میری پہچان پاکستان، میرا پیغام بنام انسان :: تحریر: ثناء ندیم خان

کسی کی آنکھ چھوٹی ہے تو ہم اسے چائینیز بلاتے ہیں۔ کسی کا رنگ صاف ہے تو ہم اسے انگریز بلاتے ہیں۔ کسی کے گال گلابی ہیں تو وہ پٹھان کہلایا جانے لگتا ہے، کسی کا رنگ سانولا ہو تو افریقن کہلائے جانے کے ظلم میں شامل ہو جاتا ہے۔ غرض سبھی کے لیئے نام ہم نے مختص کر رکھے ہیں۔ جو نہیں سمجھنا چاہتے ہم کسی کو تو وہ ہے “انسان” ۔۔
کوئی اردو پہ اٹک جائے تو بن جاتا ہے وہ پٹھان۔ کسی کی انگریزی آگے پیچھے ہو جائے تو ہو جاتا ہے وہ بدنام۔ کوئی نسلی رواداری کے چنگل میں پھنس گیا۔ تو کوئی صوبوں کے نام پہ سب کے حقوق ہی سلب کر گیا۔ نہیں دکھایا جو ہم نے وہ ہے ایک “پاکستانی” ہونے کا ثبوت۔۔
کسی نے درس گاہ کی حرمت پامال کی تو سب اہل علم ہو گئے بدنام۔ کسی نے مدرسے میں کیا جنسی استحصال تو تمام جیعت علماء ہو گئے گمنام۔ کسی کے بیٹے کو ملی سزا معصومیت کے حامل ہونے کی تو کوئی پھول سی بچی چڑھ گئی بھینٹ ہوس کی۔۔اب بھی کم عقل اور زیادہ حرص والے ہی یہ بات کرتے پھرتے ہیں کہ قصور عورتوں کے فیشن کا ہے!
یہاں ہر طرح کے دماغ پائے جاتے ہیں۔ کوئی سیاسی بصیرت رکھتا ہے تو کوئی علمی۔ کوئی سفید کو سفید بولتا ہے تو کوئی رات کو دن۔ ہر فن مولا ہے وہ دماغ جو چڑھتے سورج کو پوجتا ہے اور پھر بھی معصوم بنا رہتا ہے۔ کوئی شیعہ سنی فساد کا ہے حامی ، تو کسی کی سمجھ میں یہی ایک بات نہیں آنی۔ سیاسی وابستگیاں کہیں سولی پر چڑھا دیتی ہیں تو کہیں سیاسی وفاداریاں سر پہ بٹھا دیتی ہیں۔ اسلام کے نام پہ کرتے ہیں ہم دھمال۔ جہاں اپنا ہو فائدہ وہاں لے آتے ہیں لبرلزم کے سوال۔
ملک سے محبت محدود کر دی ہم نے صرف 14 اگست، 23 مارچ اور 6 ستمبر کے دنوں تک۔ باقی سال کے 362 دن تو بس پڑوسی ملک کے نغمے ہوتے ہیں ، رقص ہوتا ہے ، فلمیں ہوتی ہیں اور تذکرے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے پرائیویٹ ٹیلیویژن چینلز لگائو تو ایک لمحے یہ گمان ہوتا ہے کہیں سرحد پار کا چینل تو نہیں لگا دیا۔ حتانکہ اب تو پاکستان کا قومی چینل بھی اسی رنگ میں رنگ چکا ہے۔ آخر کو قوس و قزاں کے رنگ بکھرتے ہیں تو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور ٹ-آر-پی یعنی ریٹنگز کی دور میں “رنگ” کلیدی کردار نبھاتے ہیں۔ بس فرق ہے تو “خوشبو” کا۔ کہیں بھی “خوشبو” محسوس نہیں ہو رہی۔
پہلے زمانے کے جیتے بزرگ جب سمجھائیں تو “پرانے خیالات والے” کہلائے جاتے ہیں۔ آج کل کے نوجواں جب قدم قدم پہ ٹھوکر کھائیں تو اس سے سیکھتے نہیں بلکہ اناء بنا لیتے ہیں۔ کامیابی کی سیڑھی کو شورٹ-کٹ سے تشبیہہ دینے لگے ہیں ۔ اور ہمت و حوصلے کو اقبال کی گمشدہ میراث قرار دیتے ہیں۔ اشعار کی زبان بھی صرف وہی سمجھ آتی ہے ہمیں جس میں ہماری زندگی کا تجربہ چھلکتا ہو۔ ورنہ باقی تو سب سر کے اوپر سے گزر جاتا ہے۔ نماز جو فرض اول ہے اسے ہم نے فرض آخر بنا لیا ہے اور دن رات رونا اسی بات پہ مچا رکھا ہے کہ اللہ ہماری سنتا ہی نہیں۔ جسم دکھانا جدت ، جسم چھپانا دقیانوسیت میں شمار کرنے لگے ہیں ۔ کہ آخر “میرا جسم میری مرضی” بھی چند چیدہ چیدہ خواتین کے وارڈ روب کا سلوگن ہی ہے۔
جب ہم مذہب کو ہمارا ذاتی فعل اور اللہ اور ہمارے درمیان کا رشتہ قرار دیتے ہی ہیں ، تو پھر مشہور شخصیات اپنی شادی، طلاق، اور بچوں کو لے کر پبلک پلیٹ فارمز پر آ کر ڈھنڈورا کیوں پیٹتے رہتے ہیں۔ کیا وہ ذاتی فعل نہیں؟۔ دنیا کا ہر انسان اپنے نسب، قبیلے، روایات، ملک کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ نسب ، قبیلہ اور روایات ان کے مزہب کی طرف سے عطا کردہ نشانیاں کہلائی جاتی ہیں۔ اگر ہم “اسلام” جیسے عظیم ، سب سے اعلیٰ، سب سے زیادہ انسانیت کی تلقین اور انسانیت سے پیار کرنے والا، خواتین کی عزت آزادی کا ضامن مزہب، کے نہیں بن سکے ، تو پھر افسوس ہم کسی سے بھی مخلص نہیں ہو سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں