والٹر لپمن ایک امریکی تجزیہ نگار،صدر صحافتی تنظیم اور مشہور لبرل (آزادخیال) جمہوریت کے تصور کے بانیوں میں سے ایک تھا۔ اس نے آج سے اسی پچاسی سال قبل کے امریکی پراپیگنڈے میں حصہ لیا تھاجس کے ذریعے عوامی رائے کو جنگ کے حق میں ہموار کیا گیا تھا۔ ہوا یوں کہ سن انیس سو سولہ میں ووڈ رو ولسن جو کہPeace without victory نامی پلیٹ فارم کا صدر بنا (یہ پہلی جنگ عظیم کے درمیان کی بات ہے)تو اس وقت امریکی عوام امن پسند تھی اور اسے یورپین جنگ سے قطعی کوئی سروکار نہیں تھا۔ لیکن ولسن کی انتظامیہ جنگ کیلئے پرعزم تھی اور اس مقصد کیلئے انہیں کچھ کرنا تھا۔ انہوں نے سرکاری پراپیگنڈہ کمیشن تشکیل دیا جس نے چھ مہینے کے اندر عوامی رائے عامہ ہموار کی اور پرامن عوام کو نفسیاتی بنا کر جنگ کے سوداگروں میں بدل ڈالا جو جرمنوں سے سب کچھ چھین لینا چاہتے تھے، جینے کا حق بھی۔اب عوام چاہتے تھے کہ جنگ لڑیں دنیا بچالیں۔ آج سے کئی دہائیوں قبل اگر یہ پراپیگنڈہ کامیاب ہوا تو اس وقت ذرائع ابلاغ محدود تھے۔ پراپیگنڈے کی غرض سے اس وقت کے دانشوروں، میڈیا، دیگر بااثر لوگوں اور ذرائع کی مدد لی گئی۔یہ طریقہ کامیاب ہوا، فائدے اٹھائے گئے۔اس وقت اور بعد میں سرد جنگ کے دوران یہی داؤ آزمائے گئے جس سے جنگی جنون کو بڑھاوا ملا۔ تنظیمیں ٹوٹیں اور خطرناک مسائل جیسے آزادیئ صحافت، آزاد سیاسی سوچ ختم کرنے میں مدد ملی۔ان کو ترقی پسند سوچ رکھنے والے دانشور، اشرافیہ، کاروباریوں کی بھرپور تائید حاصل رہی۔ایسے ایسے قصے کہانیاں سننے میں آئیں جن کا سر تھا نہ پیر، مگر عوام نے ان پر یقین کیا۔اس دور میں بیلجین بچوں کے ہاتھ کاٹے گئے جیسی دلخراش کہانیاں بنائی گئیں۔ ان میں زیادہ تر برطانوی پراپیگنڈہ وزارت کی ایجاد کردہ تھیں۔ مقصد سوچ کو مرضی کے مطابق ڈھالنا تھا بلکہ معاشرے کے دانشور افراد کی سوچ پر قابو پانا تھا کہ وہ رائے عامہ ہموار کریں۔ ان کے افکار کو پھیلا کر اور عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کرنے پر ایک کردیں۔ طریقہ کامیاب رہا۔ مگر سماجی علوم میں کوئی بھی نظریہ کوئی بھی طریقہ کار ہمیشہ ایک جیسے نتیجے نہیں دیتا ہے تو یقینا وقت حالات اور موجودہ ٹیکنالوجی کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ جہاں ابلاغ کے ذریعے بڑھ رہے ہیں وہاں لوگوں کی سوچ رویئے بھی تنوع پارہے ہیں۔ اس کو نسلی تضاد کہہ لیں۔ عوام کی معلومات تک رسائی کی آسانیوں کا بڑھنا بے تحاشا اور ہر قسم کی معلومات ان کو مل رہی ہے یہ عوامل یقینا ان کی سوچ و افکار میں تبدیلیاں لاتے ہی ہے۔ اور پھر ان تبدیلیوں پر ردعمل کیسا آئے گا یہ تو بڑے سے بڑا سوشلسٹ آج تک دعوے سے پیش گوئی نہ کرسکا۔
اس کا ذکر یوں نکلا کہ لپمن کہتا ہے ترقی پسند جمہوریت میں دو طرح کے طبقے ہوتے ہیں۔ ایک اقلیتی مگر بااثر طبقہ جو دانشوروں، اور ان اثر رسوخ رکھنے والے اشرافیہ پر مشتمل ہوتا ہے جو عوامی امور پر اثرانداز ہوتے ہیں۔مسائل کا تعین ان کا حل نکالنا عوامی رائے عامہ اپنے مفادات کے حق میں ہموار کرنا مستقبل کے فیصلے کرنا اور عوام سے منوانے کے طریقے ڈھونڈنا ان کا کام ہے۔دوم بڑی آبادی یعنی عوام جن کو اس نے bewildered herd یعنی حیران ریوڑ کا نام دیا ہے۔ اس کے نزدیک یہ احمق لوگ ہیں۔ ان پر اگر ان کے معاملات چھوڑے گئے تو یہ خود کو خود ہی تباہ کر لیں گے اور اشرافیہ کی حکمرانی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ تو اس احمق جتھے کا کام صرف تعمیل کرنا ہے۔ اب چونکہ ہم جمہوریت کا حصہ ہیں تو ان بے عقل لوگوں کو صرف یہ فیصلہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے کہ کون ان پر حکمرانی کرے۔تاہم ان کو حکمرانی کی اجازت نہیں۔یہ حیران ریوڑ یازیادہ لغوی اصطلاح میں اس مبہوت گلے کو فیصلے لینے کا حق نہیں تاہم ان کے لیے فیصلے لینے کیلئے کسے متعین کیا جائے،اس انتخاب کا حق انہیں حاصل ہے۔یعنی انتخاب کا حق ہے حکمرانی کا نہیں۔ یہ سوچ یقینا حیران کن ہے۔ان تمام جمہوریت پسند لوگوں کے لیے جو سوچتے کہ جمہوریت کی کتابی تعریف عوام کی حکومت، عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے ہی ہے مگر ایسا نہیں۔ جمہوریتیں بھی عوام کو ریوڑ سمجھ سکتی ہیں۔ان کو انتخاب کا حق تو دیتی ہیں مگر حکمرانی کا نہیں۔مگر 80 سال کے بعد یونہی ایک امریکی ویڈیو فیس بک پر آجاتی ہے جس میں طاقت کے نشے میں چور ایک گوری چمڑی والا ایک کالے تنومند جوان مرد کو گرفتار کرنے کی نیت سے اسکی گردن اپنے گھٹنے سے دبا کر بے حسی سے مار دیتا ہے۔ اس کو فیس بک کے ذریعے تیسری دنیا تک کے ممالک دیکھ بیٹھتے اور پھر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوتا یے۔امریکی ایوان ہل کے رہ جاتے ہیں وہ جمہوریت جس کی بنیادیں مضبوط ترین سمجھی جاتی ہیں آج اس کے وجود پر سوالیہ نشان کھڑا ہے کیوں کہ کچھ حیران ریوڑ کے احمق باسی اشرافیہ کے دکھائے سبز باغوں کو دیکھنے کی بجائے آنکھیں کھول بیٹھے ہیں۔ایک عورت کی بنائی ویڈیو کچھ لوگوں کے دیکھ لینے پر اتنا حشر برپا کرسکتی ہے۔کون جانتا تھا۔ لپمن کو پتہ نہیں پتہ تھا کہ بیولڈرد ہرڈ اتنے بھی احمق نہیں ہوتے۔ اب کی گردن دبائی جائے تو وہ اپنے گلے میں ڈلا اشرافیہ کا پٹہ توڑ کر آزاد بھی ہو سکتے ہیں۔اب حال یہ ہے کہ کرونا کے خطرے اور خوف کے باوجود امریکی کالے احتجاج پر اترے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کو خواب بھی یقینا کالے آرہے ہونگے۔جبھی ان احتجاجی مظاہروں کو ختم کرانے کیلئے اس نے فوج کی مدد لینے کا اعادہ کیا اور وہاں اسے ایک باضمیر امریکی فوجی سربراہ سے یہ سننے کو ملا کہ ان کا حلف ٹرمپ نہیں بلکہ آئین امریکہ کی حفاظت کا ہے۔ ویسے تو یہ حلف ہر ملک کی فوج لیتی ہے مگر وہاں اس حلف کی پاسداری کرنے والا سربراہ بھی ہے۔ کوئی بھی فوج اپنے ہی لوگوں پر وار نہیں کر سکتی یا یوں کہہ لیں کوئی بھی باضمیر فوجی اپنے ہی لوگوں سے جنگ نہیں کر سکتا۔
اب امریکہ کے وہ سب وار پراپیگنڈہ، کرونا پر سیاسی بیانات کہ یہ چین کی شرارت ہے وغیرہ اور ایران کو دی جانے والی تڑیاں سب گئیں کھڈے لائن یعنی بولڈرڈ ہرڈ اب قابو سے باہر ہیں انہیں سپر پاور ہونے کا لالی پاپ دے کر بہلانا مشکل ہے۔ان کو کرونا چین کی کارستانی ہے یا نہیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ وہ اب اپنا حق مانگ رہے ہیں۔سو دینا پڑے گا۔ سائنسی تجربوں میں جہاں مخصوص ماحول دے کر دنیا کے ہر کونے میں یکساں نتائج لیئے جا سکتے ہیں اتنا ہی سماجی علوم کے تجربات میں یہ کام ناممکن ہوتا ہے۔عقلمند ماہرین دوسرے ممالک کے حالات سے عبرت پکڑتے ہیں۔ ان کے تجربوں سے سیکھتے ہیں۔ و یسے بھی اندھی تقلید ہمیشہ گڑھے میں گراتی ہے۔
ذرائع ابلاغ جتنے بڑھتے جا رہے ہیں پراپیگنڈہ کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک نشریاتی ادارے کو قابو پانا آسان تھا مگر جب درجنوں نجی ادارے پل پل کی خبر عوام تک پہنچاتے رہیں تو وہی طریقہ کار جس سے پہلے کامیابی ملی دوسری بار بری طرح ناکام ہو جاتا ہے۔اب تو یہ حال کہ ایک بات دس لوگ کہیں گے پچاس تک پہنچے گی ان میں دس تصدیق کرنے بیٹھ جائیں گے۔ پہلے ایسا مشکل تھا اب نہیں۔اب سب کو یکساں مواقع ملتے ہیں۔ اب چاہے کسی علاقے کی خبر دبا لی جائے مرکزی میڈیا کی گردن پر پیر رکھ دیا جائے پھر بھی کہیں کوئی حیران ریوڑ کا احمق ٹویٹ کردیتا ہے۔ اسے دنیا بھر کے ریوڑ پڑھتے رائے دیتے۔ کہانیاں ابھی بھی پھیلتی ہیں مگر عوام ان کہانیوں کو سن سن کر رائے دینے لگے ہیں کیونکہ اب 2020 آچکا ہے نئی ٹیکنالوجی ان کی بھی دسترس میں ہے ان کو مخصوص رائے پر رائے دینے کی عادت تو تھی ہی، اب رائے بدلنے اور تصدیق کے بعد رائے دینے کی بھی عادت پڑ چکی ہے۔ ہمیں یقینا امریکہ میں اٹھتے طوفان سے عبرت پکڑنے کی ضرورت ہے۔
لپمن کا نظریہ 80 سال قبل ٹھیک ہوگا مگر اب بلورڈ ہرڈ اتنے بھی احمق نہیں رہے حکمرانی کا حق چھین بھی سکتے ہیں۔ اپنی پسند کے حکمران چن سکتے ہیں۔پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو وہ عوام جو 2 سال سے انتخاب کا حق استعمال کرکے سب حقوق گروی کیئے بیٹھے ہیں اٹھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ پھرآپ بھلے کسی ڈاکٹرائن کومسلط کرلیں۔ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، نسل پرستی، مذہبی انتہا پسندی جیسے مسائل سے دھیان ہٹانے کو نت نئے امریکی شگوفے چھوڑیں میڈیا، تجزیہ نگار، صحافیوں کو مخصوص رائے عامہ پر ہموار کرنے پر لگائیں مگرعوامی ردعمل کسی معمولی چھوٹی سی چیز پر بھی شدت سے آسکتا ہے کیونکہ جب کسی کی گردن پر پیر رکھا ہو اسے موت نظر آجائے تو وہ ہر ممکن کوشش کرکے آپ کا پیر اپنی گردن سے ہٹا دے گا۔ نہیں ہٹائے گا تو اس جیسے ہٹانے آئیں گے۔پھر دوبارہ گردن پر پیر رکھنے کی نوبت نہیں آ پائے گی۔
0

