رمضان میں ہر انسان کسی نہ کسی عا لم یا کسی بزرگ کی تلاش میں ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ کر اس سے وعظ و نصیحت کی باتیں سن سکے ۔اس کے دو فائدہ ہو جاتے ہیں ایک تو دین کی باتیں کرتے رہنے یا کوئی مسئلہ سیکھ لینے سے ثواب بھی مل جاتا ہے اور روزے کا وقت بھی اچھا گزر جاتا ہے۔ کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ ہدایت تلاش کرتے رہتے ہیں اور خدا کا قرب حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ مگر کچھ کو ہدایت خود خدا کے حکم سے تلاش کرتی ہے۔
رمضان میں روزہ کی وجہ سے انسان نڈھال تو ہوتا ہے مگر وقت بھی وافر مقدار میں میسر ہوتا ہے اِسی وجہ سے میں بھی آخر ایک بزرگ سے ملا ۔رمضان سے پہلے بھی ان بزرگ سے ملاقات ہوئی تھی مگر میں ان کو زیادہ وقت نہ دے سکا کیونکہ اس وقت رمضان نہیں آیا تھا اور میرے پاس نصیحت حاصل کرنے کے علاوہ بھی اور بہت کام تھے۔ بہرحال اب یہ خدا جانتا ہے کہ میں ہدایت کو تلاش کر رہا تھا یا ہدایت مجھے۔ یا شاید تھوڑی بہت طلب دونوں طرف سے تھی۔
میں اُن کی محفل میں بیٹھا اور میں نے اُن سے حال احوال اور ان کی طبعیت کے متعلق پوچھا ۔ اُنہوں نے کہا آج کیسے آ گئے؟ میں بھی روزے میں تھا مسکرا کر سچ ہی بولا:” روزے ہیں تو میں نے سوچا کچھ آپ سے وعظ و نصیحت کی باتیں سن لوں گا اور وقت بھی اچھا گزر جائے گا۔ اللہ کا کتنا شکر ہے کہ اُس نے ہمیں مسلمان بنایا اور رمضان جیسی نعمت سے نوازا”۔ وہ مسکرائے اور بولے،”بے شک اُس ذات کا شکر ہے مگر تم جانتے ہوکہ مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے؟” میں نے فوراً کہا،” جی ہاں! وہ جو خدا کی واحدانیت پر یقین رکھتا ہو کہ اللہ کی ذات ایک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور رسولﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔”
” اچھا بس اس بات کا یقین رکھ لینے سے انسان مسلمان بن جاتا ہے؟” بزرگ نے پوچھا۔ میں نے کہا،” جی ہاں،اور جو صوم و صلوٰۃ کا پابند بھی ہو۔ کیا ایسا نہیں ہے؟”
” مسلمان کامطلب تو یہی ہے بیٹا جو ہمیں کتابوں میں پڑھایا گیا ہے اور جو تم بتا رہے ہو۔ ایسا ہی ہے۔مگر یہ کتابی باتیں ہیں۔” بزرگ نے جواباً کہا۔” کیا کبھی تم نےخود اپنے آپ سے نہیں پوچھا کہ تم مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ،مسلمانوں والا نام بھی ہے تمھارا اور حلیہ بھی لگ بھگ مسلمانوں جیسا ہی ہے ، کیا تم مسلمان بھی ہو؟ اور اگر ہو تو تم نے کبھی خدا سے بات کی،؟اُس کی سنی یا اُس کواپنی سنائی؟” میں سوچ میں پڑگیا کہ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ کہ کبھی خدا سے بات نہیں کی تم نے? انہی سوچوں میں گم تھا کہ بزرگ نے کہا تم قرآن بھی پڑھتے ہو گے۔ میں نہ کہا ، “جی بلکل۔ مولوی صاحب نے بتایا تھا جوقرآن کا ایک حرف پڑھتا ہے اللہ اُس کو 10 نیکیاں دیتا ہے ۔”
بزرگ نے کہا ،”ماشاء اللہ، بے شک وہ ذات رحمٰن و رحیم ہے۔ مگر بیٹے، اگر تم نیکیوں کےحصول کےلیے قرآن پڑھتے ہو تو رب العزت صرف تمہیں نیکیاں ہی دے گا ۔ ہدایت کے لیے پڑھو گے تو وہ تمھیں ہدایت بھی دے گا۔ بیٹا، قرآن دراصل ایک گلاب کی پتی کی مانند ہے اسکی ایک پتی اٹھاؤو تو نیچے سے دوسری پتی نکلتی ہے ، دوسری کے نیچے سے تیسری۔ یعنی مفہوم درمفہوم ، معنی در معنی۔، اس پر جتنا غور کرو، جتنا تدبر کرو، یہ اتنا ہی اپنا آپ کھولتا چلا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں اجارہ داروں نے اس کے اوپر کے مفہوم کو ہی اس کا آخری مفہوم سمجھ لیا ہے اور قران کو صرف اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ تلاوت کرنے والا ثواب کمانے کی غرض سے اِس کو اٹھاتا ہے تو کوئی تعویز اور وظیفوں کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔”
ایک لمبی سانس لینے کے بعد انہوں نے کہا،” بیٹا، اللہ سے رشتہ بناؤو، تعلق بناؤ۔”
” کیسا راشتہ بزرگو؟” میں نے سوال کیا۔ بولے،” بیٹا خالق اور مخلوق کا رشتہ۔ “میں نے فوراً کہا،” ہمیں پانچ وقت کی نماز اور زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرنی چاہیئے۔ اس طرح اُس ذات سےرشتہ مضبوط ہوتاجائے گا ۔صحیح کہانا میں نے؟” وہ بولے،” کرو، کرو یہ بھی۔ اچھا ہے، ضروری بھی ہے ۔ مگرجن سے مضبوط رشتہ ہو ان سے ملنے یا بات کرنے کا کوئی وقت مخصوص نہیں ہوتا ۔ تعلق تو ایک دریا ہے جو ہر وقت بہتا رہتا ہے۔ اللہ سے تعلق پیدا کرنا ہے تو اُسے انگلی تھام کر ساتھ ساتھ لیے پھرو۔ کھانا کھانے بیٹھو تو ساتھ بٹھا کر بولو،اللہ، آج مجھے اتنی نعمتیں دی ہیں، تیرا بہت شکریہ ۔ رات کو سونے لگو تو کہو، واہ رب سائیں، سارا دن قدم قدم پر تو نے میرا کتنا ساتھ دیا ہے ۔ کیا خوب ساتھ دینے والا ہے تو۔ سبحان اللہ۔ اللہ سے تعلق تو ایسے ہونا چاہیےجیسے ماں سے ہوتا ہے ۔تھک جاؤ تو اُس کی گود میں سر رکھ لو، پریشانی ہو تو اس کے آغوش میں سر رکھ کر کہو،میرے اللہ، میں پریشان ہوں ۔میری مدد فرما۔ جب ایسا تعلق خدا سے بن جائے ،پھر سمجھ میں آتا ہے کہ اصل میں مسلمان کا مطلب ہے کیا۔ ”
ان کی محفل سے اُٹھنے کا دل تو نہیں کر رہا تھا مگراُن کے آرام کا خیال تھا۔ اُن کی محفل تو میں چھوڑ کر آ گیا، مگر ایک سوال نے اُن کی محفل چھوڑنے کے بعد بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا کہ میں نے تو کبھی خدا سے ایسے تعلقات قائم نہیں کیے۔ کیا وہ اتنے میرے قریب رہتا ہے ؟ نہ ہی کبھی ہدایت کے لیے قرآن پڑھا ،نہ ہی خدا سے کبھی بات کرنے کی کوشش کی، نا ہی اُس کی کوئی بات سنی۔ میں تو وہ تھا، جو اپنے ہی آشنا سے کبھی نہیں ملا۔ کیا میں مسلمان ہوں؟ اور اگر میں مسلمان ہوں بھی ،تو کیا میں مومن ہوں؟
؎ میں وادیِ حرم تک اُسے ڈھونڈنے گیا
آواز دی تو اپنے ہی اندر ملا مجھے
0

