جدید دنیا کے پگھلتے گلیشئر :: تحریر: فراز احمد وٹو

دنیا کبھی ایک سی نہیں رہی۔ یہ ایک مسلسل ارتقائی سفر پر گامزن ہے۔ ایک وقت تھا انسان جنگلوں میں اور غاروں میں جیتا اور رزق تلاش کرتا تھا۔ آج وہی انسان خلاء کا مسافر ہے‘ پرندوں کی طرح ایک شہر سے دوسرے شہر اڑ کر پہنچ جاتا ہے ۔ اور بھی ایسے بہت سے کام کر چکا ہے جن کو ایک زمانے میں لوگ خدا کی تقسیم کہہ کر اسے چیلنج کرنے سے ہی انکار کر دیتے تھے۔ مثلاً کہا جاتا تھا کہ اڑنا خدا نے پرندوں کا مقدر رکھا ہے انسان اور طرح کی تخلیق ہے۔
سائنسی انقلاب نے دنیا کی فکر نہیں، طرزِفکراور چیزوں کو اپروچ کرنے کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔ سینکڑوں سال قبل انسان کے یہ کہنے کہ ’’انسان سب کر سکتا ہے‘‘ میں اتنی جان نہ ہوتی جتنی آج ہے۔ آج انسان زمین کی زندگی کو بہترین بنانے سے بھی آگے بڑھ کر زمین جیسے کسی اور سیارے سے خوراک اور پانی کی تلاش میں مصروف ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی اور کائنات یا سیارہ تلاش کیا جائے جو کہ زمین کے نا قابلِ برداشت یا رہائش کیلیے نامناسب ہو جانے پر متبادل آپشن کے طور پر موجود ہو۔
دنیا کا اصول ہے کہ جو علم یا علاقہ جسے پہلے ملے‘ اسی کو فائدہ بھی پہلے ہی ملتا ہے۔ کوئی اور تلاش بھی لے تو دنیا میں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ والا قانون تو بہرحال موجود ہی ہے۔ سو ایسی دریافتوں کے فائدے تو بہر حال یورپ، امریکہ، روس اور چین ہی کو پہلے ملیں گے جس کے بعد انسانیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر یا ترس کھا کر ہو سکتا ہے کچھ فائدہ ہمارے جیسی باقی دنیا کی پسماندہ اقوام کو بھی مل جائے۔ یہ بھی حقیقت کہ ہمارے جیسی قوم کا اس صورتِ حال میں حال تو وہی ہے کہ:
؎ وہ چاند پر پہنچے ہیں ستاروں کی طرح لو
ہم ہائے صنم ہائے صنم کرتے رہیں گے
لیکن اگر ہم اس قابل ہی ہو جائیں کہ اپنے ملک کے لوگوں کو زمین پر ہی بہتر زندگی دے دیں تو یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ دوسروں کو کوئی سیارہ ملے نہ ملے‘ جو سیارہ اللہ نے خود دے دیا ہے‘ وہ تو اچھا کریں۔
اس وقت زمین پر رونما ہونے والی تبدیلیوں نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سائنسدان عرصہ ہوا بتا چکے ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ ایک دن یہ سکڑنے لگے گی جس کے بعد سیاروں کا آپس میں ٹکراؤ ہو گا اور سب ختم ہو جائے گا۔ اس اختتام پر ہمارا کامل یقین ہے لیکن ہمارا دین اور عقل یہ بھی سکھاتے ہیں کہ انسان کو دوراندیشی اور عقل سے کام لینا چاہیئے۔
یوسفؑ اگر مصر میں آنے والے قحط کا جان کر مناسب منصوبہ بندی کا نہ کہتے تو وہ ان حالات پر کیسے قابو پاتے؟ طالبِ علم نے کسی سے سنا تھا کہ انسان کے پاس جتنا علم ہو یا جو بھی کام آتا ہو‘ وہ اس کیلئے خدا کے حضور جواب دہ ہے ۔ اس سے محاسبہ ہو گا اور پوچھا جائے گا کہ جان کر بھی غافل کیوں بنے اور کیوں ان کا بھی نقصان کروایا جو تمہارے بروقت اقدام سے بچ جاتے۔ طالبِ علم کو یہ بات سچی لگتی ہے اور یقین ہے کہ جیسے ایک فوجی اپنے پہرکیلئے ذمہ دار ہے‘ ویسے ہی دانشور اور سائنسدان بھی اپنی ذمہ داریوں کیلیے جواب دہ ہیں۔ وہ اپنے ادارے، عوام اور رب سب کو جواب دہ ہیں۔ محاسبہ یقیناً ہو گا۔
ہم مسلمانوں نے آج تک دنیا کیلئے پینسل تک نہیں بنائی۔ ہم بلب سے لے کر ہوائی جہاز تک‘ یورپی اقوام پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم سیاسی اور عسکری لحاظ سے بھی بہت پسماندہ ہیں اور ہمارے ممالک میں انسانوں کا معیارِ زندگی بھی بہت برا ہے۔ مسلمان اسلامی حکومت کا راگ تو بہت الاپتے ہیں لیکن آج یورپ بارڈر کھول دے تو ایک انسان بھی ادھر رہنا پسند نہ کرے۔ یہ ایک فطری چیز ہے کہ انسان خوشحالی اور آسودگی کی طرف بھاگتا ہے۔ طلباء اور جدید لوگ اگر پاکستان چھوڑ کر یورپ جا بستے ہیں یا وزیرِاعظم صاحب کے مشیروں کے پاس بھی امریکہ یا کینیڈا کی شہر یت موجود ہے تو اس کی وجہ بھی وہ خوشحالی، بہتر مواقع اور سہولیات ہی ہیں جو ان ممالک میں عام شہریوں کو بھی میسر ہیں۔
ہمارے لیے اب یہ فیصلے کا وقت ہے کیونکہ ایک ٹارگٹ سیٹ کر کے ساری صلاحیت اور انرجی اسی کیلیے وقف کرنے اور بے معنی، حقیقت سے دور اور طلسماتی کہانیوں کو حقیقت بنانے میں وقت اور صلاحیت ضائع کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اگر یہ حقیقت آج بھی تسلیم نہ کی گئی اور کہانیوں میں حقیقت تلاشتے رہے تو بہت دیر ہو جائے گی۔
پوری دنیا اس وقت بہت جدید ہو کر بھی مسائل میں گھری ہوئی ہے‘ نفرتیں اور سازشیں زیادہ ہیں اور لیڈران مزدوروں اور کسانوں کی بجائے اناج اور فیکٹری کی پرواہ کر رہے ہیں تو اس میں بھی چند قدرتی جذبے جیسے لالچ، کم عقلی اور تفاخر شامل ہیں۔ آج بھارت پاکستان اور چین کا دشمن ہے جس کو محاذ بنا کر امریکہ چین کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ چھیڑ رہا ہے۔ مسلمان کچھ کر نہیں سکتے، بھکاری بنے ہوئے ہیں اور سارے سٹریٹجک فائدے مفت میں گنوا کر استعمال ہو چکے ہیں۔ ایسی جنگ و جدل والی دنیا ان مصائب سے کیسے نمٹے گی جن کیلیے اسے بحثیت مجموعی ایک گلوبل لیڈرشپ کی ضرورت ہے؟ اگر مفادات اور لالچ اس مقصد کی راہ میں حائل رہیں گے تو کامیابی کیسے مقدر بنے گی؟
اگرچہ آج زیادہ مسؑلے انسان کو انسان ہی سے ہیں لیکن ایک مسؑلہ ایسا ہے جس کیلیے عالمی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ مسؑلہ ہے زمین کے بدلتے موسمی حالات کا!
زمین ہزاروں سالوں سے انسان کا مسکن ہے اور یہ معدنیات، اناج اور خزانے اگلتی رہتی ہے لیکن گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشیئرز پگھلنا شروع ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے سمندری پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ انٹارکٹیکا کی مشرقی سائیڈ پر گلیشیئرز پگھلنا شروع بھی ہو چکے ہیں اور سائنسادانوں کے مطابق 2100 تک انٹارکٹیکا ختم ہو جائے گا۔ سمندری سطح میں اضافے سے بنگلہ دیش اور مالدیپ سمیت بہت سے ممالک ڈوب جائیں گے۔ اگر سمندری سطح میں متوقع %70 اضافہ ہوا تو دنیا میں چند شہر ہی بچ سکیں گے۔
گلوبل وارمنگ کی وجہ وہ گیسیں ہیں جو کہ اے سی، گاڑیوں اور فریج سے نکلتی ہیں۔ درجہِ حرارت بڑھنے سے نہ صرف گلیشیرز پگھلیں گے‘ بلکہ گرم علاقے بھی رہنے کیلیے جہنم بن جائیں گے۔ ہر سال درجہِ حرارت بھی بڑھ رہا ہے اور انٹارکٹیکا سمیت پوری دنیا کے گلیشیئرز کا %1 بھی پگھل رہا ہے۔ یہ سب پڑھایا تو کورسز میں بھی جاتا ہے اور ڈسکشنز بھی ہوتی ہیں لیکن عملی قدم دنیا میں کوئی نہیں لے رہا۔
اقوامِ متحدہ کے علاوہ بہت سے ممالک اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکمتِ عملیاں بنا رہے ہیں لیکن ان کے موثر نہ ہونے کی وجہ سے ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا شہریوں کو اس مسؑلے کی سنگینی سے ایجوکیٹ کرے۔ لوگ اس مسؑلے کو بڑا ہلکا لیتے ہیں اور لیڈرز تک اسے سیریئس نہیں لیتے‘ زبانی کلامی باتیں ہوتی ہیں یا کسی بین الاقوامی فورم یا ادارے کے ایشو ہائی لائٹ کرنے پر کچھ درخت لگ جاتے ہیں یا کوئی تقریر ہو جاتی ہے ، لیکن جزوی کی بجائے مجموعی طور پر بین الاقوامی سطح پر اقدامات اٹھانے کی پوزیشن میں دنیا اور بہت سے مسائل کی وجہ سے آ ہی نہیں پاتی۔ اس کے علاوہ یہ کسی ایک یا چند ممالک کی کارکردگی سے حل ہونے والا مسؑلہ نہیں ہے۔ بہتر اقدامات کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے تا کہ مسؑلے پر قابو پایا جا سکے‘ قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔ نئی نسل بہت تیز ہے۔ وہ سوال کر لے گی کہ ہمیں یہ کیسی دنیا دے کر جا رہے ہو؟

اپنا تبصرہ بھیجیں