکار تو اپنی طبعی موت مرے ہیں لیکن ان مظلوموں کا کیا قصور ہے؟ کیا ان کا یہ قصور ہے کہ وہ ایک آزاد ریاست کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں؟ کیا ان کا یہ قصور ہے کہ وہ اپنی زندگی کا تحفظ چاہتے ہیں؟

16 رمضان المبارک عالمِ اسلام کیلئے ایک نہایت اہمیت کا حامل دن ہے۔ یقیناً بہت سارے مسلمانوں کو اس بات کا علم تک نہیں ہو گا کہ اس دن کیا ہوا تھا۔ ایک ایسی ریاست جو اسلام کے نام پر حاصل کی گئی۔ وہ ریاست جس کے باسیوں کا نعرہ ہوا کرتا تھا ” لا الہ الا اللہ“۔ آج اسی ریاست کے باسیوں کو یہ تک نہیں پتا کہ 16 رمضان کو کیا ہوا تھا۔

ہم اگر خود کو مسلمان کہلواتے ہیں تو ہمارے قول و فعل میں تضاد کیوں ہے۔ یوں تو ہم مسلمان ہیں لیکن پیروی ہم اہلِ مغرب کی کرتے ہیں۔ ہمیں یہ تو یاد رہتا ہے کہ ویلنٹائنز ڈے کب ہے، لیبر ڈے کب ہے ، ماؤں کا عالمی دن کب ہے لیکن یہ یاد نہیں رہتا کہ 16 رمضان کو مکہ فتح ہوا تھا ۔

وطن عزیز میں مدینہ جیسی فلاحی ریاست قائم کرنے کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے لیکن اس پر عمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ مدینہ جیسی فلاحی ریاست تبھی قائم ہو سکے گی جب ہم مدینے کے حکمرانوں جیسا کردار اپنائیں گے۔ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اس سے اگلے دن اپنے کاروبار کےلئے نکلنے لگے تو حضرت عمر نے روکا کہ اگر آپ بازار جائیں گے تو امت کا خیال کون رکھے گا؟ چہ میگوئیاں ہونے لگ گئیں کہ اب خلیفئہ وقت کیا کریں گے؟ اپنے اہل و عیال کے نان و نفقہ کیلئے کیا ذریعہ معاش اختیار کریں گے ۔ شوریٰ نے یہ فیصلہ دیا کہ بیت المال سے آپ کی تنخواہ مقرر کی جائے تو لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کتنی تنخواہ ہونی چاہیے؟ تو خلیفہء وقت نے کہا جتنی مدینے میں ایک مزدور کی تنخواہ ہے ۔ تو لوگوں نے سوال کیا کہ کیا اتنی تنخواہ میں آپ گزارا کر لیں گے تو انہوں نے کہا کہ اگر میرا گزارا نہ ہوا تو میں مزدور کی تنخواہ بڑھا دوں گا۔

یہ تھے وہ حکمران جن کی بدولت مدینہ ایک فلاحی ریاست بنا۔ کیا وطن عزیز میں حاکمِ وقت اور مزدور کی تنخواہ برابر ہے؟کیا طاقتور اور کمزور کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جاتا ہے؟ کیا شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پی رہے ہیں؟ کیا ویسا عدل و انصاف عوام کو میسر ہے؟ مدینے کے حکمران تو کہتے تھے کہ اگر دجلہ کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مرا تو اس کا میں جواب دہ ہوں گا لیکن یہاں کے حالات تو کچھ اور منظر پیش کرتے ہیں ۔ سندھ میں کتنے غریب بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور بھوک سے مر جاتے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جہاں بینظیر انکم سپورٹ جیسے پروگرام کے نام پر خود عہدے دار ہی مستفید ہوتے رہیں گے تو غریب ایسے ہی بھوک سے مرتے رہیں گےمدینے کے حکمرانوں کو کبھی ٹائیگر فورس کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ خود اپنے کندھوں پر راشن ڈال کر اپنی عوام کے گھروں تک پہنچاتے تھے۔

اگر آج دنیا کے کونے کونے میں مسلمان تنزلی اور تذبذب کا شکار ہیں اور اہلِ مغرب کے تسلط کے نیچے دب چکے ہیں اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کے بوجھ تلے کچلے جا رہے ہیں تو یقیناً یہ ہمارا اپنا قصور ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ خوشحالی کے تمام وظیفے ہمارے پاس ہونے کے باوجود ہم کیوں تنگدست اور مفلوک الحال ہیں؟ جب اسلام ہمیں ایک ایسا نظام دیتا ہے جس کی پیروی کرتے ہوئے ہم ہر طرح سے خوشحال ہو سکتے ہیں تو ہم کیوں اہلِ مغرب کی پیروی کر رہے ہیں؟ ہمیں محض باتوں سے کام نہیں لینا اس کیلئے کچھ کر کے دکھانا پڑے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں