“ابھی تو آپ کو کوئی تعصب نہیں ہے،صرف اکیلے رہنا ہے، اور اکیلے رہتے ہوئے آپ کے پاس یہ سوچیں ہوں کہ میرے پاس گھر نہیں ہے، میرے پاس والدین نہیں ہیں، میرے پاس روزگار نہیں ہے، میرے پاس تعلیم نہیں ہے۔ خدا کرے کہ آگے ایسا بحران آئے کہ آپ لوگوں کو یہ سوچیں بھی پڑ جائیں۔”
فیس بک پر وہ ویڈیو دیکھتے ہوئے میں نے اس شخص کے چہرے پر غیر معمولی تاثرات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے الفاظ میں بے بسی اور چہرے پر سردمہری تھی۔ میں نے تھوڑی دیر کو ویڈیو روکی اور اس کے چہرے کے تاثرات اور الفاظ میں مماثلت ڈھونڈنے کی کوشش کی ، لیکن میں نے دونوں میں تضاد کے سوا کچھ نہ پایا۔ منہ سے نکلنے والے الفاظ اذیت بیان کر رہے تھے ، اور چہرہ جیسے بالکل بے حس، اور بے جان۔ میں نے ویڈیو کو وہیں سے دوبارہ چلایا جہاں روکاتھا۔
“اس معاشرے میں نہ انصاف ہے، نہ اس معاشرے میں عدل ہے، نہ اس معاشرے میں تمیز ہے اور نہ اس معاشرے میں شعور ہے۔ اگر ہمارے اندر انسانیت آجائے گی تو موت کا خوف ختم ہو جائے گا۔”
ویڈیو ختم ہونے کے بعد میں نے اس شخص کی باتوں پر کوئی رائے قائم کرنے کی کوشش کی لیکن میرے ذہن میں صرف سوال ابھر رہے تھے ۔میرے ذہن میں سوال ابھرا کہ ایسی کون سی اذیتیں ہیں جن کو سہنے کے بعد ان کے الفاظ اتنے تلخ اور چہرے با الکل سرد پڑ جاتے ہیں ۔ وہ اس معاشرے کو برا بھلا کہہ رہا تھا جس میں ہم رہتے ہیں۔ لیکن اس معاشرے میں جو لوگ رہتے ہیں وہ تو اشرف المخلوقات ہیں۔ میرے ذہن میں ایک دم سے لفظ”اشرف المخلوقات” ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا۔ سوال پہ سوال آیا کہ آخر اس لفظ کا مطلب کیا ہے؟ “اشرف المخلوقات ” کا مطلب ہے خدا کی مخلوقات میں سب سے بہترین مخلوق۔ جواب خود سوال ہی سے مل گیا۔ تو گویا ہم خدا کی اعلی ترین مخلوق ہیں۔ ہمارے اعمال، ہمارے اخلاق، ہماری اقدار ہماری سوچ اور ہمارا دوسری مخلوقات کے ساتھ رویہ بھی اعلی ترین ہونا چاہیے۔
لیکن ، “کیا ایسا ہے؟” میرے ذہن نے ایک اور سوال پر سوچنے کا کام سونپ دیا۔ لیکن اس سوال کے آگے میں سوالیہ نشان لگانے کے سوا کچھ نہ کر پائی۔میرا ذہن دوبارہ اس شخص کی طرف گیا جو ہمارے معاشرے کے منہ پر مسلسل تھپڑ مار رہا تھا۔ میرے ذہن میں اس جیسے سینکڑوں لوگ آئے جن کو ہم سب روزانہ کسی نہ کسی سگنل، چوراہے، بازار یا گلی میں بھیک مانگتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ منہ پر ضرورت سے کہیں زیادہ میک اپ کئے یہ لوگ آتے جاتے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سوالی ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں، اور لوگ ان کو سر سے پیر تک حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ جیب سے چند روپے نکال کر ان کو وہاں سے چلے جانے کا اشارہ کرتے ہیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ ان کو دیکھ کر “توبہ استغفار” پڑھتے ہیں اور اس کے سوا ان کے پاس ان کو دینے کو کچھ نہیں ہوتا۔
خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے ۔ اس مخلوق میں مرد ، خواتین اور تیسرے وہ لوگ ہیں جن کی کوئی پہچان، کوئی نام یا کوئی شناخت نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا کوئی وارث نہیں ہے، اگر کوئی وارث ہوتا تو وہ ضرور ان کی شناخت کا سامان بھی کرتا۔ اگر ان میں سے کسی کا نام ہے بھی تو ہم ان کا نام لینا پسند نہیں کرتے ۔ہمارے معاشرے نے ان کو ایک اجتماعی نام دیا ہے، “خواجہ سرا” ۔ اس کے علاوہ ان کی کوئی انفرادی پہچان نہیں ہے۔ اور اگر یہ خود اپنی کوئی انفرادی پہچان بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم کسی صورت اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا وہ حصہ ہیں جن کو دینے کیلئے ہمارے پاس تذلیل، تحقیر اور تکلیف کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم بہت فخر سے خود کو اشرف المخلوقات تو کہتے ہیں لیکن افسوس صد افسوس! کہ ہماری یہ خصوصیت ہمارے کردار سے نہیں جھلکتی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ خدا نے اس کائنات کی کسی بھی چیز کو بغیر کسی مقصد کے نہیں بنایا ، تو ہم میں سے بہت سے لوگوں نے یہ بھی گمان کر لیا ہے خدا نے خواجہ سراؤں کو ضرور باعث عبرت اور حقیر سمجھنے کیلئے پیدا کیا ہے۔
پیدائش کے وقت والدین کی طرف ٹھکرائے جانے والے خدا کے یہ بندے زندگی کے اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کو انسان کے علاوہ سب کچھ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ان کو وہ سب کرنے پر مجبور کر دیتا ہے ، جو ان کے لیے سب سے زیادہ باعث تکلیف ہوتا ہے ۔ ہمارا معاشرہ ان کے حقوق کو روندتے ہوئے آگے بڑھتا ہے اور آنکھیں نیچی کر کے ان کو حقارت سے دیکھتا ہے ، “لا حول” پڑھتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ خدا نہ کرے کہ کبھی ایسا بحران پیدا ہو کہ ہمیں وہ سوچیں پڑ جائیں جو اس وقت جولی خان اور اس جیسے اور بہت سارے خدا کے بندوں کو سوچنی پڑ رہی ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ان کہ دل سے نکلنے والی کوئی ایک آہ عرش کو ہلا کہ رکھ دے اور اس وقت اذیت سہنے والوں کی صف میں صرف مرد اور عورتیں ہوں، اور خدا کے یہ بندے اشرف المخلوقات بن کہ ہماری مسیحائی کرنے آئیں۔ خدا نہ کرے کہ کبھی ہم بھی اس اذیت سے گزریں کہ درد ہمارے لیے درد نہ رہے بلکہ ہماری زندگی بن جائے اور ہر سانس کے ساتھ محسوس ہو۔ خدا نہ کرے کہ قیامت کے دن جب ہم رب کے حضور کھڑے ہوں اور حقوق العباد کے سوال پر ہم کوئی جواب دینے کے قابل نہ ہوں۔ ہم خود سے ہی سوال کرتے پھریں کہ “یہ بھی انسان تھے؟”خدا کرے کہ ہمیں اس دنیا میں ہی وہ آنکھیں مل جائیں جو ان کی خشک آنکھوں کے پیچھے چھپے آنسو دیکھ سکیں اور وہ ہاتھ مل جائیں جو ان آنسوؤں کو صاف کر سکیں۔ خدا کرے کہ ہم قیامت سے پہلے ان کو انسانیت کا درجہ دے سکیں۔
0

