لاہور:: پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں چند روز کے دوران تیزی سے اضافہ ہونے لگا، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 19 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 12227 تک پہنچ چکی ہے اور اب تک 256 افراد چل بسے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، ایک ہفتے کے دوران ہلاکتوں اور مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران 287مریض سامنے آئے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق چوبیس گھنٹوں کی بات کی جائے تو 19 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 6780 لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، اب تک ملک بھر میں ایک لاکھ 38 ہزار 147 کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
ملک بھر میں مریضوں کی بات کی جائے تو اس وقت مریضوں کی تعداد 12227 تک پہنچ چکی ہے، اس دوران 2755 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، جبکہ 9472 مریض تاحال زیر علاج ہیں۔
چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مریضوں کی بات جائے تو اس وقت پنجاب میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں پر 5046 مریض ہیں۔
دوسرے نمبر پر سندھ ہے جہاں پر مریضوں کی تعداد 4232 ہے، بلوچستان میں 656 ، خیبر پختونخوا میں 1708، اسلام آباد میں 223، آزاد کشمیر میں 55 اور گلگت بلتستان میں 307 مریض ہیں۔
ملک بھر میں جاں بحق افراد کی بات کی جائے تو خیبرپختونخوا میں ہلاکتیں سب سے زیادہ ہیں، جہاں پر 89افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، سندھ میں 78 افراد خالق حقیقی سے جا ملے، پنجاب میں 73افراد کورونا وائرس سے لڑتے لڑتے جانبرنہ ہو سکے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 3، بلوچستان میں 10، گلگت بلتستان میں تین افراد دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آزاد کشمیر میں 28 ، بلوچستان میں 176 ، گلگت بلتستان 213، اسلام آباد میں 29، خیبر پختونخوا میں 472، پنجاب میں 1065، سندھ میں 772 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹز کے مطابق کورونا وائرس کے سب سے زیادہ 22.19 فیصد کیسز لاہور میں ہیں، کراچی میں 13.97 فیصد اور پشاور میں 6.1 فیصد مریض ہیں۔
سکیورٹی کی بات کی جائے تو چاروں صوبائی دارالحکومت لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پاک فوج، پولیس اہلکار سمیت دیگر اہلکار اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
دریں اثناء خیبرپختونخوا میں پہلا ڈاکٹر کورونا کیخلاف زندگی کی جنگ ہار گیا، ڈاکٹر جاوید حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج تھے۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ای این ٹی پروفیسر ڈاکٹر جاوید میں چند ہفتے پہلے کورونا کی تشخیص ہوئی تھی، ڈاکٹر محمد جاوید کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔
مزید برآںرکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی، ایم این اے منیر خان حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج ہیں۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ منیر خان اورکزئی کی حالت خطرے سے باہر ہے، منیر اورکزئی کو آئی سی یو سے آئسولیشن وارڈ شفٹ کر دیا ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کامران بنگش کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔
وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن کے مطابق گزشتہ روز معاون خصوصی بلدیات کامران بنگش کی طبیعیت کی خرابی کی باعث ہسپتال گئے جہاں پر کورونا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا۔
ٹیسٹ خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں کرایا گیا، ٹسیٹ کے بعد کامران بنگش گھر میں کورنٹائن ہوگئے ہیں جبکہ ان کے خاندان کے مزید 11 افراد کے نمونے بھی تجزیئے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیئے گئے ہیں۔
اُدھر لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم سرور کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آ گیا
لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آ گیا، جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع کچہری لاہور میں فرائض سر انجام دے رہے تھے، جوڈیشل مجسٹریٹ کا ایک ہفتہ سے گلا خراب اور بخار تھا۔ 23اپریل کو کوروناٹیسٹ کیلئے خون کے نمونے لیے گئے جس کے بعد کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔
سیشن جج لاہور نے ضلع کچہری میں دو عدالتیں سیل کرنے کا حکم دیدیا، دونوں عدالتوں میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم سرور نے فرائض سر انجام دئیے۔
سیشن جج لاہور نے مزید 6 مجسٹریٹس کو ٹیسٹ کروانے کا حکم دیدیا، مجسٹریٹس خالد یعقوب، یوسف عبدالرحمن،عدیل انور، عامر بیٹیو اور امان اللہ کو ٹیسٹ کروانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، حتمی رپورٹ آنے تک مجسٹریٹس کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
دریں اثناء وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی ہیلتھ پروفیشنلز کورونا کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹرپیغا م میں کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز کورونا کیخلاف جنگ میں حکومت کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں، ڈاکٹرز کی رضاکارانہ رجسٹریشن کیلئے یاران وطن کے نام سے پلیٹ فارم بنا دیا ہے، اس سے بیرون ملک مقیم ڈاکٹرز بھی خدمات سر انجام دے سکتے ہیں۔

