کیا شامیں ایسے ہی حسین ہوا کرتی ہیں ؟ :: تحریر: کنول فدا عباسی

جب كرونا نے پاکستان میں اپنی جڑيں مظبوط کیں ہر ایک شخص اپنی چار دیواری کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا۔ تھا تو ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی لیکن میرے گھر والے شاید ان چند لوگوں میں شامل کیے جائیں جو اس مستقل قید کو برداشت نہ کر سکے اور اپنے آبائی علاقوں کو چل دیے۔ میرا گاؤں مری ہے جس کو دیکھے بھی ہمیں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا، باقی سب تو بہت خوش تھے وہاں جا کر مگر میری ذات پہ کوئی خاص اثر نہیں پڑا شاید شہر کی زندگی کی اس قدر عادت ہو چکی ہے کے ایک بند کمرے میں فون اور انٹرنیٹ ہی سب کچھ لگتا ہے اسکے علاوہ تو جیسے کچھ رہا ہی نہیں۔

ویسے مری میں اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کے بجلی چلی جاتی ہے اور کئی گھنٹوں تک یا پھر شاید کئی دن تک واپس آنے کا نام ہی نہ لے۔ ایک روز ہمارے ساتھ بھی ایسا ہو ہی گیا۔ سات، آٹھ گھنٹے گزر چکے تھے موبائل فون کی بیٹری بھی بہت کم تھی۔ اس ڈر سے کے کہیں بند ہی نہ ہوجاۓ فون کو کمرے میں چھوڑ کر کھلی فضا میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا، دل میں یہی خیال تھا کہ یہ وقت کیسے گزرے گا اور آخر بجلی کب آئے گی یا پھر آئے گی بھی یا نہیں۔ خیر اسی شش و پنج میں باہر لینٹر پر پڑی کرسی پہ جا کے بیٹھ گئی۔ کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا بس ایک بےچینی سی تھی۔

بیٹھے بیٹھے سامنے پہاڑوں کو دیکھ کر دل میں خیال آیا کہ ان کو کوئی کیسے بنا سکتا ہے اور یہ لوگ جو یہاں رہتے ہیں یہاں تک کیسے پہنچے اور زندگی بسر کرنے لگ گئے۔ اسی سوچ میں گم تھی کہ نظر آسماں پر پڑی چند لمحے کے لئے اسی جانب ٹھہر گئی اور سچ کہوں تو دوبارہ کہیں اور گئی ہی نہیں۔ نیلے آسمان پر بادلوں کے درمیان پرندے، کھیت میں کھیلتے بچوں کی اڑتی پتنگيں، سورج کی کرنيں جو تقریبا اپنے آخری مراحل پہ تھیں اس منظر کی خوبصورتی کو بڑھا رہی تھیں۔
کھلی ٹھنڈی فضا جو اپنے ساتھ ایک سکون لے کے آ رہی تھی جسے شاید میں نے اسلام آباد میں کبھی محسوس نہیں کیا ہوگا، کچھ لمحے بعد پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں اور ڈوبتے سورج کی سرخی آسمان پہ ایسی تھی جیسے کسی نے بہت مہارت سے فلک کو لال رنگ سے رنگ دیا ہو۔ ان بڑے پہاڑوں کے پیچھے چھپتا سورج جیسے کچھ کہہ رہا ہو۔ شاید ایک امید دلا رہا ہو کہ تاریکیوں میں چھپا ایک چاند بھی ہے جو ایک دن ہر ایک پہلو کو اجاگر کردے گا۔ سورج ڈوب چکا تھا اور تب، جس وقت کے گزرنے کا انتظار تھا پہلی بار اس کے ٹھہر جانے کی خواہش دل میں آئی کیوں کے ایسا حسین منظر لوگوں کو تو شاید روز ہی دیکھنے کو ملتا ہو مگر اتنے سالوں میں میں نے پہلی بار اس کا لطف اٹھایا تھا۔ میرے ساتھ پہلی بار ایسا ہوا کہ کوئی شام میں نے دنیا کو چھوڑ کر خود کے ساتھ گزاری ہو۔ اور اس وقت دل اور دماغ دونوں تمام وسوسوں اور برے خیالوں سے محفوظ تھے مگر وقت کب کسی کے لیے رکتا ہے۔

اور ہاں اس شام اس بات کا بھی اندازہ ہوا کہ میرے والدین کو آخر مری کی شامیں اتنی پسند کیوں ہیں اور ہر شام وہ مری کی شاموں کو کیوں یاد کرتے ہیں۔ خیر۔ سورج تو بھلے ہی ڈھل چکا تھا مگر میرے دل میں ایک سوال جگا گیا تھا کہ کیا شامیں ایسی ہی حسین ہوا کرتی ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں