عوام اور مہنگائی ‌::‌ تحریر: علیم افضل

جب بات کی جائے مہنگائی کی تو ہر انسان مہنگائی کا رونا روتا نظر آتا ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تقریباََکرۂ ارض پہ موجود تمام ممالک ہی مہنگائی جیسی مصیبت سے دوچار ہیں۔ آئے دن ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ ہم نے اپنی ضروریاتِ زندگی میں استعمال ہونے والی اشیاء کے علاوہ مہنگی چیزوں کی خواہشات کو بھی بڑھا لیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمیں مہنگائی زیادہ نظر آتی ہے۔مہنگائی کے مختلف سدِ باب ہیں جیسا کہ عالمی منڈیوں میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، ملکی سطح پر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور کچھ کاروباری لوگوں کی اپنی اجارہ داری بھی مہنگائی کی وجوہات میں سے چند ہیں۔ عالمی منڈیوں اور تقریباََتمام ممالک میں امریکی ڈالر کے مطابق ہر شئے کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے۔ اگر امریکی ڈالر کی قدر میں کمی واقع ہوگی تو اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی ہوگی اور اگر امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو گا تو اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔ اگر بات کی جائے پاکستان میں رہنے والوں کی تو یہاں پر زیادہ تر متوسط درجے کے لوگ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباََ تیرہ (13%) فیصدبہت زیادہ امیر طبقے،اٹھاون(58%)فیصد عوام متوسط درجے اور اُنتیس (29%)فیصد غریب طبقے کے لوگ رہتے ہیں۔
عوام میں مہنگائی کو لے کر بہت زیادہ پریشانیاں پائی جاتی ہیں۔ مثلاََ گھر کا کرایہ، کھانے پینے کا سامان،بجلی و گیس کے بل، کپڑے جوتے، بچوں کی تعلیم کے اخراجات اور کسی خوشی غمی میں آنے جانے کے لیے اتنی آمدنی میں گزارا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر ہمارے ہاں یہ بھی ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی مذہبی یا ملکی تہوار آتا ہے تو بہت سارے لوگ ہر چیز کی قیمتوں میں خود سے ہی اضافہ کر لیتے ہیں اور مہنگی کر کے بیچتے ہیں کیوں کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سب کو ان اشیاء کی ضرورت ہے۔کچھ کاروباری حضرات جن کا تعلق اشیاء کی پیداوار کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ لوگ اپنی مرضی کی قیمتیں متعین کر تے ہیں اور بہت زیادہ منافع حاصل کرتے ہیں۔ جس سے تھوک فروشوں، پرچُون والوں اور گاہکوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔زیادہ تر لوگوں نے کاروبار میں اپنی اجارہ داری بنائی ہوئی ہے۔
مہنگائی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان پر بہت زیادہ قرضہ ہے۔ قرضے کی وجہ سے ہمارے ملک میں چیزوں کی قیمتیں دن بہ دن بڑھتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم لوگ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی میں مہنگی سے مہنگی چیزیں خریدنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے موٹر سائیکل خریدا ہے تو دوسرا شخص اس سے حسد کر کے گاڑی خریدے گا اور اسی طرح ہر کوئی حسداََ اپنی آمدنی سے زیادہ اخراجات کر لیتا ہے اور قرض لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اسی لیے ایک مشہور ِ زمانہ محاورہ ہے کہ ”چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیے“۔ اس محاورے سے واضح ہے کہ جس انسان کی جتنی آمدنی ہے اس کو چاہیے کہ اپنے اخراجات اسی آمدنی کے مطابق کرنے چاہیے۔ نہ کہ آمدنی سے زیادہ اخراجات ہوں۔ ہم لوگ بہت ساری فضول خرچیاں بھی کرتے ہیں، مثلاََ سگریٹ نوشی، تمباکو نوشی، پان کھانا اور مضرِ صحت چیزوں کا استعمال صحت اور آمدنی دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔اس لیے فضول خرچیوں سے بھی گریز کرنا چاہیے اور ضرورت کے مطابق اور اچھی اشیاء خریدنی چاہیے۔ جس طرح اگر پانچ (05) کپڑوں کی ضرورت ہے تو اتنے ہی خریدنے چاہیے، نہ کہ آٹھ(08)۔مہنگائی مکمل طور پر ختم تو نہیں ہو سکتی لیکن اس میں حد درجہ تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ عوام مل کر یہ فیصلہ کر لے کہ ہم نے بہت زیادہ عیش و آرام والی چیزیں یعنی جنہیں لگژری(Luxury) کہتے ہیں نہیں خریدنی اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کی چیزوں کو خریدنا ہے۔ کوشش یہی کریں کہ ہم اپنے ملک میں بنائی ہوئی چیزوں کو خریدیں اور استعمال کریں۔ اس طرح ہمارے اپنے ملک میں بنی ہوئی چیزوں کا معیار بھی بہتر ہوگا اور چیزوں کی قیمتوں میں کمی اور پیداوار زیادہ ہوگی۔ اس سے ہمارا ملک ترقی بھی کرے گا اور لوگوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔
گورنمنٹ کو چاہیے کہ ملک میں مختلف فیکٹریاں اور انڈسٹریاں لگائے اور اپنے ملک میں ہی زیادہ سے زیادہ چیزوں کی پیداوار کرے۔ ملک میں نئی فیکٹریوں اور انڈسٹریوں سے بہت زیادہ فائدے حاصل ہوں گے، ایک یہ کہ بے روزگاری میں کافی حد تک کمی ہو گی، دوسرا لوگوں کو اپنے ہی ملک کی سستی اور میعاری چیزیں میسر ہوں گی، تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ہم دوسرے ممالک میں اپنی چیزوں کی برآمدات کریں گے جس سے ہمارے ملک میں زیادہ آمدنی آئے گی اور ہمارے ملک کی قدر میں اور روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا۔ دوسرے ممالک سے جتنی آمدنی حاصل ہوگی اس سے ہمارے ملک کا قرض بھی کم ہوتا جائے گا اور کچھ عرصے میں سارا قرض ادا ہو جائے گا۔ ہم عوام کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ جتنا بھی ہو سکے اپنے ملکِ پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔کیوں کہ پاکستان کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں اور ہماری پہچان ہی ”پاکستان ہے“۔ اللہ تعالیٰ سے التجاہے کہ ہمارے ملک کی آن شان کو سلامت رکھے اور تاقیامت رکھے۔ آمین ثم آمین
علامہ محمد اقبالؒ کا شعر ہے: تیغوں کے سائے میں ہم پَل کر جواں ہوئے ہیں
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

اپنا تبصرہ بھیجیں