0

کس موت سے مروں میں ذرا رائے دیجئے؟ :تحریر: سحر رشید راجپوت

باہر وبا کا خوف, گھر میں بلا کی بھوک
کس موت سے مروں میں زرا رائے دیجئے؟
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار مزدور اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان والا محبت کرتا ہے اور اس سے محبت کی جاتی ہے، اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ محبت کرے اور نہ اس سے محبت کی جائے اور لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والا ہو”۔ (جامع الصغیر)۔کوروناوائرس کے باعث مزدور طبقے کا روزگار متاثر ہوا ہے جبکہ اشیاء مہنگی ہونے کی وجہ سے غریب طبقے کیلئے سامان کا حصول بھی مشکل ہےاب وقت ہے کہ ہم ایک اچھی قوم بن کر دکھائیں۔اس وقت عام آدمی دو طرح کی مشکل میں پھنسا ہوا ہے، ایک طرف لاک ڈاؤن نے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل کر دی ہے تو دوسری طرف کو رونا کے خوف نے زندگی مشکل بنا دی ہے۔غریب، مزدور، دیہاڑی دار کی زندگی میں یہ دن کئی بار آتا ہے کہ اسے کام نہیں ملتا لیکن وہ اس امید پر گھر جاتا ہے کہ کل مل جائے گا اور وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالے گا۔ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا یہ اخلاقی فرض ہے کہ ہم از خود ایسے نادار لوگوں تک پہنچیں اور ہر ممکن تعاون کریں۔
اس وطن عزیز کے دامن میں ایسے افراد بھی پناہ گزین ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مالی وسعتوں سے نوازا ہے، تو ایسے مخیر حضرات سے درخواست ہوگی کہ اپنے اخراجات میں اعتدال کرتے ہوئے ان دیہاڑی دار مزدوروں کی داد رسی کریں تاکہ ان کا یہ مشکل وقت آسانی سے گزر جائے۔حکومت نے سخت لاک ڈاؤن لگایا کے کہیں کرونا سے لوگ مر نہ جائیں ۔اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدو کا روزگار بند ہوگیا وہ کرونا سے تو شاید نہ مرے بھوک سے مر جائیں گے۔ ابھی تک کتنے ہی لوگ مرے ہیں کیا پتا ان میں سے کتنے لوگ ہوں جو بھوک سے مر گئے ہوں۔ان میں کتنے سفید پوش لوگ ہوں گے جنہوں نے صرف غیرت کی وجہ سے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ موت کو قبول کیا۔ لوگوں میں اس قدر کرونا کا خوف ڈال دیا گیا ہے کہ اب کوئی شدید بیماری کی حالت میں بھی ہسپتال نہیں جاتے۔
ان مصیبت کے دنوں میں ہم نے ایک اچھی چیز یہ دیکھی کہ ابھی ہماری حکومت غریب طبقے تک نہیں پہنچی تھی اس سے پہلے ہماری تنظیمیں اور ہزاروں شخصیات متحرک ہو گئیں اور گھر گھر راشن پہنچایا۔
اللہ کا بڑا احسان ہے کہ یہ مرض پاکستان میں اتنا خطرناک ثابت نہیں ہو رہا ہے۔
سب سے برا حال تو پاکستان میں موجود کچی آبادیوں کا ہے وہاں کے مکینوں کے پاس نہ کچھ کھانے کو ہے نہ روزگار ہے۔گندگی کا ڈھیر ہے اور کرونا کا خطرہ بھی بہت ہے۔
کرونا تو خاموش اور چھپا ہوا ہے، مگر بھوک تو گلی گلی میں آواز دے کر حملہ کر رہی ہے
یہ سچ ہے کہ آج یہ وقت آگیاہے کہ دنیا پر بے لگام کروناوائر س اور بھوک کا راج ہے۔امریکا سے لے کر پاکستان تک کرونا وائرس کے سائے تلے بھوک و افلاس کا نہ رکنے والا تباہ کُن طوفان پروان چڑھنے کو ہے۔ناگہانی وبا سے بلکتی سسکتی اِنسانیت قابلِ رحم درجے تک پہنچ چکی ہے۔
اگر کوئی عمل کرونا وائر س کی وبا سے بچاسکتا ہے تو وہ خالقِ کائنات، اللہ رب العزت کے سامنے سجدہ ریز ہوکر گریہ و زاری سے ا پنے گناہوں کی معافی اور استغفارکے ساتھ دعامانگنے کا عمل ہی ہوسکتا ہے؛ جو کرونا وائرس کی وبا سے بچاسکتاہے۔ ورنہ،آج کوئی جتنابھی دولت مند اِنسان اور ترقی یافتہ یا ترقی پذیر مُلک کیوں نہ ہو،کوئی چاہئے جتنی بھی دولت اور طاقت کا استعمال کرلے ،پھروہ سوچے کہ اِس طرح عالمی آفت سے بچ جائے گا؛ تو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ کرونا وبا کے سامنے اِنسانوں کی دولت اور طاقت کی کوئی حیثیت نہیں۔
اللّٰہ ہم پر رحم کرے اور اس وبا سے جلد چھٹکارا دے آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں