ہمارا دین :: تحریر : قاسم یوسفزٸی

جب انسان آسمانوں کی بلندیوں،وادیوں کی تنہاٸیوں،صحرا کی وسعتوں، سمندروں کی گہراٸیوں، جھاڑیوں کی وحشت اور غاروں کی پنہاٸیوں سے گھرا اٹھتا ہے تو اچانک ایک ہستی کے سہارے کو پکارنے لگتا ہے، اور وہ ہے۔ ”حداۓ ذوالجلال، حالق دو جہاں، رازقٍ جن و انس کی ہستی لازوال“۔
توحید اسلام کا پہلا عقیدہ ہے۔ گویا ایک مسلمان کا بنیادی فرض ہے کہ وہ خداوند قدوس کی واحدانیت پر ایمان لاۓ۔ توحید کا لغوی معنی خداۓ رحیم و کریم کو ایک ماننا ہے۔ ہمارا دین ہمیں اسی بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراٸیں۔ اسی خالق و مالک اور رازق کی عبادت کریں۔ اس سے حاجت رواٸی کیلٸے رجوع کریں۔ دین اسلام کے پیروکاروں کی زندگی میں اسکے فکر و عمل میں ایک نمایاں تبدیلی رونما ہوتی ہے، اسے عزت نفس میسر آتی ہے۔ ہمارا دین بڑا سہل ہیں۔ یہ انسان کو مشقت میں نہیں ڈالتا ، یہ اخوت و بھاٸی چارے اور مساوات کا درس دیتا ہے، یہ محبت سکھلاتا ہے، ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے اصلاح معاشرہ سکھلاتا ہے، غم و ہمدردی کا سبق سکھاتا ہے۔ ہمارا دین تقوی و پرہیز گاری کا دین ہیں۔ دوسرے مذاہب کے مقابلے میں ہمارے دین اسلام کی ایک امتیازی حیثیت مساوات ہے ۔ اسلام کی یہ امتیازی حیثیت اور ارفع حیثیت دنیا کو ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی کہ ہمارا دین مساوات کا علمبردار ہے اور نسلی ولسانی، گروہی یا طبقات سیاسی ومذہبی اور تمدنی وجعرافیاٸی، احتلافات اور امتیازات کو مٹا کر نسل انسانی کو اخوت وہمدردی عدل وانصاف ایثار وقربانی ایسے اوصاف حميدہ سے مزین کرنے میں مصروف کار ہے۔ مساوات انسانی کی بابت سورۃ الحجرات میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔
” اے لوگوں بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں حاندانوں اور قبیلوں میں تقسيم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، بے شک اللہ کے ہاں تم سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔“
یہی ہدایت جناب رسول اللہﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں فرمائی ۔
اے لوگوں بے شک تمہارا ”رب“ ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے تم سب”حضرت آدم علیہ سلام “ کی اولاد ہو اور ” آدم علیہ سلام“ مٹی سے پیدا ہوۓ ، تم میں سے اللہ کے ہاں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے، کسی عربی کو عجمی پر ، کسی گورے کو کالے پر سوائے تقوی کے کوٸی فضیلت نہیں “
گویا اسلام مساوات و برابری کاعملی مظاہرہ کرتا ہے اور تاریخ أسلام اس امر کی شاہد ہے کہ غیرمسلم اقوام نے مسلمانوں کا یہ کردار دیکھ کر نہ صرف جوق در جوق اسلام قبول کیا بلکہ اپنے ماضی کے تصورات اور معموملات پر کف ندامت بھی ملا۔ خدا کرے ہم دین وملت کے اتحاد اور انسانی مساوات کی ضرورت کے احساس کو دلوں میں اجاگر کریں اور تمام ترکبر وناز اور ہر قسم کے امتیاز کو نظرانداز کرکے ایک معاشرے کی تشکيل میں ممدو معاون ثابت ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں