ریاست کے پانچ ستون :: تحریر: فراز احمد وٹو

اردشیر نے ایران میں ساسانی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کا ایک قول آج بھی ایران میں مشہور ہے‘یہ قول ساسانی کی بنیاد تھا‘ اس نے کہا تھا ”قدرت بے لشکر و لشکر بے زرو زربے زراعت‘ و زراعت بے عدالت و حسن سیاست نشور“ یعنی سلطنت طاقتور فوج کے بغیر ممکن نہیں ہوتی‘ فوج مال ودولت کے بغیر نہیں بن سکتی‘ مال و دولت تگڑی زراعت کے بغیر ممکن نہیں اور زراعت انصاف اور امن و امان کے بغیر ممکن نہیں۔ اردشیر نے اٹھارہ سو سال قبل بتایا تھا کہ ریاست کے پانچ ستون ہوتے ہیں اور یہ ستون ایک دوسرے کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں آج کل ریاست کے پانچوں ستونوں یعنی فوج، دولت، زراعت، انصاف اور امن و امان کا حال سرے سے ہی خراب ہے اور ہم نے اپنی سوچ اور طرزِ زندگی یہی رکھا تو جلد یا بدیر ہمارا نام و نشان صفحہِ ہستی سے ہی مٹ جائے گا۔
آپ سب سے پہلے امن و امان کی صورتِ حال کو دیکھ لیجیے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے دیہاتوں سے لے کر بڑے شہروں تک ہر جگہ قانون ہاتھ میں لیا جاتا ہے۔ لوگ ’’سر کے بدلے سر‘‘ کا نعرہ لگا کر خود بدلہ لینے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور عدلیہ کو “Bitches of Riches” کہہ کر بغاوت اختیار کر لی جاتی ہے۔ ہمارے پسماندہ علاقوں کے تو پڑھے لکھے طبقوں کے جذبات میں بھی اتنا ہی ڈسپلن ہے۔ کبھی بدلے تو کبھی غیرت یا توہین کے نام پر آئے روز قتل ہوتے ہیں۔ آپ چند دن قبل پشاور میں ایک پاگل، اسلام آباد کے آئی 9 سیکٹر کے گٹر سے ملنے والی بچی سمیت آئے روز مختلف علاقوں میں رپورٹ ہونے والے کیسز ہی دیکھ لیں۔ حال یہ ہے کہ آپ اپنا بچہ گلی میں اکیلا نہیں نکلنے دے سکتے۔ آپ ذرا کافر ملکوں میں بھی جا کر دیکھیں یہی حال ہے؟
یہ بد امنی اور خون ریزی محض اسی لیے ہے کیونکہ انصاف نہیں مل رہا۔ انصاف کرنے والے ججز سے انصاف مانگا جائے تو جواب یہ آتا ہے کہ ’’یہاں تو قانون ملتا ہے۔ انصاف تو خدا ہی کرے گا۔‘‘ آپ تازہ ترین خبر سنیں: ایک اداکارہ کو 9 سال بعد دو بوتل شراب کے کیس سے رہائی ملی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ بہت گردش میں رہی کہ ’’پاکستان میں انصاف کیلیے آپ کے پاس نوح جتنی عمر اور قارون جتنی دولت ہونی چاہیئے۔ ہمارے ہاں جھاڑو لگانے والا بھی قاتل کو پہچانتا ہے مگر نظام اور سماج ایسا ہے کہ انصاف ہو ہی نہیں پاتا۔ ہم اتنے بدقسمت ہیں کہ عدلیہ بچاؤ تحریک کے بعد ہمیں صرف متکبر ججوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔
اس نا انصافی کے نتیجے میں ہمیں اور کچھ نہیں‘ زراعت اور کاروبار کا برا حال نظر آتا ہے۔ ہمارے ملک میں حکومت کے محض اپوزیشن کے احتساب، میڈیا کو کرائسس میں دھکیلنے اور کاروبار کی آسانی نہ دینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گروتھ منفی ہو گئی ہے۔ احتساب کا یہ حال کہ نواز شریف کو واپس لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں مگر جہانگیر ترین معصوم کا کسی کو نام بھی یاد نہیں کہ موصوف ملک کے ساتھ کیا کر گئے ۔ جیو کے مالک بنا کسی رجسٹرڈ کیس کے جیل میں بند ہیں۔ جب ایسا انصاف اور احتساب ہو گا تو کون یہاں سرمایہ کاری کرے اور کون نوکریوں کے مواقع پیدا کرے؟ یہاں تو لوگ اب نیا کاروبار دوسروں کے نام سے کرنے پر مجبور ہیں کہ کہیں نیب یا ایف آئی اے کے چکر نہ کاٹنے پڑ جائیں۔
اس کا نتیجہ ظاہر ہے یہ نکلا ہے کہ ہم FATF، IMF اور ورلڈ بینک کے مقروض ہو چکے ہیں۔ امریکہ ان اداروں کو ایک اشارہ کرے تو ہم دیوالیہ ہو جائیں۔ سعودی عرب اور UAE کی پالیسیاں امریکہ کے اشاروں پر بدلتی رہتی ہیں اور یہ ممالک اب حقیقت پسند اور مادی دنیا کے طالب ہو رہے ہیں۔ ہمارے عوام اس کے مقابلے میں ترکی کے اردگان، ملائیشیاء کے مہاتیر اور ایران کے خامینی سے متاثر ہیں اور محمد بن سلمان اور محمد بن راشد کو بھٹکے ہوئے شہزادے کہہ رہے ہیں۔ سعودی اور امارات والے اب پاکستان کو شک کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور قرض اور امداد بند کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
امریکہ اپنے دفاع پر 685، چین 181، سعودی عرب 78 جبکہ روس 61 بلین ڈالرز خرچ کرتے ہیں۔ پاکستان اس کے مقابلے میں محض 9 بلین ڈالرز خرچ کرتا ہے۔ یہ کل بجٹ کا %16 بنتا ہے۔ پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذ پر شدید چیلنجز درپیش ہیں۔ اس کی بھارت سے نہیں بن رہی۔ امریکہ کی بھاڑے کی لڑائیوں نے دہشتگردی تحفے میں دی ہے۔ بہت سے لوگ پاکستان کو ایک نارمل ملک نہیں سمجھتے اور ان کے خیال میں پاکستان امت کا قلعہ ہے۔ جبکہ حقیقتاً یہ قلعہ بقول ان لوگوں کے‘ امت کے دشمنوں نے ہی استعمال کیا ہے۔ فوج کو دفاع کے علاوہ ملکی سیاسی امور بھی دیکھنے کی عادت ہے اور حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کے مطابق‘ فوج کی اس عادت نے اس کی صلاحیتوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہیں باتوں کی وجہ سے ایک بڑا طبقہ فوجی جرنیلوں کو سوشل میڈیا پر ٹرول بھی کرتا ہے‘ انہیں اپنی ڈومین میں رہنے کا بھی کہتا ہے اور نواز شریف کے بیانیے کی سپورٹ بھی کرتا ہے۔ مزید جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے بعد پاک فوج کی کمر بھی ننگی کی گئی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟ ہمیں امریکی کی غلامی کرنی ہے اور سعودی عرب کے ٹکڑوں پر پلنا ہے؟ یا ہمیں اسلام کے آفاقی اصولوں اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق چلتے ہوئی اپنے اداروں‘ سماج اور نظام کی اصلاح کرنی ہے؟ کیونکہ ہمیں بڑھکیں مارنے کا بہت شوق ہے‘ ہم دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا بھی دعوٰی کر دیتے ہیں لیکن پال ہم اپنے بچے بھی نہیں سکتے۔ اس کے نتیجے میں ہمارا بین الاقوامی سطح پر ایک غلط امیج بن گیا ہے جسے بدلنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ قصے کہانیوں اور دیو مالائی کرداروں سے فیسینیٹ ہونے کی بجائے حقیقت سے آنکھیں ملائی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں