0

ریاستِ مدینہ کا معاشی استحکام :: تحریر: بنیامین صدیقی

یکم جو لائی 1948 کو اپنی زندگی کی آخری تقریر میں قائد اعظم نے فر ما یا،”دنیا کے دو بڑے معاشی نظاموں نے انسانیت کو مصائب اور تکالیف کے سوا کچھ نہیں دیا۔اب زمانہ آگیا ہے کہ اسلام کے معاشی نظام کو زندہ کیا جائے اور اسلام کی بنیاد پر معیشت اور بنکاری کا ایک نیا نظام قائم کیا جائے تا کہ دنیا کو ان مسائل سے نجات دلائی جا سکے۔”
ہجرت نبوی ﷺ سے پہلے مد ینہ کے شہر میں یہودیوں کا راج تھا جنہوں نے سر ما یہ دارانہ نظام کو نا فذ کر کے سود کے ذریعہ وہاں کے معاشی نظام کو اپنے قابو میں رکھا ہو ا تھا۔ جس طرح آج معاشی زندگی اور ما لیاتی نظام یہودیوں کے کنٹرول میں ہے، اس وقت بھی سود ان کا سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ ہجرت کر نے کے بعد رسو ل اللہ ﷺ نے اس سر ما یہ دارانہ نظام کو حکمت و تدبر کے ساتھ ختم کیا اور اسلامی معاشی نظام قائم کیا۔
حجازمقدس کے ذیلی علاقہ مکہ مکرمہ کے لوگ تجارت جب کہ مدینہ کے لوگ ذراعت اور تجارت دونوں سے وابستہ تھے۔ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعوں کے مالک تھے اور خود ان پر کا م کر تے تھے۔ جب کہ بعض لوگ بڑی زمیوں کے قطعات کے ما لک تھے اپنی زمیوں پر کا م کر ا یا کر تے تھے۔ بعض لوگ مزدوری دے کر جب کہ بعض لوگ مزارعات اور محاقلہ کی بنیاد پر کا م کراتے تھے۔ ذراعت کی جن شکلوں میں سود، دھوکہ، استحصال یا اس طرح کی کوئی اور خرابی پا ئی جا تی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو نا جائز قرار دے دیا جس سے یہودیوں کی بالا دستی بہت متاثر ہوئی۔
اسی طرح مدینہ میں تجارت کی باگ ڈور بھی بیشتر یہودیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اس وقت انصار یعنی اوس اور خزرج کے بہت سے لوگ ان کے مقروض تھے اور سود کی وجہ سے ان کی زمینیں ایک ایک کر کے یہودیوں کے قبضہ میں جا رہی تھیں۔ بازار میں یہودی تاجروں نے اپنی اجارہ داری قائم کی ہوئی تھی۔ وہ مسلمان تاجر جن کا بازار میں اثر ور سوخ کم تھا، یہودی ان کو تنگ کر کے دھوکا دہی اور فراڈ سے ان کا مال غبن کر تے یا غیر معقول عوض دے کر انہیں ان کے حق سے محروم کر دیتے۔
ٹیکس لینے کا نظام بھی عروج پر تھا۔ یہودی اپنے بازار میں بیٹھنے والوں سے غیر ضروری ٹیکس لیا کر تے تھے اور ان پر طرح طرح کے مالی تاوان اور بوجھ ڈالا کر تے تھے حتی کہ چھوٹی سطح پر کاروبار کر نے والے یہودی تاجر بھی اس سر ما یہ دارانہ نظام سے بہت تنگ تھے۔ روز بروز امیر آدمی امیر تر جب کہ غریب آدمی غریب تر ہو رہا تھا۔
مدینہ منورہ ہجرت کر نے کے بعد یہود کا سر ما یہ دارانہ نظام، مالی استحصال اور تجارت و معیشت پر ان کی اجارہ داری ختم کر نے، اس کے سد باب اور ایک متبادل تجارتی پلیٹ فارم قائم کر نے کے لیے رسول اللہﷺ نے مسجد نبوی کے قریب ایک بازار قائم کیا۔معاشیات کو صحیح خطوط پر قائم کرنے کے لیے آپﷺ نے بعض ہدایات دیں جو ابھی تک اسلام کے معاشی نظام کا بنیادی ستون سمجھی جا تی ہیں۔ آپ ﷺ نے فر ما یا یہ تمہارا اپنا بازار ہے۔ اس میں کوئی بھی تمہارے ساتھ ذیادتی نہیں کرے گا۔ یہاں تم سے کوئی ٹیکس نہیں لے گا۔ مزید فر ما یا کہ جو لوگ بازار میں کاروبار کریں گے وہ آزادنہ رضا مندی کے ساتھ کاروبار کریں گے اور کوئی بیرونی قوت ان کو کسی خاص انداز پر چلنے کے لیے مجبور نہیں کر ے گی۔ یعنی مصنوعی طور پر قیمتوں میں کمی بیشی نہیں ہوگی۔ کسی بھی شخص کو ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہ ہوگی اور کسی کو اپنا سا مان بازار میں لانے سے نہیں رو کا جا ئے گا۔
اسی طرح آپﷺ نے بازار اور منڈی تک سامانِ تجارت پہنچنے کا حکم اور راستے میں اسے خریدنے سے منع فر ما یا جسے تلقی جلب کہا جاتا ہے تو آپﷺ نے تلقی جلب بھی منع فر مایا۔
یہودیوں کی قباحتو میں سے یہ بھی ایک قباحت تھی کہ جب انہیں پتہ چلتا کہ فلاں علاقے سے سامان تجارت اور مصنوعات کو بازار لایا جا رہا ہے تو یہودی ساہو کار اور تاجر اسے بازار پہنچنے کی بجائے راستے میں ہی خرید لیتے اور مالک کو اصل اور معقول قیمت سے محروم کر دیتے۔
بنوقینقاع سے تعلق رکھنے والے ابو راجع نا می شخص کو تاجر حجاز کہا جا تا تھا۔ مدینہ منورہ کے بازار پر اس کا کنٹرول تھا جو قیمت وہ قرار دیتا وہی قیمت بازار کی ہو تی تھی اور تمام یہودی اس کے فیصلوں کی پابندی کرتے تھے۔ ابو راجع نے دو پیمانے بنا رکھے تھے۔ ایک پیمانہ لینے کے لیے جب کہ دوسرا دینے کے لیے ہوتا تھا۔ اور اس طرح سے سر ما یہ دار نہ نظام پروان چڑھتا۔ مہاجرین سے تعلق رکھنے والے صحابی حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ جو کہ تجارت کے فن میں طاق تھے نے بنو قینقاع کے بازار میں ہی کا روبار شروع کیا اور بازارسے ابو راجع کی بالادستی کو ختم کیا اور ایک ایک کر کے اس غلط تجارتی طریقوں کو ختم کیا۔
اسی طرح ذرعی پیداوار اور صنعت پر بھی یہودیوں کا قبضہ اور کنڑول تھا۔ جب فصل کٹنے میں ابھی کافی وقت ہو تا تو یہ ضرورت مند اور مجبور لوگوں کو قرض دیتے وقت کہتے تھے کہ یہ اچھی چیز ہے اور جب لوگوں کی پیداوار حاصل ہو جا تی تھی اور یہ قرض وصول کر نے آتے تو زمینداروں اور صنعتکاروں کو کہتے کی تمہاری پیداوارگھٹیا ہے اور اس کا استحصال کر تے ہوئے زیادہ وصول کر تے۔ آپﷺ نے جب ربا اور سود کے احکام کے تحت کاروبار کی بہت سی شکلوں کو نا جائز قرار دے دیا تو اس سے یہ شکل ربا بالفضل بھی ناجائز قرار پائی۔
یہودیوں نے اپنی آبادی سے باہر دوسری آبادیوں میں بھی نا جائز طریقے سے جائیدایں ہتھیائی تھیں۔ ان یہودیوں میں اور بھی کئی قسم کی خرابیاں تھیں لیکن ریاست مدینہ کے قیام سے آپﷺ نے اس سرما یہ دارانہ نظام کو اسلامی معاشی نظام سے بد ل کر قدموں تلے روندھ ڈالا۔
اسلام کے بہترین اصولوں پر قائم کردہ معاشی نظام کو دیکھ کر غیر مسلم حتی کہ یہود بھی مسلمانوں کے بازار میں تجارت کر نے کے لیے آنا شروع ہو ئے اور بہت کم عرصہ میں یہودیوں کا بازار ختم ہوا۔ الغرض کسی بھی ریاست کی ترقی کاراز اس کے معاشی استحکام میں مضمر ہے اور معاشی استحکام اسلامی معاشی نظام کے نفاذ سے ہی ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں