کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ، ملک بھر میں جلسوں پر پابندی عائد کر دی گئی

اسلام آباد:: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا پھیل رہا ہے، کسی بھی اجتماع میں تین سو سے زائد لوگ جمع نہ ہوں۔ ہم نے ہفتے کو شیڈول جلسہ ملتوی کر دیا، دیگر جماعتیں بھی جلسے نہ کریں۔

تفصیل کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے کوویڈ-19 کا اجلاس ہوا جس میں وبائی مرض کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد قوم سے اپنے اہم خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر 300 سے زیادہ لوگ اکھٹے نہ ہوں۔ اس لئے ہم نے ہفتے کو ہونے والا جلسہ ختم کر دیا ہے، باقی جماعتیں بھی اپنے جلسے ختم کر دیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں کئی فیصلے کیے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے جون جیسے حالات دوبارہ پیدا ہو جائیں۔ اگر ہم احتیاط کریں گے تو ہسپتالوں پر پریشر نہیں پڑے گا۔ اس کیلئے سب سے اول احتیاطی تبدیر یہی ہے کہ ماسک پہنچا جائے کیونکہ اس سے وائرس بہت کم پھیلتا ہے۔ قوم سے کہتا ہوں کہ یہ وقت احتیاط کرنے کا ہے۔ اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو ہسپتال بھر سکتے ہیں۔ وائرس میں پہلے سے زیادہ تیزی آئی ہے۔

کورونا نے ایران اور بھارت سمیت ہمسایہ ملکوں میں تباہی مچائی لیکن ہم پر اللہ نے خاص کرم کیا تھا۔ ہم نے باقی ملکوں کی نسبت اپنی اکانومی کو بچایا۔ تاہم اب امریکا، یورپ اور برطانیہ میں پھر سے لاک ڈاؤن ہو رہا ہے۔ ہم اپنے صوبوں کی صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں چار گنا کیسز بڑھ چکے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سردیاں ہمارے لیے امتحان ہیں۔ چاہتے ہیں کہ شادی ہالز کے بجائے باہر شادیاں ہوں، اس کے علاوہ ریسٹورنٹ کو بھی بند نہیں کیا جا رہا۔ تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سکولوں بارے میں ایک ہفتہ مزید کیسز کو دیکھیں گے۔ اگر کیسز زیادہ بڑھے تو سردیوں کی چھٹیاں دیدیں گے۔ اگلے ہفتے سکولوں بارے فیصلہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دوبارہ مساجد، فیکٹریز اور دکانوں میں ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا۔ ہم نے دکانیں بند نہیں کرنی بلکہ اپنی معیشت کوبچانا ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ ایس او پیز فالو کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں