اگر ہم خدا کی بنائی ہوئی اس خوبصورت تصویر کو دیکھیں جس کو ہم نے کائنات کا نام دیا ہے، تو ہم اسی کو لے کر بیٹھے رہیں۔اگر اس کو سمجھنے کی کوشش کریں تو شاید ہم کچھ اور نہ کر پائیں۔ یہ زندگی ،بلکہ اس جیسی کئی زندگیاں چھو ٹی پڑ جائیں۔ آپ میں سے کئی لوگ میری اس بات کو سمجھ سکیں گے کہ جب ہم کسی مصور کا شاہکار دیکھتے ہیں، اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔ ایک رنگ سمجھ آتا ہے تو دوسرا زاویہ ہماری اس محدود عقل و فہم سے بالا تر نظر آتا ہے۔ اس کے کسی ایک اشارے تک پہنچتے ہیں تو کئی اور رنگ ہمارے سامنے جیسے ناچنے لگ جاتے ہیں، اور ہم ، اپنی عقل کو اس کے سامنے بے بس جان کر آگے چل پڑتے ہیں۔ ہم اس بات کو جان کر بھی انجان ہیں کہ ہم خود اس سے کہیں خوبصورت اور کہیں زیادہ نشانیوں اور رنگوں سے بھری تصویر کا حصہ ہیں۔
خدا نے اس کائنات کی صورت میں ایک حسین تصویر بنائی ، پھر اس میں خوبصورت رنگ بھرے، اس کو حسین ترین بنانے کیلئے انسان بنائے، ہر انسان کو دوسرے سے مختلف بنایا، پھر ہر اک انسان کو عقل و فہم سے نوازا، اس کو اتنی آزادی دی کہ وہ اسی تصویر کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس تصویر میں نئے رنگ اجاگر کرے جن کو خدا نے پوشیدہ رکھا اور اس کو خوبصورت سے خوبصورت ترین بنائے۔ خدا نے در حقیقت اس تصویر کو بنایا ہی انسان کیلئے ہے۔ انسان اس تصویر کا سب سے نمایاں حصہ ہے، جس کے اختیار میں خدا نے وہ سب دیا جس سے باقی مخلوقات محروم ہیں۔
اس تصویر میں روز صبح سورج اپنی بانہیں پھیلائے ہم سب پر مسکراتا ہے۔ اس کی کرنیں دور کہیں برف سے ڈھکی چوٹیوں پر پڑتی ہیں۔ اس کی ہلکی سی تپش ٹھنڈی زمین کو سانس بخشتی ہے، پرندے اپنے گھونسلوں سے سر اٹھاتے ہیں ، پر پھیلاتے ہیں اور نئے دن کو خوش آمدید کہتے ہوئے اڑان بھرتے ہیں۔ تتلیاں دوبارہ پھولوں کا رخ کرتی ہیں، بلوں کے اندر چھپے جانور بھی زمین پر پڑنے والی کرنوں کی دستک سے اٹھتے ہیں اور روزی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ انسان بھی اس تصویر کی روح کو برقرار رکھے ہوئے اس میں رنگ گھولتا ہے۔ روز نئے رنگ بناتا ہے،اس تصویر میں بھرتا ہے اور اس کو نئی صورت بخشتا ہے ۔ اسی طرح دن سے شام ہوتی ہے، دور آسمان پر بادل اڑتے اڑتے سورج کو الوداع کرتے ہیں ، دن میں کام کرنے والے تمام کارندے اپنا کام آگے آنے والوں کو سونپتے ہیں اور خاموشی میں گھل جاتے ہیں۔ کالی رات سارے آسمان اور اس کے نیچے موجود ہر چیز کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے، پھر اس کالی سیاہ چادر میں سفید موتی پروئے جاتے ہیں، جو اس کی خامشی کو ساز بخشتے ہیں۔ پھر یہ سفید موتی نیچے موجود آنکھوں میں خواب جگاتے ہیں ۔ اپنی خنکی سے ان کے لئے سکوں کا ساماں کرتے ہیں اور انہیں نیند کی آغوش میں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہی صبح ہوتی ہے،اور اس دنیا کا نظام ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔
روز اول سے یہ تصویر تغیرات دیکھ رہی ہے، انسان جو خدا کا نائب ہے، روزِ اول سے اس کے رنگوں سے کھیل رہا ہے۔ اس تصویر نے اب تک کتنے ہی رنگ بدلے اور کتنے ہی خوبصورت انسان دیکھے ہیں جو اس کی خوبصورتی کی وجہ بنے۔ یہاں روز نئے لوگ آتے ہیں ، کچھ اس کو خوبصورت بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، کچھ اس کی شکل بگاڑتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن اس کے بعد کچھ ایسے بھی آتے ہیں جو اس کی بگڑی شکل کو سنوارتے ہیں ، اس کو پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت بنادیتے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے بھی آتے ہیں جو اس کے رنگ دیکھنے سے قاصر ہیں۔ وہ اپنی ذات کے اندھیروں سے باہر نہیں آپاتے۔ یہ تصویر روز رنگ بدلتی ہے، روز نیا روپ دھارتی ہے۔
لیکن دیکھنے والے اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ تصویر آہستہ آہستہ اپنےاصل رنگوں سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔اس کے رنگ بدل تو رہے ہیں لیکن وہ ان سب رنگوں سے مختلف ہیں جو خدا نے اس کو دیے تھے۔ اس تصویر میں موجود خوبصورت لوگ جو اس کی روح ہیں، وہ ہشاش بشاش چہرے جو اپنے مصور کا شاہکار تھے آہستہ آہستہ اپنے اصل مقصد کو چھوڑ کر کہیں اور چل پڑے ہیں۔ ان کے چہروں کی روشنی جو اس تصویر کا نمایاں رنگ تھی، اب وہ مدہم ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔ان کے اعمال اور جزبے جو اس تصویر کو زندگی بخشتے تھے اب وہ بھی آہستہ آہستہ سیاہی میں گھل رہے ہیں۔وہ اس تصویر کےاصل رنگوں کو بگاڑ کر اس کو نیا روپ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خدا کے دیئے ہوئے ہنر اور آزادی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
دیکھنے والے یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وہ لوگ جو پہلے سورج کے سامنے بانہیں پھیلائے اس کا استقبال کرتے تھے ، اب اس کے نکلنے پر منہ بگاڑتے ہیں، اپنے سامنے کھڑے دن کو کوستے ہیں اور اسے بھیانک خواب تصور کرتے ہیں۔ بے بسی کے عالم میں بستر چھوڑتے ہیں اور قطار میں لگ جاتے ہیں ۔ ہر طرف بیزار چہرے، بیڑیوں میں جکڑے پیر، بھاری دل اور مقفل دماغ اس تصویر کی روح کو یکساں بدل رہے ہیں۔وہ اپنی اپنی الگ تصویروں میں رنگ بھرنے کی کوشش میں دن سے شام اور شام سے رات کر دیتے ہیں اور خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ تصویر کا اصل رنگ تو وہ خود ہیں جس کو خدا نے بنایا ہے۔ بھلا خدا سے بڑا کوئی مصور ہے جو اس سے زیادہ خوبصورت رنگ بنا سکے۔ دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ اس تصویر میں چھپے وہ خوبصورت رنگ اب بھی وہیں موجود ہیں جو خدا نے خود بھرے ہیں، جو ان پھیکے رنگوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے آنکھوں کو اب بھی دعوت ِنظارہ دیتے ہیں اور عقل و فہم کو اس پر سوچنے کو مجبور کرتے ہیں، لیکن ان رنگوں کو دیکھنے والی آنکھیں اور ان کو سمجھنے والے اذہان بہت کم ملتے ہیں۔ مصور نے یہ تصویر فقط اس لیے تو نہیں بنائی کہ اس کے نائب اس میں بگاڑ پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہیں۔ اس مصور نے یہ تصویر بنائی ہے تو ضرور اس میں چھپے رازوں سے پردہ بھی اٹھے گا اور اس تصویر کے وہ سب نمایاں رنگ ہر ایک انسان پر آشکار ہوں گے۔
0


زبردست