انسان بڑھتے جا رہے ہیں۔ انسانیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اندازہ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے پڑوسی ملک کے حالات سے لگایا جا سکتا ہے۔راجپال یادیو ایک بھارتی اداکار ہے۔ نام سے ظاہر ہے کہ موصوف ہندو ہے۔ یہ آدمی اوسط قد سے قدرے چھوٹے قد کا مالک ہے۔ گذشتہ 24اپریل کو یادیو نے ٹویٹر پر ڈیڑھ منٹ کا ویڈیو پیغام نشر کیا۔ اِس ویڈیو میں راجپال یادیو نے اپنی جَنتا یعنی عوام سے دست بستہ اپیل کی کہ بھارت کا نام مٹی میں مت ملائیں۔ یادیو کا کہنا تھا کہ بھارت دیش پوری دنیا میں اپنی عوام کے بلبوتے پر پہچانا جاتا ہے اور خوب پذیرائی سمیٹتا ہے مگر دیش میں موجود ایک فیصد سے بھی کم لوگ ٹولیاں بنا کر جب کسی بوڑھے آدمی پر لاٹھیاں برساتے ہیں، اور ایسی ویڈیو پوری دنیا میں گردش کرتی ہے تو شرم سے سر جھک جاتا ہے۔ یادیو نے منت سماجت کی کہ عوام پورے دیش کو شرمسار کرنے کے بجائے عقل اور انسانیت سے کام لیں۔
اِس ویڈیو پر ایک نامور پاکستانی صحافی نے خوب گرہ لگائی اور کہا کہ بھارتی آر ایس ایس کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر یادیو نے آئینہ دکھا دیا ہے۔ راقم نے مزید کہا کہ پاکستان میں موجود غیر مسلموں کے حقوقکے لیے ہمیں بھی اسی طرح سچ بولنا چاہیے۔گویا کہ جو سلوک بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے، ہمارے ہاں بھی اُسی طرز کا رویہ غیر مسلموں کے لیے موجود ہے۔ حیف، سچ کا ترازو ناموری نہیں تکتا ہے۔ سچ کا ترازو سچ کو تولتا ہے۔ کیا پاکستان میں کسی بھی طبقے کے ساتھ فقط مذہب کی بنیاد پر وہ سلوک روا رکھا گیا ہے جو بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا ہے؟عرضِ پاک میں یقینًا غیر مسلموں کے ساتھ قائد اور اسلام کے وعدوں کے عین مطابق سلوک سو فیصدی روا نہیں ہے، مگر یہاں کسی کو محض غیر مسلم ہونے کی بنیاد پر ڈنڈے مار مار کر زبردستی کلمہئ توحید پڑھنے کو نہیں کہا جاتاہے۔ اور محض مذہب کی بنیاد پر، کسی پر لاٹھیاں برسا برسا کر اُسے قتل نہیں کر دیا جاتاہے۔ اور جب بھی کبھی کسی غیر مسلم کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، ریاست ظالموں کی پشت پناہی نہیں کرتی ہے۔ لہذا بھارت میں ہونے والے مظالم کو عامیانہ رنگ دینا مجرمانہ غفلت ہے۔ یہ وہی مجرمانہ غفلت ہے کہ جس کے پیشِ نظر مقبوضہ کشمیرروزانہ لہو میں نہا جاتا ہے۔ جو پانی پاکستان کے باسی پیتے ہیں، وہ کشمیر سے آتا ہے۔ یقین جانیے، اُس کے ہر قطرے میں کسی کشمیری کے لہو کی رمق موجود ہوتی ہے۔ آج جب کہ یہ کالم لکھا جا رہا ہے، تیسرے روزے کے لیے سحری کا وقت ہونے کو ہے۔ اور یکم رمضان سے اب تک، 9 کشمیری شہید کر دیے گئے ہیں۔ یہاں پاکستان میں کورونا کے پیشِ نظر کئی مائیں افطاری کے وقت انتظار کرتی ہیں کہ کہیں سے کچھ کھانے کے لیے آئے اور بچوں کا پیٹ بھرا جا سکے۔ کشمیر میں روزانہ مائیں انتظار کرتی ہیں، کہ شہید بیٹے کا جسم لوٹا دیا جائے، کہ آخری دیدار ممکن ہو سکے۔
بھارت کے ایک اور شہر سے ایک ویڈیو موصول ہوئی۔ ایک نوجوان اپنا بستہ پہنے ہوئے تھا کہ کچھ ہندو اُس پر چڑھ دوڑے۔ اُسے بے دردی سے مارتے اور کہتے کہ ’جے شری رام‘ پکارے۔ وہ باریش نوجوان، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ حافظِ قرآن تھا، اور اِسی وجہ سے زیرِ عتاب تھا، مار کھاتا جاتا تھا، مگر ’جے شری رام‘ نہیں کہتا تھا۔ ظالموں نے اتنا مارا، اتنا مارا کہ سُنا ہے بے چارہ حافظ جان بر نہ ہو سکا اور شہید ہو گیا۔ بلالِ حبشی ؓ کی یاد آ گئی۔ اوائل میں، اُن کو تپتی ریت پر لِٹا کر بھاری پتھر اُن کے سینے پر رکھ دیا جاتا کہ وہ ہِل نہ سکیں۔ پھر کہا جاتا کہ لات و منات کی بڑائی بیان کرو، مگر وہ اَحد، اَحد پکارتے جاتے اور ظلم بڑھتا جاتا۔
کورونا وائرس نے لوگوں کی جان تو اِس قدر نہیں لی، مگر معاش کا قتل کر دیا ہے۔ دنیا کی ایک کثیر تعداد اب فاقوں میں ہے۔ اِن حالات کے پیشِ نظر، پوری دنیا میں مخیر حضرات راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ بھارت میں بھی یہ کام بڑی مستعدی کے ساتھ جاری ہے۔ مگر جس بھارت میں سبزیاں اور پھل بھی اب مسلمان اور ہندو کی تقسیم کے عتاب میں ہیں، اُسی بھارت کے ایک گاؤں میں سینکڑوں گھروں میں راشن تقسیم کے وقت ایک گھر کو راشن سے محروم رکھا گیا۔ ویڈیو میں لاچار غرباء کا یہ مجبور گھرانہ بتاتا ہے کہ راشن بردار لوگوں نے ہم سے کہا کہ ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگا دو، راشن مِل جائے گا۔ مگر ہمارا ایمان براہِ فروخت نہیں ہے۔ ویڈیو میں لاچار بوڑھا، ناچار خاتون، اور بھوکے بچے گاؤں والوں کے گرداب میں موجود تھے۔ مگر اُن کے چہرے پر پریشانی کی ایک بھی شکن نہیں تھی۔ وہ لوگ مضبوط تھے اور کہہ رہے تھے، ہم 2کلو آٹے کے عوض اپنا ایمان نہیں بیچ سکتے۔ ہم بھوکے رہ لیں گے، توحید نہیں چھوڑیں گے۔ اِس ویڈیو پر بھی مذکورہ بالا نامور صحافی نے گرہ لگائی۔ اِنہیں غیرت مند گردانا اور کہا کہ افسوس بعض لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے مفاد کے لیے رمضان میں اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں۔ (موصوف کی حال ہی میں ایک ممتاز مذہبی سکالر سے مُکھ بھیڑ ہو گئی ہے، جنہوں نے بادلِ ناخواستہ میڈیا کو جھوٹا اور عریانی کو وجہِ ناراضیئ خدا کہہ دیا ہے۔)
بھارت میں موجود مسلمانوں کے ساتھ جو مظالم ہوتے ہوئے عالمی دنیا دیکھ کر سیخ پا ہو رہی ہے، یہ مظالم کشمیر کی داستانِ اَلم کے آگے بازیچہئ اطفال کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔ مودی کی حکومت کا بھارتی مسلمانوں پر یہ احسان ہے کہ جو جرمِ صرفِ نظر کشمیر کے لیے بھارتی مسلمانوں نے اختیار کر رکھا تھا، اب خود شکارِ عتابِ ہند ہونے کی وجہ سے اُ س جرم سے توبہ کر لی ہے اور مظالمِ کشمیر کا اِدراک کر لیا ہے۔
کیا باقی دنیا کے مسلمان بھی اِسی انتظار میں ہیں کہ ہردیس میں فلسطین اور کشمیر کے جیسے حالات ہو جائیں؟ سعودی عرب نے یمن اور امریکہ نے افغانستان میں جنگ بندی کی اپیل کر رکھی ہے۔ وجہ کرونا وائرس سے ہونے والی اموات اور یمن اور افغانستان میں طبی سہولیات کی کمی ہے۔ کیا دورانِ تسلطِ جنگ اموات کم اور طبی سہولیات وافر تھیں؟ یا اب خوف یہ ہے کہ اِن ممالک میں کرونا پر قابو نہ پایا تو کرونا سے جتنی بھی جنگ لڑ لی جائے، جیت نہیں پائیں گے؟
حالات چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں، انسان بڑھتے جا رہے ہیں۔ انسانیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔
0


Very delicately written