کوئی بھی بچہ ماں کے پیٹ سے چوری سیکھ کر نہیں آتا ہے۔ مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے، ماں باپ ہی بچے کو چوری، ڈاکہ، اور پتہ نہیں کیا کیا سکھاتے ہیں۔
آپ بچے کو ایک ہزار دفعہ بتایئے کہ جھوٹ بُرا ہے،مگر جیسے ہی بچے کو جھوٹا لالچ دے کر پاس بلائیں گے، بچہ سمجھ جائے گا جھوٹ بول کر بات منوائی جا سکتی ہے۔ جس دن آپ بچے کو کہیں گے کہ جاؤ باہر جو انکل ملنے آئے ہیں، اُنہیں کہو ابّو گھر نہیں ہیں، بچہ جان جائے گاکہ مصیبت سے بچنے کے لیے جھوٹ بولا جا سکتا ہے۔بچہ جھوٹ بولنا سیکھ جائے گا۔بچے کو سچ کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو نہ ملے، اور وہ سچ پر قائم بھی رہے، یہ کیسے ممکن ہے؟
پھر آپ بچے کو سکول داخل کروا کر امید لگاتے ہیں کہ یہ اپنی عمر کے سب بچوں سے بہتر کارکردگی دکھائے گا۔ بھلا 5 برس کے بچے سے اُس کے ہم عمروں سے بہتر کارکردگی کی توقع کس طرح حق بجانب ہو سکتی ہے؟ بچہ توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرتا ہے۔ بچہ اپنے اساتذہ اور والدین کے سامنے ہار نہیں ماننا چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ قدر اور محبت صرف توقعات پوری کرنے پر ملتی ہیں۔ توقعات پوری نہ کرو تو نہ قدر ملتی ہے نہ محبت۔ حیف، خیال کا یہ بیج بھی والدین اور اساتذہ ہی بوتے ہیں۔
ظلم دیکھیے، بچے کی قابلیت کا پیمانہ ہزاروں لاکھوں صلاحیتوں میں سے صرف رٹّا لگانے کی صلاحیت ہے۔ اور وہ بھی اُن مضامین کا رٹّا، کہ جن میں اساتذہ کو کمال حاصل ہے۔ اگر کوئی بچہ اُن مضامین میں کمزور ہے، اُسے نکما کہہ کر دھتکار دیا جاتا ہے۔ اور یہ سلوک اُس کے اپنے سگھے اساتذہ اور والدین کرتے ہیں۔کوئی بھی بچہ اِس دُکھ کو سہنا نہیں چاہتاہے۔ سو وہ فرار تلاش کرتا ہے۔ ایک دن امتحان کا آتا ہے۔ اُستاد کو ڈر ہوتا ہے کہ یہ پاس نہ ہوا تو نوکری گئی۔ پرنسپل کو ڈر ہوتا ہے کہ پاس نہ ہوا تو داخلہ اور فیس گئے۔والدین کو ڈر ہوتا ہے کہ یہ پاس نہ ہوا تو خاندان میں عزت گئی۔بچے کا خیال کسی کو بھی نہیں آتا۔
ہم انسانوں کو فطرتاً دُکھ، تکالیف، اور ڈر جوڑتے ہیں۔ لہذا والدین، استاد، اور پرنسپل ایک اَن کہا معاہدہ طے کرتے ہیں۔ بچے کو جانے انجانے میں اساتذہ امتحانی سوالات پہلے ہی ازبر کروا دیتے ہیں۔ پرنسپل خاموش اور والدین خوش ہو جاتے ہیں۔ امتحان کے دن جادوئی انداز میں نقل کروا دی جاتی ہے، اور اِس کاروائی میں پرنسپل اور اساتذہ کے ساتھ والدین کی رضامندی بھی شامل ہوتی ہے۔ بچہ پاس ہو جاتا ہے۔ سب شادیانے بجاتے ہیں کہ بلا ٹلی۔ بچے کا خیال کسی کو نہیں آتا۔
بچہ سیکھ جاتا ہے، جب مشکل پڑے تو خیانت کر لینا کوئی برائی نہیں۔ قابل سے قابل طالب علم یا طالبہ بھی بورڈ کے امتحانات میں نقل کے موقع کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ موقع مل جائے تو خوشی سے سب بتاتے ہیں۔ موقع نہ ملے تو موقع بنانے کی کاریگری اختیار کرتے ہیں۔ پاکستان میں شاید کوئی ایک بھی کالج نہیں کہ جو پریکٹیکل کے نمبروں کے لیے رشوت نہ دیتا ہو۔ بچوں کو باقاعدہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کے نمبر ہم لگوا دیں گے۔ امتحانات کے دوران جو کالج زیادہ رشوت لگا کر زیادہ دو نمبری کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، اُسی کو سب سے اچھا کالج گردانا جاتا ہے۔امتحان کا مطلب اپنی موجودہ قابلیت کی پیمائش کے بجائے نمبروں کی دوڑ بن کر رہ گیا ہے۔
ذرا سوچیے۔ ہم لوگ معاشرے میں تعلیم یافتہ کے روپ میں درندے بھیج رہے ہیں۔ وہ درندے کہ جب بھی کہیں ہار کا سامنا ہو، خیانت پر اُتر آئیں۔ کوئی شخص بھی پیدائشی چور اور ڈاکو نہیں ہوتا ہے۔ والدین اور اساتذہ آہستہ آہستہ اُس کی تربیت اور راہ نمائی کرتے ہیں کہ چوری کیسے کرنی ہے، ڈاکہ کیسے ڈالنا ہے، اور خدا نخواستہ، قتل کیسے کرنا ہے۔
کس منہ سے ہم لوگ کرپشن کا رونا روتے ہیں؟ اور کس منہ سے ہم پاکستان کو گالی دیتے ہیں؟ جب معاشرے میں تعلیمی ادارے تعلیم کے نام پر چوری اور ڈاکے کی ٹریننگ بیچ رہے ہوں گے، تو معاشرے میں صداقت، امانت، اور شجاعت کا سبق کون پڑھے گا؟
پھر صلہ رحمی کا قتل بھی ہم ہی بچوں کی نظروں کے سامنے کرتے ہیں۔کسی غریب کا جنازہ ہو، تو گھر سے ایک فرد، یا اُس سے بھی کم کی شرکت سے کام پورا ہو جاتا ہے۔ امیر کا جنازہ ہو تو پورا خاندان قافلہ بنا کر پہنچتا ہے۔ غریب کا جنازہ کندھے پر آ جائے تو اگلے کندھے کا انتظار شدت پکڑ لیتا ہے۔ امیر کا جنازہ ہو تو کندھے سے اُتارنے کو دل راضی ہی نہیں ہوتا۔کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے شہید ہو جائے تو ماتھے پر شکن بھی نہیں آتی۔ امیر اداکار، جس نے زندگی بھر کانوں میں گانوں کے رس گھولے، وہ مر جائے تو فون سے نکل کر، سرحد پار پہنچ کر چِتا جلانے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ بچہ یہ دیکھ کر کیا سیکھتا ہے؟ کوئی بچہ بھی ماں کے پیٹ سے چوری اور ڈاکہ سیکھ کر نہیں آتا ہے۔ ہم لوگ اُسے یہ سب سکھاتے ہیں۔ ہم لوگ اُسے یہ سب کر کے دکھاتے ہیں۔
کوئی ہے جسے خیانت کا موقع ملے اور وہ خیانت نہ کرے؟ خاندان میں اگر کوئی امیر ہو، اور سب کو بخوبی علم ہو کہ حرام کماتا ہے، جھوٹ بول کر مال بیچتا ہے، حکومت کو دھوکہ دے کر امارت کما رہا ہے، اُس کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں، اُسے ہیرو گردانا جاتا ہے۔ خاندان میں کوئی غریب ہو، خیانت کا موقع پا کر اُسے ٹھکرا کر فاقہ کشی کا چناؤ کرے، اُس کی بے وقوفی کے قصے سنائے جاتے ہیں، اُسے عبرت کا نشان بنایا جاتا ہے۔ کوئی بچہ بھی ماں کے پیٹ سے چوری سیکھ کر نہیں آتا ہے۔ ہم اُسے چور بناتے ہیں۔
کورونا نے آج کے کالم کو بھی خالی نہیں جانے دیا۔ آج بھی کاندھے پھلانگتا، کالم میں کود آیا ہے۔ امتحانات منسوخ ہو گئے ہیں۔ اور کوئی ایک طالبِ علم بھی اِس بات پر رنجیدہ نہیں ہے۔ ہر طرف مبارک باد دی جا رہی ہے۔ شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ اس سال جن لاکھوں بچوں کو پروموٹ کیا جا رہا ہے، دس سال بعد وہ جب پریکٹکل لائف میں آ کر ڈاکٹر، انجینئیر، یا کچھ اور بن کر سامنے آئیں گے تو کیا گُل کھلائیں گے، کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اُستاد ہونے کی حیثیت سے دل بہت پریشان ہے۔وہ لاکھوں بچے جنہوں نے فیل ہو کر یہ سبق سیکھنا تھا کہ بغیر امانتدارانہ محنت کے گزارا نہیں ہے، اب وہ کیا سوچ رہے ہیں، کچھ معلوم نہیں ہے۔ فقط شادیانے سنائی دے رہے ہیں۔اور اِس بار یہ شادیانے ہمارے قومی، بلکہ بین الاقوامی سانحے پر بج رہے ہیں۔ کورونا زندہ آباد کے نعرے پھر سے زندہ ہو گئے ہیں، معاشرتی فکر مر گئی ہے۔
کسی قوم پر اِس سے بڑھ کر کیا عذاب آئے گا کہ تباہی دروازے کو توڑتی ہوئی اندر داخل ہو رہی ہے، اور نوجوانوں کو اُس تباہی کا رتی برابر بھی ادراک نہیں ہے۔قومیں ہمیشہ ایسے حالات کے بعد ہی تباہ ہوتی ہیں۔ لیکن اِس سب میں بچوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔ کیونکہ کوئی بچہ بھی ماں کی کوکھ سے چور یا ڈاکو بن کر پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اُسے چور اور ڈاکو ہم بناتے ہیں۔
0


ہم کیسے مسلمان ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے آج سے چودہ سو سال پہلے اپنے آخری نبی خضرت محمدﷺ کے وصیلے سے ایک مکمل دین اسلام بھیجا اور جو بھی اس دین پر پورا اترے مسلمان کہلاتا ہے ۔لیکن ہم کیسے مسلمان ہیں جنہیں اس دین کے بارے میں علم ہی نہیں بس پیدا ہوئے ماں باپ نے کہا ہم مسلمان ہیں اور ہم نے مان لیا ۔ نہ یہ جانا کے مسلمان کیا ہوتا ہے اسلام کیا ہوتا ہے ۔ جو جس نے کہا مان لیا اگر سنی خاندان میں پیدا ہوئے تو سنی اگر شیا خاندان میں پیدا ہوئے تو شیا کہلائے ۔ خود نہ سوچا نہ سمجھا جس نے جو بولا مان لیا۔اور یہی ہماری تباہی کی وجہ بھی بنی ہم لوگ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی دوڑ میں مسلمان اور اسلام کو بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ہم کیسے مسلمان ہیں جو رمضان میں ناجائز منافہ خوری کرتے ہیں۔لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ ٹی پر بیٹھ کر اس با برکت مہینے میں ایک دوسرے کا مزاک اوڑاتے ہیں ۔ ہمیں شاید یہ نہیں بتایا گیا کے مسلمان ہونے کے لیے پہلے اانسان ہونا ضروری ہے۔ہم کیسے مسلمان ہیں جو پسوں اور جایداد کے لیے اس ماں کو قتل کر دیتے ہیں جس نے ہمیں اپنا پیٹ کاٹ کر پالا پوسا ہوتا ہے۔
یہ سب کچھ نہ ہو اگر ہمیں مسلمان اور اسلام کا مطلب پتا اخادیث کا سہی علم ہو قران ترجمے اور تفسیر سے پڑھا اور سمجھا ہو اور اس کے بعد اپنے آپ کو مسلمان کہلوایا ہو ۔ شکریہ