ایک معمولی سا بیج ::‌ تحریر:سید صاءم شاہ گردیزی

“پوزیٹیویٹی” یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کا مفہوم بہت سے لوگ سمجهتے ہوں گے مگر شاید کچه نایاب لوگ ہی ہوں گے جو اس لفظ کے ثمرات سے عملی زندگی میں بہرہ ور ہوتے ہوں گے ۔ پوزیٹیویٹی کیا ہے ؟ کبهی نا امید نہ ہونا. ہمیشہ اچها سوچنا کبهی ہمت نہ ہارنا .آجکل ہم مشینوں کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں ہم سب مادہ پرست بن چکے ہیں ہماری سوچ میں مادیت کا زہر گهل گیا ہے ہر بندہ کسی نا کسی چیز کے پیچهے پاگل ہے ہر دوسرا بندہ ناکام ہوتا ہے اور ہم زیادہ ترناکام ہونے کے بعد شدید تناو کا شکار رہتے ہیں جو چیز حاصل نہیں کر پاتے اس کے بارے میں سوچ کر اپنا آنے والا کل ،اپنا جسم اور اپنے رشتے تباہ کر ڈالتے ہیں. اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ ہم سیاست دانوں اور دوسرے مشہور لوگوں کی تو ہر حرکت پر نظر رکهتے ہیں جو ہمیں نہیں جانتے ہوتے مگر ہم ان لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں جو ہمارے قریبی ہیں جنہیں ہماری ضرورت ہے اور اپنے اعزا و اقارب اور اپنے بہترین مستقبل کے لیے زندگی میں پازیٹویٹی کو اپنانا لازم اور ملزوم ہے۔
اکیسویں صدی کے لوگ جب ذہنی و اعصابی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں تو صرف موبائل پر ایک کلک کرنے سے انہیں سینکڑوں موٹیویشنل ویڈیوز اور باتیں مل جاتی ہیں جنہیں سن کر وہ وقتی طور ہر تو بہت خوش ہو جاتے ہیں جیسے پوری دنیا کو فتح کر دیا ہو مگر یہ اطمینان زیادہ سے زیادہ دو یا تین دنوں تک رہتا ہے پهر اسکے بعد وہی بے اطمینانی اور ناامیدی اس کو بے چین و بے قرار کر دیتی ہے.کیونکہ وہ موٹیویشنل الفاظ ہمارے دل پر اثر نہیں کرتے۔ وہ بس ایک قسم کا بخار ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اترتا چلا جاتا ہے۔ ہم پوزیٹیویٹی سے اس وقت بہترین طریقے سے فوائد اٹها سکتے ہیں جب ہم خود کو بدلنے کے لیے تیار ہوتے ہیں.جب ہمیں اللہ قادرمطلق کی ذات پر توکل ہوتا ہے.اور جبتک ہم دل کی آنکه نہیں کهولیں گے ہمیں کبهی بهی امید اور اطمینان نظر نہیں آ سکتا.
ویسے انسان تو اشراف المخلوقات ہے، تمام مخلوقات میں سے بہترین پر آجکل کا انسان اشرف المخلوقات کے معیار پر پورا نہیں اترتا..ہم اگر اپنے اردگرد پڑی چیزوں پر دهیان دیں تو ہم حیران و پریشان ہو جاءیں کہ حقیقی دنیا کیاہے،زندگی کیا ہے،قدرت کیا ہے،خدا کون ہے،اس کی بندگی کیا ہے،انسان کا کیا مقام ہے اور انسان کر کیا رہا ہے. آءیے ایک بیج کا خیال اپنے ذہن میں لاتے ہیں..کسی بهی پهل دار درخت کا بیج.اس بهیج سے پازیٹویٹے کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں..بیج وہ ہے جو دنیا میں صرف اپنا نام چهوڑنے کے لیے ، صرف اپنی پہچان چهوڑنے کے لیے موسم کی تلخیاں برداشت کرتا ہے..ناجانے کتنی خزایں اس کی زندگی میں آتی ہیں..پر وہ ڈٹا رہتا ہے..زمین کا سینا چیرتے ہوءے اسکی مٹی تلے جا دبتا ہے اور پهر طویل انتظار کے بعد،کافی سختیاں برداشت کرنے کے بعد آخرکار وہ ایک پهل دار درخت کا روپ دهار لیتا ہے اور اپنے جیسے سینکڑوں بیج بنا دیتا ہے تاکہ اس کا نام رہے..کافی تلخیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں اسے کبهی ہوا کے طوفان کے روپ میں تو کبهی پانی کی قلت کے روپ میں مگر وہ ہم انسانوں کی طرح ہمت نہیں ہارتا،ڈٹا رہتا ہے اور ایک دن آتا ہے جب اسے اس کی کاوشوں کا پهل مل جاتا ہے اور سینکڑوں اپنے جیسے بهیج بنا دیتا ہے تاکہ خلق خدا اس سے فاءدہ اٹها سکے اور اس کا نام ابد تک دنیا میں رہ سکے..ساءنس کے مطابق درخت اپنے بیج کے گرد میٹها اور صحت مند پهل بناتا ہے تاکہ مختلف جانور اور انسان پهل کهانے کی غرض سے اس کے بیج کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاءیں اور یوں اس کی نسل مختلف علاقوں میں پهیل جاءے.درخت پر جب پهول لگتے ہیں تو ان کی خوشبو میں کشش ہوتی ہے جس سے حشرات ان پهولوں کی طرف کهنچے چلے آتے ہیں اور پهولوں کا رس نچوڑنے کے بعد وہ حشرات کسی اور جگہ جاتے ہیں تو ساته میں بیج کو بهی لے جاتے ہیں اور یوں دیکهتے ہی دیکهتے ایک معمولی سا بیج اپنے جیسے سینکڑوں بیج پیدا کرنے کے بعد پوری دنیا میں پهیل جاتا ہے اور خدا کی مخلوق اس سے کافی فاءدہ اٹهاتی ہے اور مخلوق کے لیے وہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے مخلوق کو اس کی قدر ہوتی ہے ہوتی ہے اور ایک دن اسی بیج کا چرچا مشرق سے مغرب تک ہوتا ہے.ڈاروین کی تهیوری ہے کہ “اس سخت دنیا میں صرف وہی چیزیں جیتی ہیں جو بہترین ہوتیں ہیں جو جینے کے قابل ہوتیں ہیں” ہاں وہ چیزیں جو گردش وقت کی ہواوں کے ساته نہیں بہتیں بلکہ ان کے سامنے ڈٹی رہتی ہیں اور ایک دن انہیں ہواوں کا رخ بدلنے کے قابل ہو جاتی ہیں.جب ایک بیج ناامید نہیں ہوتا وہ زندہ رہنے کے لیے ہر ممکن تگ و دو کرتا ہے کبهی ہار نہیں مانتا بہتر سے بہترین بننے کی سعی کرتا ہے تو ہم تو انسان ہیں، ہم تو اشراف المخلوقات ہیں ہم تو خدا کے دنیا میں ناءب ہیں پهر ہم کیسے ہار مان سکتے ہیں، پهر ہم کیسے نا امید ہو سکتیں ہیں،ہمارے حوصلے چٹانوں کی طرح مضبوط ہونے چاہیں،ہماری کوشیش دریا کی روانی کی طرح ہونی چاہیے اور ہماری عاجزی سمندر کی مانند ہونی چاہیے اور سب سے بڑه کر اللہ قادر مطلق کی ذات پر توکل… تبهی جا کر ہم صیح معنوں میں انسان کہلاءیں گے اور زندگی کی خوشیوں سے بہرہ ور ہو سکیں گے انشاءاللہ..
کیسے کہوں کہ تهک گیا ہوں میں
جانے کتنوں کا حوصلہ ہوں میں..!

اپنا تبصرہ بھیجیں