0

چائے کی پیالی ::‌ تحریر: اسامہ خالد

یہ ٹیکنالوجی سے پہلے کے دور کی بات ہے، جب علم سکہءِ رائج الوقت تھا۔ علم سے مراد یونیورسٹی کی ڈگری نہیں ہوتی تھی۔ علم سے مراد ادب ہوا کرتا تھا۔
چین کے ایک نوجوان کو شوق ہوا کہ پوری دنیا کا علم حاصل کر لے۔ گاؤں سے نکلا اور علمائے وقت کی تلاش شروع کر دی۔ بستی بستی قریہ قریہ سفر کرتا۔ جہاں کسی عالم کے ہونے کی خبر ملتی، پہنچ جاتا۔ منطق، ریاضی،فلسفہ، شاعری، زبان، سُر، سنگیت، جہاں سے جو ملتا، لے لیتا۔
علم بڑھتا رہا، اور نئے اساتذہ کی تلاش مشکل ہوتی گئی۔ ایک دن معلوم پڑا کہ دریا پار ایک بابا جی ہیں، جو تنہا رہتے ہیں، کسی سے نہیں ملتے، وہ دنیا کے ہر علم کا راز جانتے ہیں۔ مگر کسی کو شاگرد نہیں کرتے۔ اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں۔ نوجوان دریا پار نئے اور مکمل استاد کی تلاش میں نکل پڑا۔بہت خوش تھا کہ اب علم کے لیے مارا مارا پھرنا نہیں پڑے گا، ایک ہی چشمہ مل جائے گا، جو مکمل سیراب کر دے گا۔
دریا پار جنگل تھا، جنگل میں درختوں کا تانتا، اور درختوں کے تانتے میں چھپی ہوئی ایک جھونپڑی۔ بلا کی سردی تھی۔ دہلیز پر پہنچا تو دست بستہ ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ اس زمانے میں اساتذہ کے گھروں پہ دستک یا آواز نہیں دی جاتی تھی۔ دہلیز پر پہنچ کر انتظار کیا جاتا تھا۔ استاد مکرم تشریف لے آئیں تو ٹھیک، ورنہ بساط کے مطابق انتظار اور پھر واپسی اختیار کی جاتی تھی۔ رات سردی میں ٹھٹھرتے گزری۔ صبح ہوئی تو جناب باہر تشریف لائے۔ نوجوان کو سردی کے عتاب میں دیکھا تو دور سے ہی آواز دی، کون ہو، اور یہاں کیوں آئے ہو؟
اِس ڈر سے کہ ٹھکرایا نہ جائے، نوجوان نے فوراً جواب دیا حضور میں علم کی تلاش میں بھٹک رہا تھا، ہر شہر ہر گاؤں کے اساتذہ سے فیض یاب ہوں، مگر پیاسا ہوں۔ریاضی، منطق، فلسفہ، زبان، شاعری، شمشیر زنی، یعنی بہت کچھ جانتا ہوں، مگر پیاسا ہوں۔ اگر آپ شاگرد کر لیں تو شاید تشفی ہو پائے۔ میں بس آپ کے قدموں میں پڑا آپ کی خدمت کرتا رہوں گا۔
بوڑھے آدمی نے کہا، فوراً اندر چلو، سردی سے مر جاؤ گے۔ اندر آؤ تو بات کرتے ہیں۔
یہ جھونپڑی میں داخل ہوا، اور سردی سے کانپتا ہوا ایک چادر پر بیٹھ گیا۔ بزرگ فوراً چائے اور دو پیالیاں لے آئے۔ پوچھا کب سے باہر کھڑے تھے؟ بولا، گزشتہ رات سے۔ بزرگ نے ایک پیالی تھمائی اور اس میں چائے انڈیلتے ہوئے استفسار کیا، کیا کیا علم رکھتے ہو؟ نوجوان نے ایک لمبی لسٹ شمار کرنا شروع کر دی۔ اِدھر یہ اپنے علوم کی فہرست بناتا گیا، اُدھر بزرگ چائے انڈیلتے رہے، یہاں تک کہ پیالی بھر گئی اور چائے باہر گرنے لگی۔ گرم چائے ہاتھ پر پڑنے سے پیالی چھوٹ گئی۔فوراً بولا، حضور یہ کیا کر دیا؟ بزرگ نے پوچھا کیا ہوا؟ بولا، آپ نے ہاتھ جلا دیا۔ پیالی سے چائے باہر گر رہی تھی اور آپ چائے ڈالتے ہی جا رہے تھے۔
بزرگ نے حیرت سے پوچھا، باہر؟ باہر کیوں گر رہی تھی؟ میں تو چائے پیالی کے اندر ڈال رہا تھا۔ نوجوان قدرے غصّے سے بولا، پیالی بھر جائے گی تو چائے باہر ہی گر ے گی!
بزرگ مسکرائے، کیتلی ایک طرف رکھ کر مرہم لائے اور نوجوان کے ہاتھ پر مرہم لگانے لگے۔ کمال مہارت سے مرہم لگاتے ہوئے بولے، پتر، بھری پیالی میں کتنی ہی مہارت کے ساتھ چائے ڈالی جائے، چائے باہر ہی گرتی ہے۔ یہ پیالی تیرا ذہن ہے جسے تو نے معلومات سے بھر رکھا ہے۔ جا پتر، پہلے اسے خالی کر کے آ، پھر تُو اس قابل ہو سکے گا کہ کچھ نیا سیکھ سکے۔ جب تک تیرا دیہان اس بات کی طرف رہے گا کہ تو کیا کچھ سیکھ چکا ہے، تو کتنا قابل ہے، تو کسی سے بھی کچھ بھی نیا نہیں سیکھ پائے گا۔ جس دن تیری پیالی خالی ہو گئی، تجھے میری ضرورت نہیں رہے گی۔ پھر تو موچی سے، جولاہے سے، لوہار سے، ہر کسی سے کچھ نہ کچھ سیکھنے لگے گا، اور تیری تسکین ہو جائے گی۔
نوجوان کی حیرانی چھوڑیے، ہماری حیرانی کا اندازہ کیجیے جب یونیورسٹی کے پہلے دن، فزکس کے پروفیسر صاحب نے اپنا تعارف کروانے کے بجائے کرسی پر بیٹھ کر ہمیں یہ کہانی سنائی۔ہم حیران رہ گئے کہ ساری عمر جو مولا علی ؑ کا قول سنتے آئے تھے، آدھا علم ہے یہ کہنے میں کہ میں نہیں جانتا، اُس کا مطلب یہ تھا۔پروفیسر صاحب ہماری حیرانی بھانپ گئے، کرسی سے اُٹھے، ڈائس کی طرف بڑھے، ڈائس کے ساتھ کہنی ٹکا کر کھڑے ہو کر گویا ہوئے کہ بیٹا، یہ چائے کی پیالی کا بھرا ہونا ہی ہماری ترقی کی اصل رکاوٹ ہے۔ جب تک آپ اپنی پیالی خالی نہیں کرتے، کلاس میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں ذرا سی بھی چائے انڈیلوں گا، باہر آپ کے ہاتھ پر گرے گی، اور آپ چیخ اٹھیں گے۔ دنیا نے اپنی پیالی بھرے رکھی، گلیلیو کہتا رہا، زمیں گھومتی ہے، کوئی نہ مانا۔ جب تک پیالی خالی نہ ہوئی، ہم نے ترقی نہیں کی۔ آپ بھی اپنی پیالیاں مکمل نہ سہی، کسی قدر خالی کر کے بیٹھیے، کیونکہ جو کچھ آپ آج تک پڑھ کر آئے ہیں، میں اُس سب کو چیلنج کرنے والا ہوں، اور یہ فزکس ہے۔
فزکس کی ایک چھوٹی سی گتھی سمجھاتے سمجھاتے پروفیسر صاحب نے زندگی کی بڑی گتھیاں سلجھا دیں۔ حکمرانوں کو ہی دیکھ لیجیے۔28سال گزر گئے، ورلڈکپ آج بھی چائے سے بھرا پڑا ہے، خالی ہونے کا نام ہی نہیں لیتا، لہٰذا حکمران کچھ بھی نیا سیکھنے کو تیار نہیں۔ ہر مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور ہر برائے نام جمہوری حکمران کے ساتھ ہمیشہ یہی مسئلہ رہا ہے، اُن کے کپ بھرے ہوئے تھے، سو جب کوئی بھی اپنی کیتلی میں سے کچھ چائے انہیں پیش کرتا، چائے باہر گرتی، ہاتھ جلتا، اور سول ملٹری تعلقات خراب رہتے۔
ہم عام زندگی میں بھی اپنے کپ کو خالی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ ہمیں بھری پیالیوں پر فخر رہتا ہے، سو پیالی کو اپنی انا سے بھر کر رکھتے ہیں۔ کوئی نئی سوچ سیکھنا ہمیں پسند نہیں ہے۔ اور اگر کوئی اپنی رائے کا اظہار کر دے، اور کوشش کرے کہ ہم میں کچھ بہتری آ جائے، گرم چائے ہمارے ہاتھ پر گرتی ہے، اور جی چاہتا ہے بولنے والے کہ منہ پر ابلتی ہوئی چائے سے بھری ہوئی پیالی دے ماری جائے۔
جانے سے پہلے پروفیسر صاحب بولے، بیٹا، کیا کبھی کسی نے آپ کے سامنے کرسی کو پکار کر ٹھیک ہونے کے لیے کہا؟ ہم، جو پروفیسر صاحب کی فلسفیانہ باتوں میں مبہوت تھے، ہم نے عرض کی، نہیں سر۔ پروفیسر صاحب مسکرا کر بولے، بیٹا، کوئی کرسی کو ٹھیک ہو کر بیٹھنے کا اِس لیے نہیں کہتا کہ سب جانتے ہیں، کرسی جیسے پڑی ہے، ویسے ہی پڑی رہے گی، ہل نہیں سکتی۔ آپ کو آپ کی غلطیاں بتائی جائیں تو یہ مت سمجھیے گا کہ آپ کی ذات میں خامی اور اپنی ذات کی بڑائی بیان کی جا رہی ہے۔ دراصل یہ اِس بات کا اشارہ ہے کہ آپ سے بہتر کی توقع اور بہترین کی امید ہے۔ اللہ نگہبان کہہ کر پروفیسر صاحب تو چلے گئے، مگر ہمیں ششدر چھوڑ گئے کہ ہم تو ہمیشہ غلطی بتانے والے کا گریبان پکڑتے رہے ہیں۔ آج سمجھ میں آیا کہ مولا علی ؓ نے یہ کیوں فرمایا تھا کہ دوست وہی ہے جو منہ پر خامیاں بتائے۔ باب العلم کا کوئی بھی جملہ علم و عرفان کی منازل سے کم نہیں۔ کاش کہ ہمارے حکمران، ہمارے والدین، ہمارے اساتذہ، اور بالخصوص ہمارے طلباء اپنی چائے کی پیالی کو خالی رکھنے کا فن سیکھ جائیں، تا کہ ہمیشہ نئی چائے کی جگہ موجود ہو، اور ہم بحیثیت قوم اپنے اسلاف کی کھوئی ہوئی میراث تلاش کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “چائے کی پیالی ::‌ تحریر: اسامہ خالد

  1. کسی بھی چیز کا زیادہ ہونے کا غرور چائے کی پیالی بھر جانے کے ہمپلہ ہے

  2. Ma Shaa Allah very well explained
    Yeh jadeed daur ki aisi zarurat hai jis ki dobara wapsi azmat e rafta ko bhi wapis la sakti hai
    Jeetay rahain Osama Khalid Sahib

  3. بہت عمدہ سبق حاصل ہوا. یہ سبق تو ہم اپنے بہت ہی قابلِ عزت استاد سے بہت پہلے ہی سیکھ چکےہیں اور خوشی کی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے یہ سبق آموز تحریر لکھی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں