قلب کی بیماری :: تحریر : رعنا اختر

آج کے دور کا انسان محتلف پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے ، بے چینی ، بے سکونی و اضطراب کا شکار ہے ۔ کوئی مالی پریشانی میں مبتلا ہے تو کوئی زہنی و جسمانی بیماری میں مبتلا ہے ۔ کسی کو سر پہ چھت نہ ہونے کی پریشانی ہے تو کوئی گھر کو مزید بڑا بنانے کے چکروں میں پڑا ہوا ہے ۔ کسی کا کاروبار نہیں چل رہا تو کوئی بے روزگاری سے پریشان ہے ۔ کوئی دو وقت کی روٹی کے لیے جتن کر رہا ہے اور کوئی دو وقت کی روٹی کو ہضم کرنے کی تنگ و دو کر رہا ہے ۔ یعنی کہ ہر انسان سکون قلب کی تلاش میں ہے ۔ دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ انسان روح کو بھی بیمار کر چکا ہے ۔ انسان کو کیسے پتا چلے گا اس کا دل بیمار ہے ؟
پہلی علامت :
انسان کا مادی زندگی کی طرف رجحان زیادہ ہو جاتا ہے ۔ وہ دنیا کو آخرت پہ ترجیح دینے لگ جاتا ہے آخرت کی فکر بھول جاتا ہے ۔ دنیاوی چیزوں سے دل لگاتا ہے اور ان کے حصول کے لیے جدو جہد کرتا ہے ۔ دنیا کا گھر اچھا لگتا ہے اور آخرت کے گھر کی پرواہ نہیں کرتا ۔ دنیا کے عیش و عشرت کی زندگی کو دائمی سمجھ لیتا ہے ۔ اور اپنی اخروی زندگی کو اچھا بنانے کا سوچتا بھی نہیں ہے ۔
دوسری علامت :
انسان رونا چھوڑ دے یعنی کہ وہ چاہ کے بھی رو نہ سکے تو وہ سمجھ جائے کے اس کا دل سخت / بیمار ہو گیا ہے ۔ دل کی سختی اللہ سے دوری کی علامت ہے ۔ آنکھ کا رونا انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے اور دل کا سخت ہو جانا اللہ کے قُرب سے دوری کی علامت ہے ۔ کبھی انسان کا دل روتا ہے تو کبھی انسان کی آنکھ ۔ دل کا رونا آنکھ کے رونے سے زیادہ افضل ہے ۔ رونا انسان کو اللہ کے نزدیک کر دیتا ہے جیسے ایک بچہ رو کر اپنی ماں کی توجہ حاصل کر لیتا ہے اسی طرح ایک انسان کا اپنے رب کے حضور پیش ہو کے رونا انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے بلکہ انسان کی توبہ کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کے انسان کی آنکھ کے ساتھ اس کا دل بھی روئے ۔
تیسری علامت :
لوگوں سے ملنے ملانے کی تمنا ہو ، محفلوں میں جانا لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا ۔ جبکہ نماز کے لیے وقت نہ نکالنا ۔ نماز کا وقت نکل رہا ہے تو نکل جائے پرواہ نہ کرنا ۔ یہ دل کی موت کی علامت ہے ۔ انسان کا دل جب ذکر سے محروم ہو جاتا ہے اور انسان ذکر الہیٰ نہیں کرتا تو پھر اللہ اسے دنیا کے حوالے کر دیتا ہے ۔ جو کے اللہ کی انسان کے ساتھ ناراضگی ہے ۔ اسے دنیا جہاں کے لوگ تو یاد ہوتے ہیں لیکن اپنا رب یاد نہیں ہوتا ۔
چوتھی علامت :
جب انسان کا نفس اس پہ حاوی ہو جائے تو سمجھ لے انسان کے دل کی موت ہو چکی ہے ۔
نفس کو کنٹرول کرنا اللہ کی رحمتوں میں سے ایک بہت بڑی رحمت ہے۔ نفس کے متعلق حدیث کا مفہوم ہے ۔ اپنے نفس کو قابو میں رکھنا جہاد کبیرہ ہے ۔جس نے اپنے نفس کو کنٹرول کر لیا اس نے جینے کا طریقہ پا لیا ۔ لیکن جب انسان کا نفس پر سے کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر انسان بہت سی برائیوں میں گر جاتا ہے ۔
اس کا ضمیر ملامت کرنا چھوڑ دیتا ہے پھر جو چاہے کرتا جاتا ہے ۔ انسان اللہ کا ذکر کرنا چھوڑ دیتا ہے اسکا دل اللہ کے ذکر ازکار میں نہیں لگتا ۔ نماز اگر پڑھتا ہے تو زیادہ دیر تک جائے نماز پہ کھڑا نہیں ہو پاتا ، بس بھاگنے کی پڑی ہوتی ہے ۔ اور کئی بدنصیب نماز ادا کرنے کے لیے اٹھ ہی نہیں پاتے ۔
لہٰذا اپنے دل کا علاج کرنے کے لیے اپنے رب کی طرف رجوع کریں ۔ ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے ، قلب کا سکون صرف زکر الہیٰ میں ہے ۔
اس کے علاوہ دنیا میں قلب کے سکون کا کوئی علاج نہیں ہے ۔ اللہ کا زکر ہر بیماری کا علاج ہے ۔اپنے نفس کو مار دو تاکہ آخرت کے دن نجات پا سکو ۔ اپنی جانوں کو اللہ کے لیے وقف کر دو، اپنی تخلیق کا مقصد پہنچانو ۔ برائی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے ایسے لوگوں میں بیٹھنا شروع کریں جو آپ کو آپ کے رب کے قریب کر دیں ۔ رب کی قُربت ہی انسان کی نجات ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں