ٹک ٹاک معاشرتی ناسور ::‌ تحریر: رعنا اختر

اکیسویں صدی کے جدید دور سے جب سے ہمارا واسطہ پڑا ہے ، ہمارا سارا نظام عالم سمٹ کر ایک مٹھی میں آ چکا ہے ۔ اس جدید دور کی ایک کڑی انٹرنیٹ ہے جس نے پاس والوں کو تو قریب کیا ہی ہے جبکہ اب سات سمندر پار والے بھی قریب ہو چکے ہیں ۔ صرف ایک کلک کا فاصلہ ہے جو ہم پلک جھپکتے عبور کر لیتے ہیں ۔ سماجی ویب سائٹس نے دنیا کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہیں ۔ ان ویب سائٹس کا گھیرا اتنا تنگ ہو گیا ہے کہ نوجوان تو نوجوان بوڑھے بھی اس گھیرے کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔
اور یہ ویب سائٹس سوشل میڈیا ، فیس بُک ، انسٹاگرام ، اور واٹس ایپ تک محدود نہیں رہیں اس جدیدیت کی ایک نئی کڑی ٹک ٹاک بھی ہے ۔ فیس بُک نے ہمیں جس مقام پہ لا کر کھڑا کیا ہے اس سے کوئی بھی نظریں نہیں چرا سکتا ہیں ۔
اس کے فوائد اتنے نہیں جتنے نقصانات ہیں ۔ انہیں گنتے ہوئے بھی خوف آتا ہے ۔ اس نے گھروں کے گھر اجاڑ کے رکھ دیئے ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل کی بربادی کا بیڑا فیس بُک نے اٹھایا ہوا ہے ۔ ہماری نوجوان نسل اس نشے میں ایسے پھنسی ہے کہ سوائے ان کی بربادی کے والدین کے ہاتھ کچھ نہ رہا ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ ہم سوائے افسوس کے کچھ کہہ نہیں سکتے ، سب کچھ برباد ہوتا رہا اور ہم اسے جدت پسندی کہتے رہے اور سلسلہ ایسا چلا کہ اب اسے روکنے کے لیے ہمارے پاس اختیارات ہی نہیں رہے ۔ سوائے بیچارگی کے ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں ۔ اسی اثناء میں ایک اور ویب سائٹ کا اجراء کیا گیا ۔
ٹک ٹاک نامی اپلیکیشن نے رہی سہی کثر بھی ختم کر کے رکھ دی ۔
اس ویب سائیٹ کو انگریزوں نے 2016 میں متعارف کروایا ۔ اس کے متعارف ہوتے ہی بہت بڑی تعداد میں نواجوان اس کے گرویدہ ہو گئے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے 150 ممالک میں 500ملین ویوئرر ہو گئے ۔ حیرانی اس بات پہ نہیں کہ یہ لانچ کی گئی ظاہر سی بات ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے آئے دن کوئی نہ کوئی تو اپیلیکشن متعارف کروائیں گے ہی ناں ۔ سوال اس بات پہ ہے کہ مسلمانوں کو کیا ہو گیا جو کہ انگریزوں کی سازشوں کو سمجھنے سے قاصر ہو چکے ہیں ۔ دشمن تو چال چلے گا ہی لیکن افسوس ہم اس جال میں پھنستے ہی چلے جا رہے ہیں ۔
وہ اپنے مقاصدِ میں بامراد ہو کے لوٹ رہے ہیں اور ہم اپنے مقاصد زندگی کو سرے سے ہی نظر انداز کرتے جا رہے ہیں ۔ دشمن تدابیر اختیار کرتا ہے اور ہم معاون بنتے جا رہے ہیں ۔ وہ اپنا مشن آگے بڑھا رہا ہے اور ہم اس کا سہارا بنتے جا رہے ہیں ، ان کے مقاصد بہت خطرناک ہیں کہ مسلمانوں کی ساخت کو کمزور تر کر دیا جائے ، ان کی غیرت کو اپنے ہی ہاتھوں سے بھسم کر دیا جائے ، ان کے کردار کو داغ دار بنا دیا جائے ، ان کے اپنے ہی گھروں میں انہیں برہنا کر دیا جائے ، ان کی عزتوں کو ان کے اپنے ہی ہاتھوں نیلام کر دیا جائے ، ان کی غیرتوں کے جنازے نکالےجائیں ۔
یہی ٹک ٹاک نام اپلیکیشن ہے جس نے بیٹیوں کو ان کمرے میں محفوظ نہ رہنے دیا ، جس کے ذریعے ہماری بیٹیاں اپنے حسن کے جلوے دکھاتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ وہ لباس پہن کے بھی برہنہ ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوان جو ہماری مملکت کے معمار ہیں ایسی غیر اخلاقی عادتیں اپنا چکے ہیں کہ بس اللہ کی پناہ ۔ ہماری پوری نسل نے ہمیں اپنے سر شرم سے جھکانے پہ مجبور کر دیا ہیں ۔
ہماری نسل اپنا مقصد حیات ہی بھول چکی ہے ، وہ بھول چکی ہے کہ ہم ایکٹنگ کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ۔ اس جدید دور نے تو ہماری نسلوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ کیا اس جدیدیت کا یوں استعمال غلط نہیں ہے ؟؟ کیا یہ سب کر کے ہم اللہ کے غضب کے حقدار نہیں بن رہے ؟؟؟ کیا ہمارا مذہب ہمیں یہ سب کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟؟؟ ہماری شریعت ہمیں ایسی باتوں سے گریزاں رہنے کا حکم دیتی ہے ۔ اسلام نے عورت کو بہت اعلی مقام عطا کیا ہے وہ اب یوں اپنی عصمت دری کرتی پھرے گی دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ عورت کا اتنا بلند مقام ہے ۔ اللہ کا حکم ہے عورت گھر میں بھی رہے تو پردے میں رہے لیکن اب عورت خود کو عام کرتی جا رہی ہے وہ اپنا مقام و مرتبہ بھول گئی ہے ۔ عورت کو اپنی آواز تک پست رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اگر عورت کو نماز بھی ادا کرنی ہے تو گھر کے کسی کونے میں کرے جہاں کسی غیر مرد کی نظر نہ پڑ سکے ۔ لیکن اب قیامت سے پہلے ہم نے اپنے اعمال سے قیامت برپا کر رکھی ہے ۔ اب بنت آدم اور ابن آدم اپنے رب کے احکامات کو بھول بیٹھے ہیں ۔ قرآن پاک کے ارشاد کا مفہوم ہے ۔ یقیناً تم پہ نگہبان مقرر ہے ، کراما کاتبین ۔
میری بہنو ، کیا تمہیں معراج کے موقع پہ اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کا جہنم کا منظر دیکھنا یاد نہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا میں نے جہنم میں ایک عورت کو دیکھا جس کا جسم آگ کی قینچی سے کاٹا جا رہا تھا ، یہ اس عورت کی سزا تھی جو اپنا جسم غیر مردوں کو دکھاتی پھرتی تھی ۔
انسان اپنی عزت نفس کا خود محافظ و نگہبان ہے ۔ اگرچہ ہم کسی کو نگاہ نیچی رکھنے کا پابند تو نہیں کر سکتے لیکن ہم خود کو دوسروں کے سامنے آنے سے تو روک سکتے ہیں ۔
ہم دوسروں کی نظروں میں حیا پیدا نہیں کر سکتے لیکن خود تو باحیا بن سکتے ہیں ۔ اور حیا کے بارے میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان ہے حضرت عثمان بن عفانؓ بیان فرماتے ہیں ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا بے شک ایمان اور حیا دونوں ساتھی ہیں جب ان میں سے کوئی ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے ۔ اس حدیث کے تناظر میں اب ڈرنے کی بات یہ ہے کہ ٹک ٹاک اور اس سے متعلقہ ناسور ہمیں اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے پہ مجبور نہ کر دے ۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے آمین ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں