0

امریکہ میں غلامی پر پابندی لگانے والا صدر ::‌ تحریر: فراز احمد وٹو

آپ نے اگر زندگی میں مشکلات اور ناکامیوں میں گھِرنے کے باوجود تاریخ میں کامیاب انسان کے طور پر یاد رکھے جانے والے کسی ہیرو کی کہانی پڑھنی ہے تو امریکہ کے 16ویں صدر کی زندگی پر لکھی 1400کتابوں میں سے چند پڑھ لیجیے۔ ان کی زندگی پر کئی موویز اور ڈرامے بھی بنے ہیں، وہ بھی دیکھ لیجیے۔ یقین کیجیے، آپ اس کے بعد کسی بھی ناکامی کے باوجود خود کو کسی سپر ہیرو سے کم نہیں سمجھیں گے۔
نیو اورلینز امریکی ریاست لیوزیانا کا ایک قدیم تجارتی شہر ہے جس میں آج سے 192 سال پہلے ایک غریب نوجوان کا گزر ہوا تو وہ اس شہر کی گہما گہمی اور ساحلوں پر لنگر انداز بڑے بڑے بحری جہاز دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ وہ ایک دیہاتی تھا۔ اسے نہ اچھے کپڑے پہننے کی سینس تھی نہ ہی وہ اچھی انگریزی بول سکتا تھا۔ شہر اسے اپنے سحر میں لیے کھڑا تھا کہ اس کے سامنے ایک منظر گزرا اور پھر ساری عمر وہ اس منظر کو بھول نہ سکا۔
اس نے دیکھا کہ شہر کی مرکزی مارکیٹ میں انسانوں کی خریدوفروخت ہو رہی ہے۔ انسانوں کو اجناس کی طرح خریدا اور بیچا جا رہا ہے۔ زنجیروں میں جکڑے سینکڑوں انسانوں کو جہازوں سے اتارا اور چڑھایا جا رہا ہے۔ ظلم یہ تھا کہ نیو اورلینز کے بازاروں میں یہ اشتہارات لگے ہوئے تھے کہ کس جگہ کتنے بجے کتنے انسانوں کی بولی لگے گی اور ان میں کتنے مرد،کتنے بچے اور کتنے بوڑھے ہوں گے۔ یہ بھی لکھا ہوتا تھا کہ خریدار کیش لے کر آئیں کیونکہ غلام بیچنے والی کمپنی ادھار پر ڈیل نہیں کرتی۔ ستم یہ تھا کہ یہ سب کے سب غلام سیاہ فام تھے۔ سفید رنگ نے امریکہ میں سیاہ رنگ کو غلام بنا رکھا تھا۔ اس دیہاتی نوجوان نے یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور باقیوں کی طرح گونگا، بہرہ اور اندھا بننے کی بجائے اندر ہی اندر کڑھنے لگا۔ وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا کیوں کہ وہ تو خود ایک کشتی کا معمولی سا ملازم تھا۔ پھر بھی، اس نے ایک ارادہ کیا اور اپنے دوست سے کہا ”میں یہ دھندا بند کروا دوں گا“۔ یہ کام کرنے کی خاطر اسے امریکہ کا طاقتور ترین انسان بننا پڑنا تھا اور یقین کریں، اس نے کیا بھی یہی! دنیا آج اس عام سے دیہاتی نوجوان کو دنیا ابراہم لنکن کے نام سے جانتی ہے۔
لنکن ایک موچی کا بیٹا تھا۔ غربت کی وجہ سے اسے پڑھنے سے روک دیا گیا۔ ویسے بھی، غریب کے پڑھنے کو امیر امریکی پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا اس کے بعد غریب ان کے مقابلے پر آ جائے گا۔ لنکن جوتے بناتا اور کشتی چلاتا لیکن راتوں کو کتابیں بھی پڑھتا رہا۔
اسے علم ہوا کہ جس دریا میں وہ کشتی چلاتا ہے اس کے پار ایک ریٹائرڈ وکیل رہتا ہے تو اس نے اس کے ہاں ملازمت کر لی۔ وہ اس کے سارے کام کرتا اور بدلے میں صرف اس کی کتابیں پڑھتا۔ اس کی کتابیں ختم کر کے وہ نوکری چھوڑ آیا اور اپنے گاؤں آ کر مختلف کام کیے۔ اس نے الیکشن میں بھی حصہ لے ڈالا جس میں وہ ہار گیا۔ مزید کچھ سال وہ کبھی لکڑہارا بنا، کبھی پوسٹ مین اور کبھی سروے والوں کے ساتھ کام کرتا رہا۔ پھر ایک دوست کے ساتھ مل کر سٹور بنا لیا مگر ساتھ ہی الیکشن بھی لڑا جس میں اپنی اچھی ساکھ کے باعث وہ جیت گیا۔ اس سے کمائی تو کچھ نہ ہوئی مگر سٹور کا کام الجھنے لگا۔اس عرصے میں اسے ایک لڑکی سے عشق بھی ہوا جس کی سال کے اندر ہی وفات ہو گئی۔ لنکن ٹوٹ گیا لیکن ستم ابھی باقی تھے۔ اس کے سٹور کا کو آنر اور دوست بھی مر گیا اور سٹور کے باعث لنکن پر ایک بھاری قرض چڑھ گیا جسے اتارنے میں اسے کئی سال لگ گئے اور لنکن اسے ”صدی کا قرض“ کہتا تھا۔
لنکن اس کے بعد سپرنگ فیلڈ چلا گیا جہاں وہ وکالت کرنے لگا۔ اس کی شادی ایک امیر باپ کی بیٹی میری ٹارڈ سے ہوگئی اور وہ دو سال بطورِ امریکی ایوانِ نمائندگان کا رکن بن کر واشنگٹن ڈی سی بھی رہ آیا۔ تاہم اس کی کوئی خاص مقبولیت نہیں تھی اور اس کے خیالات کی وجہ سے اس کے ووٹر بھی اس سے نالاں تھے سو لنکن نے سیاست سے مستعفی ہونے کا پلان بنایا جو کہ اسے جلد ہی بدلنا پڑ گیا۔
جن دنوں وہ سیاست چھوڑ رہا تھا، تب یہ بحث زوروں پر تھی کہ امریکہ میں غلامی پر پابندی لگائی جائے یا نہیں؟ امریکہ کی شمالی ریاستوں میں صنعتی انقلاب آیا تھا جس سے بہت سے لوگوں کو روزگار ملا تھا۔ لیکن مل مالکان سیاہ فاموں کو لا کر مفت کام کروا سکتے تھے جس سے ان سفید فاموں کا روزگار خطرے میں تھا۔ لنکن سیاست میں غلامی کے خاتمے کے حمایتی کے طور پر کود پڑا۔ وہ اپنے مخالفین سے گھنٹوں بحث مباحثے کرتا جسے لوگ مزے سے سنتے اور پرنٹ میڈیا مصالحے لگا لگا کر عوام کے سامنے پیش کرتا۔ اس کا کہنا تھا کہ آپ صرف ایک صورت میں سیاہ فاموں کو غلام رکھ سکتے ہیں اگر آپ انہیں انسان ماننے سے ہی انکار کر دیں۔
اپنے حلقے سے وہ سینیٹ کے الیکشنز ہار گیا لیکن ایک نئی پارٹی، ری پبلکنز نے اس کی ملک گیر شہرت کے پیش نظر اسے صدارت کا ٹکٹ دے دیے۔ اس کے مقابلے میں ڈیموکریٹس نے دو امیدوار صدارت کے لیے میدان میں اتار دیے جن کے مجموعی ووٹوں سے لنکن کے ووٹس 3 لاکھ کم تھے لیکن انفرادی حثیت میں وہ الیکشن جیت کر امریکہ کا نیا صدر بن گیا۔
اس کے صدر بنتے ہی جنوبی ریاستوں (جن کے زمیندار زراعت کیلیے غلام رکھتے تھے) نے امریکہ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ صدر بننے کے بعد ریاستوں کو متحد کرنا لنکن کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ امریکہ میں 1961 سے لے کر 1965 تک خانہ جنگی ہوتی رہی۔ اس عرصے میں لنکن جنگ کے قوانین کی ساری کتابیں چاٹ گیا۔ اس نے جنگی حکمتِ عملیاں جرنیلوں سے ڈسکس کیں اور سست جرنیلوں کو یا ریٹائر کرتا رہا یا کمان ان سے چھین کر قابل فوجیوں کے حوالے کرتا رہا۔ یکم جنوری 1963 کو اس نے سب غلاموں کو آزاد شہری قرار دے دیا تھا اور اس دن اس نے اپنا پورا نام ابراہم لنکن لکھ کر دستخط کیے۔ بالآخر لنکن اپنی ثابت قدمی اور حق گوئی کے باعث سر خرو ہوا۔ 15 اپریل 1965 کو ایک مشتعل اداکار نے سینما میں ابراہم لنکن کو قتل کر دیا مگر اس کے بعد امریکی سینیٹ نے دسمبر 1965 کو ایک قانون پاس کر کے امریکی آئین میں 13ویں ترمیم کی اور غلامی پر پابندی عائد کر دی۔
پاکستان میں بھی ایک طبقہ بڑے عرصے سے محرومیوں میں گھرا ہے۔ ان کا حال بھی ریڈ انڈینز اور سیاہ فاموں سے مختلف نہیں۔ ان کے لیے اسمبلیوں میں عوامی نمائندے آواز اٹھاتے رہتے ہیں لیکن ان سب کو غدار قرار دینے کی کوشش کہ جاتی ہے۔ اگر ان عوامی نمائندوں نے ہمت نہ ہاری اور نو جوان ڈٹ گئے تو پاکستان کا یہ محروم طبقہ بھی غلامی سے نجات پا لے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں