فاصلاتی نظامِ تعلیم یعنی آن لائن ایجوکیشن سسٹم کا دور دورہ ہے۔کرونا وائرس کے پیشِ نظر ملک کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ 13مارچ کو اچانک قومی سلامتی کمیٹی کی بیٹھک میں فیصلہ کیا گیا کہ کرونا کو قابو کرنا آسان نظر نہیں آتا لہذا جس قدر ممکن ہو، فورًا تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں۔ سو، تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے اور بورڈ کے جاری امتحانات ملتوی ہو گئے۔ شروع میں یہ فیصلہ ہوا کہ ادارے 5اپریل تک بند رہیں گے۔ مگر 5اپریل کی آمد سے پہلے ہی 26مارچ کو شفقت محمود صاحب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے ذریعے مطلع کیا کہ تعلیمی ادارے 31مئی تک بند رکھے جائیں گے اور حکم صادر فرمایا کہ اِس دورانیہ کو تعطیلاتِ موسمِ گرما تصور کیا جائے۔ یعنی جو تعلیمی دورانیے کا نقصان اب ہو رہا ہے، اُسے یکم جون کے بعد پورا کیا جائے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ چھٹیاں صرف انتظامیہ کے کیے چھٹیاں ہیں۔ موصوف نے ساتھ ہی یہ بھی اعلان فرمایا کہ جامعات کو ایچ ای سی کے ذریعے استدعا کر دی گئی ہے کہ طلباء کو کسی نا کسی تعلیمی سرگرمی میں مصروف رکھا جائے۔ یعنی طلباء اور اساتذہ کے لیے کام جاری رکھنا لازمی ہے۔ اور اسی سلسلے میں تمام جامعات کو آن لائن ایجوکیشن کی ترویج کا حکم دے دیا گیا۔
آن لائن ایجو کیشن کو اُردو میں فاصلاتی نظامِ تعلیم کہتے ہیں۔ اور گو کہ پاکستان کے اکثر طلباء کے لیے یہ ایک نئی بلا ہے، یہ کوئی نئی ایجاد نہیں ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سب سے پہلے فاصلاتی نظام کے ذریعے باقاعدہ تعلیم کا اجراء کالب فلپس (Caleb Philips) نے 1728 میں کیا۔ فلپس شارٹ ہینڈ کے ہفتہ وار دروس بھیجا کرتے، جن سے امریکہ کی کئی ریاستوں میں موجود طلباء استفادہ حاصل کرتے۔ اِس کے بعد آئزک پٹ مین(Isaac Pitman) کا نام اسی ضمن میں معروف ہے۔ آپ نے 1840میں خط و کتابت کے ذریعے انگلستان کے کئی شہرون میں موجود طلباء کو شارٹ ہینڈ سکھائی۔ تین سال کے مختصر عرصہ میں سر آئزک پٹ مین ایک فاصلاتی نظام پر مبنی ادارہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کی طرز پر تیس سال بعد امریکی ریاست بوسٹن میں اینا ٹکنور (Anna Ticknor) نے خط و کتابت کے ذریعے تعلیم کی ترویج کے لیے ایک ادارے کی بنیاد رکھی۔ بتدریج امریکہ اور برطانیہ کی مختلف جامعات نے فاصلاتی تعلیم میں پیش قدمی کی یہاں تک کہ 1878میں شکاگو یونیورسٹی نے صرف فاصلاتی تعلیم کے تحت 3000 طلباء کو 350 مختلف مضامیں میں داخلہ دیا۔ وقت گزرتا رہا، اور فاصلاتی نظامِ تعلیم کی افادیت بڑھتی رہی۔ بالخصوص اعلیٰ تعلیم کے حصول میں آسانی کے پیدا ہونے سے، نہ صرف اِس نظام کی مانگ بڑھنے لگی، بلکہ اِس کی ضرورت کو بھی شدید محسوس کیا گیا۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول سے اکثر طلباء صرف اور صرف اپنی روزگار کے مسائل یا گھریلو ذمہ داریوں کے پیشِ نظر محروم رہ جاتے ہیں۔ اسی مسئلے کو مدّ نظر رکھتے ہوئے، جامعات کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک کی حکومتوں نے بھی اِس نظام کے تحت ترویجِ علم کی کسی قدر حوصلہ افزئی کی۔
وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنا لوجی میں ترقی ہوئی۔ ریڈیو، ٹی وی، اور پھر انٹر نیٹ نے دنیا کو یکسر بدل دیا۔ ابلاغِ عامہ کے ذرائع کی ترسیل اور تاثیر میں بھرپور اضافہ ہوا۔ ترقی یافتہ ممالک نے ہر بار اِس ٹیکنالوجی کی ترقی سے اپنی جامعات کو بہرہ مند رہنے کی تاقید کی۔ فاصلاتی نظام میں اصلاحات لائی گئیں۔ نہ صرف ٹیکنا لوجی کا استعمال بڑھا، اساتذہ کی باقاعدہ تربیت میں ٹیکنالوجی سے شناسائی کو شامل کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ دنیا کی سب سے بڑی جامعات میں آج ہر درس باقاعدہ ریکارڈ کیا جاتا ہے اور اُسے اِس غرض سے انٹرنیٹ پر ڈال دیا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کہیں بھی موجود ہو، علم سے بہرہ مند ہو سکے۔
کرونا آیا، تو تمام ممالک میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔ مگر، کہیں بھی علم کو قید نہیں کیا گیا۔ اساتذہ تربیت یافتہ تھے، دروس تیار تھے، اور انٹرنیٹ تقریبًا ہر شخص کی پہنچ میں ہے۔ سو تعلیم بغیر تعطل کے جاری ہے۔ امتحانات ملتوی ہوئے ہیں، اصلاح ملتوی نہیں ہوئی ہے۔مگر پاکستان میں ایک عجب صورتحال ہے۔ وہ طلباء، جو تحقیق کے مطابق اپنا 70%جاگتا وقت انٹرنیٹ پر گزارتے ہیں، وہ اچانک انٹرنیٹ کے استعمال سے نا آشنا ہو گئے ہیں۔ اساتذہ کی تربیت کا تو فقدان پہلے سے ہی تھا، اب انتظامیہ کی بے حسی بھی سامنے آ گئی ہے۔ حکومت بھی شدید نفسیاتی ہیجان کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف 31مئی تک کے دورانیے کو تعطیلات گردانا جانے کا حکم، دوسری طرف آن لائن کلاسز کی استد عا۔ خود ایچ ای سی نے گذشتہ بدھ کو اِس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ ہماری جامعات میں فی الحال آن لائن کلاسز کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔
ہم ہمیشہ سے تعلیم کے بجٹ میں اضافے کے وکیل تو رہے ہی ہیں، مگر اب ہمارا مطالبہ یہ بھی ہے کہ وزارتِ تعلیم سخت آڈٹ کروائے کہ آخر جو تھوڑی بہت مونگ پھلی تعلیم کے بجٹ کے نام پر جامعات میں بانٹی جاتی ہے، اُس کے خرچ کی افادیت کیسی ہے؟ کہیں سارے کا سارا پیسہ ہر سال نئے پودے اور نیا روغن تو نہیں کھا جاتے؟ کیا دورِ حاضر کی جدید ٹیکنا لوجی کا استعمال تعلیم کے لیے ہو رہا ہے یا ابھی بھی ہم اپنی نوجوان نسل کو قائدِ اعظم جیسا بنانے کے چکر میں اُن ہی آلات کا سہارا لے رہے ہیں، جن کا سہارا اٹھارویں صدی میں لیا جاتا تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں، کہ ہماری جامعات ابھی بھی صرف اور صرف حاضری پوری کرنے پر بضد ہیں؟
آخر میں اپنی نوجوان نسل سے استد عا ہے کہ اللہ فرماتا ہے، ہدایت اُس کے لیے ہے، جو ہدایت کا طالب ہو۔ ساز گار اور آسان حالات نے کبھی منٹو پیدا نہیں کیے۔ جدو جہد کے بغیر کبھی عظمت حاصل نہیں ہو سکتی۔آپ کرونا سے پریشان ہیں، لاک ڈاؤن کی دہشت ہے، انٹرنیٹ کے مسائل ہیں، اساتذہ کا انداز خامیوں سے خالی نہیں، کچھ بھی سو فیصد درست نہیں۔ مگر اسی طرز کے حالات تو ہوتے ہیں، جو قوموں کو مضبوط بناتے ہیں، شعوری ترقی دیتے ہیں، خودی کی معراج عطا کرتے ہیں۔آسان حالات میں کامیابی حاصل کی تو کیا کمال کیا۔ کمال تو یہ ہے کہ کامیابی اُس حال میں حاصل کی کہ جس حال میں جینا مشکل ہو۔اقبالؔ کا شعر عرض ہے
؎ جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزہ ہے اے پسر!
وہ مزا شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں
0


بہت ہی زیادہ اچھا ہے ۔۔۔۔۔اور بہت خوبصورت باتیں بتائی ہیں۔۔۔۔معلومات میں بھی اضافہ ہوا۔۔۔۔اگر سب طالب علم اس بات پر عمل کرنے لگ گئے انشاء اللہ یہ ملک کامیاب ہو گا۔۔۔۔۔